ڈومور مطالبے کے سیاسی محرکات ۔۔!

09:19 AM, 24 Nov, 2025

یورپی یونین کے جی ایس پی پلس سٹیٹس کے حوالے سے پاکستان پر حالیہ تنقید اور مطالبات ایک بار پھر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی سیاست میں انسانی حقوق کا بیانیہ اکثر اصولوں سے زیادہ طاقت اور مفادات کے تابع ہوتا ہے۔ یورپی یونین کے سفیر ریمونڈس کاروبلس نے اپنے تازہ انٹرویو میں پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا تھا حالانکہ گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان نے جامع اصلاحات کی ہیں اور ایک ذمہ دارانہ ریاست کا کردار نبھایا ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری میں ایسے ٹھوس اقدامات کیے جن کی مثال علاقائی سطح پر کم ہی ملتی ہے۔ پاکستان نے جی ایس پی پلس کے لیے مطلوب کنونشنز پر عملدرآمد کرتے ہوئے انسانی حقوق، صحافیوں کے تحفظ، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام، صنفی شمولیت اور انصاف تک رسائی جیسے شعبوں میں قابلِ ذکر اصلاحات کیں۔ صحافیوں کے تحفظ کا قانون ہو یا اینٹی ریپ ایکٹ، گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی ہو یا خواجہ سراؤں کے حقوق کا تحفظ ، پاکستان نے وہ قانونی ڈھانچہ مضبوط کیا جسے عالمی ادارے برسوں سے ناگزیر قرار دیتے آئے ہیں۔ نیشنل کمیشن آن ہیومن رائٹس کی فعالیت اس بات کا ثبوت ہے کہ قوانین پر سختی سے عمل کر رہا ہے ۔ مغربی دنیا میں بیٹھے چند مخصوص حلقے حقوقِ انسانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ ترقی پذیر ممالک کو بار بار کٹہرے میں کھڑا رکھا جا سکے اور انہیں مسلسل دفاعی پوزیشن میں دھکیلا جا سکے بظاہر یہ عمل دانستہ ہوتا ہے۔ یہ رویہ اصولوں پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے اکثر سیاسی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان مخالف مہم چلی اس میں بھارتی لابی کا بھی کردار رہا ہے اور اب بھی یہ بھارت نواز لابی پاکستان کیخلاف کوئی بھی سازش کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔
بدقسمتی سے یہ بیانیہ اکثر دہشت گرد نیٹ ورکس کے مفادات سے جڑا ہوتا ہے جو عالمی پلیٹ فارمز پر حقوق کی زبان استعمال کرتے ہوئے خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ کئی دہشت گرد گروہ فرنٹ تنظیمیں بنا کر انسانی حقوق کے کارکنوں یا این جی اوز کا روپ دھار لیتے ہیں تاکہ اپنی اصل سرگرمیوں کو چھپا سکیں اور ریاستی کارروائیوں کو محدود کر سکیں۔ اس حکمتِ عملی نے پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک چیلنج پیدا کر دیا ہے جہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پہلے ہی وسائل اور اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ اسی ضمن میں کچھ نام نہایت نمایاں ہیں جنہیں مغربی میڈیا حد سے زیادہ جگہ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر مہرنگ بلوچ کو حقوقِ انسانی کی علمبردار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر وہ کبھی بلوچ دہشت گرد تنظیموں، مثلاً بی ایل اے اور بی ایل ایف کی بربریت پر آواز نہیں اٹھاتیں۔ ان گروہوں کے ہاتھ معصوم شہریوں، مزدوروں، اساتذہ اور ریاستی اہلکاروں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، مگر عالمی ادارے اس پہلو کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف یک طرفہ الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ اسی طرح میر یار بلوچ اور دیگر ایسے افراد کو پلیٹ فارمز فراہم کیے جاتے ہیں۔ یورپی ممالک میں پناہ لینے والے کئی افراد کے بارے میں شواہد موجود ہیں کہ انہیں دشمن انٹیلی جنس ایجنسیاں خاموشی سے مدد فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ پاکستان کے خلاف ایک مخصوص بیانیہ مسلسل زندہ رکھ سکیں۔ پھر مغربی میڈیا میں پاکستان کے بارے میں جس انداز سے رپورٹس شائع کی جاتی ہیں، وہ بھی سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ دی ڈپلومیٹ نے مارچ سے مئی 2025 کے دوران بلوچستان پر 25 سے زائد مضامین شائع کیے جو نہ صرف یک طرفہ تھے بلکہ ان میں زمینی حقائق کو دانستہ نظرانداز کیا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طاقتور لابیاں ایک منظم مہم کے تحت پاکستان کے تاثر کو بگاڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن یہی حلقے بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر خاموش رہتے ہیں، حالانکہ عالمی اداروں کی رپورٹس بھارت میں بڑھتی ہوئی ہولناک صورتحال کا بارہا ذکر کر چکی ہیں۔
اگر مغرب واقعی انسانی حقوق کے تحفظ میں سنجیدہ ہوتا تو اسے 2019 سے 2023 تک شائع ہونے والی ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا، جن میں اسلاموفوبیا، نسلی تعصب، پولیس گردی، اظہارِ رائے کی پابندی اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی تفصیل موجود ہے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی سے لے کر امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کے خلاف پولیس تشدد تک، ہر جگہ انسانیت سسک رہی ہے لیکن ان معاملات پر عالمی ضمیر اتنا حساس نہیں ہوتا جتنا پاکستان جیسے ممالک کے معاملے میں ہو جاتا ہے۔
بھارت میں اقلیتوں پر ظلم کی صورتحال تو اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، جس کے شواہد خود مغربی ممالک کے اپنے کمیشنز اور رپورٹس میں موجود ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی 2025 کی رپورٹ میں بھارت میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی جبر، سیکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے بلاک کیے جانے اور حراستی اموات کے خوفناک اعداد و شمار شامل ہیں۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بھارت کو صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ممالک میں شامل کیا ہے، جہاں سنسرشپ، ڈرانے دھمکانے اور ریاستی دباؤ معمول کی بات ہے مگر اس سب کے باوجود مغرب بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی مفادات کو فوقیت دیتا ہے اور انسانی حقوق کے نام پر کوئی اصولی موقف اختیار نہیں کرتا۔
یہی دوہرا معیار اصل مسئلہ ہے۔ پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور دیکھیں کہ ان کے اپنے معاشروں میں کیا کچھ بگڑ چکا ہے۔ انسانی حقوق کا بیانیہ اگر صرف سیاسی دباؤ کا آلہ بنا دیا جائے تو پھر انصاف، مساوات اور آزادی جیسے اصول بے معنی ہو جاتے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا، قانونی اصلاحات کیں، جمہوری اداروں کو مضبوط کیا اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے۔ اسے اب بین الاقوامی فورمز پر اپنی کہانی زیادہ مضبوطی سے پیش کرنا ہو گی تاکہ یک طرفہ پروپیگنڈاپاکستان کے موقف کو کمزور نہ کر سکے۔ دنیا کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ انسانی حقوق کا استعمال دباؤ ڈالنے کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کے تحفظ کیلئے ہونا چاہیے اور یہ اصول سب پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے، نہ کہ صرف پاکستان جیسے ممالک پر۔ بدقسمتی سے کئی سال سے ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آ رہا اور یہ عالمی لابنگ پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔

مزیدخبریں