تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان فتنہ الہندوستان کے جال میں

09:18 AM, 24 Nov, 2025

بلوچستان میںفتنہ الہندوستان کی پروردہ کالعدم تنظیمیں پہلے بیرونی فنڈنگ کے ذریعے ان پڑھ اور غریب افراد کوچند پیسوں کا لالچ دے کر ان کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ان کا طریقہ کار زیادہ منظم، خاموش اور خطرناک ہوچکا ہے۔ آج یہ بھارتی پراکسی نیٹ ورک بندوق یا بم سے زیادہ ایک اور ہتھیار استعمال کر رہا ہے ۔ریاستی ناانصافیوں کی جھوٹی کہانیوں اور محرومیوں کے من گھڑت بیانیے پر مبنی لٹریچر اور کتابوں کے ذریعے تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان نسل ،جن میں خواتین بھی شامل ہیں، کو ریاست کے خلاف گمراہ کرکے بغاوت پر اکسایا جارہا ہے ۔تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی معاشرے کی امید ،اس کی ترقی وخوشحالی کی ضمانت ہوتے ہیں۔اس لیے ان کالعدم تنظیموں نے اسی باشعور طبقے کو اپنی سازش کا ہدف بنا لیا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی گمراہی ان کے مذموم عزائم کی جیت ہے۔ اس مقصد کے لیے بلوچستان میں بی ایل اے،بی ایل ایف ،بی این اے اور بی آر پی جیسی دیگر بھارتی سپانسرڈ کالعدم تنظیمیں ،بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) بلوچ وویمن فورم (بی ڈبلیو ایف) اور ’’پانک‘‘ جیسی دیگر اپنی پراکسیز کو بھاری فنڈ فراہم کرتی ہیں ،جوپھر اپنے تربیت یافتہ کارندوں کو کالجز اور یونیورسٹیوں میں بھیج کر انہیں ایسی کتب فراہم کرتے ہیں جو بظاہر انقلابی، فکری یا تاریخی دکھائی دیتی ہیں مگر درحقیقت ان میں نفرت، تشدد، بغاوت اور ریاست دشمنی کو نظریاتی بنیادیں فراہم کی گئی ہوتی ہیں۔اس کا واضح ثبوت کا لعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا نشریاتی ادارہ ’’ہکل پبلی کیشنز‘‘ کی مندرجہ ذیل کتب ہیں، جن میں فتح سکواڈ، ہیل کاری، ڈیجیٹل سٹوری، خفیہ سیل، گوریلا، چیدہ، فرائی دی برین، شاری، جدید مہارتیں، سنائپر ہیل کاری شامل ہیں۔ ان کتب کے اندر ریاست کے خلاف زہر افشانی کی گئی اور دہشت گردی کو آزادی اور حقوق کی جنگ قرار دیکر اس کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ یہ کتب تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوںکے ذہن میں سب سے پہلے ریاست اور اداروں کے خلاف عدم اعتماد پیدا کرتی ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے انہیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ کسی مظلوم قوم کا حصہ ہیں جنہیں صرف ہتھیار اٹھا کر ہی انصاف مل سکتا ہے۔ ان کتب میں واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش خصوصاً بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے حقائق کو مسخ کیا گیا ہے اور ’’دہشت گردی‘‘ کو جدوجہد کا رنگ دیا گیا ہے۔ نوجوان جسے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل، جج، صحافی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں قوم و ملک کا نام روشن کرنا تھا، اسے ایسے لٹریچرکے ذریعے دہشت گردی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس کا واضح ثبوت گمراہی کا شکار ہو کر اپنی ہی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے، اپنوں کا خون بہانے والے زیادہ تر دہشت گردوں اور خود کش بمبار کا تعلیم یافتہ ہونا ہے۔ چند مثالیں: سہیل ولد عبدالحمید، پنجگور کے علاقے خدابان کا رہائشی اورگریجویٹ تھا، لیکن بدقسمتی سے دہشت گرد تنظیموں کے جال میں پھنس گیا اور 2022ء کو بی ایل اے (مجید بریگیڈ) کے ایک خود کش حملے اپنی جان گنوا کراپنی دنیا وآخرت تباہ کر بیٹھا۔ ماہل بلوچ ولد کہدہ حمید، گوادر کے علاقے سربندر کی رہائشی اور تربت لاء کالج میں آٹھویں سمسٹر کی طالبہ تھی، کو بی ایل اے نے گمراہ کر کے اپنے ساتھ شامل کیا، جو 2022ء کو (مجید بریگیڈ) کے ایک خود کش حملے میں اپنی جان گنوا بیٹھی۔ شاہ فہد بادینی ولد میر فضل خان بادینی، نوشکی کے علاقے کلی بادینی کا رہائشی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تھا جس نے لسبیلہ یونیورسٹی سے بی بی اے مکمل کیا تھا، بھارتی سپانسرڈ کالعدم تنظیم بی ایل اے نے شاہ فہد کے سامنے دہشت گردی کو قومیت اور آزادی کی جنگ بنا کر گمراہ کیا، یہاں تک کہ وہ اپنوں کے خون بہانے کو جہاد  سمجھنے لگا اور 2021ء میں (مجید بریگیڈ) کے ایک خود کش حملے میں جہنم کا ایندھن بن گیا۔ شاری بلوچ 3 جنوری 1971 میں تربت میں ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئی، شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی میں ایم فل مکمل کیا، وہ شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں تھی۔ اپنے شوہر حبیطان بلوچ، جو کہ بی ایل اے کا اہم رکن تھا کے ذریعے بی ایل اے (مجید بریگیڈ) کے جال میں پھنس کر، اپریل 2022ء میں کراچی میں یونیورسٹی کے گیٹ پر خود کش دھماکے میں مر کر اپنی دنیا و آخرت گنوا بیٹھی۔ سمیعہ قلندرانی ایک تعلیم یافتہ خاتون اور شعبہ صحافت سے منسلک تھی، بی ایل اے کے جال میں پھنس کر 2018 میں دالبندین کے قریب ایک خود کش حملے میں ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بن گئی۔ 27 سالہ یاسر بلوچ زہری ولد لال جان زہری، خضدار کے علاقے مولہ کا رہائشی تھا اور ایک مکینیکل انجینئرتھا، بلوچ لبریشن آرمی کے فریب میں پھنس کر 2018ء میں ایک حملے میں اپنی جان گنوا بیٹھا۔ فتنہ الہندوستان کی پراکسیز کا ایک اور حربہ یہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور آن لائن لائبریریوں کے ذریعے ان کتابوں کو پُرکشش انداز میں پھیلاتی ہیں۔ اس کے لیے جعلی آئی ڈی، بیرون ملک بیٹھے سہولت کار اور مخصوص آن لائن گروپس استعمال کیے جاتے ہیں جہاں نوجوانوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ ’’حقیقت‘‘ اور ’’حق آزادی‘‘ کی اصل داستانیں ہیں۔ یوں وہ طالب علم جو کبھی یونیورسٹی میں صرف پڑھائی اور مستقبل کے خوابوں میں مگن تھا، آہستہ آہستہ ذہنی انتشار کا شکار ہو کر شدت پسند بیانیے کے قریب آ جاتا ہے۔ فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیموں کا مقصد کبھی بلوچ نوجوان کی ترقی نہیں رہا۔ اگر ان کے ایجنڈے میں واقعی بلوچ عوام کی فلاح ہوتی تو وہ تعلیم، روزگار، صحت، انفراسٹرکچر  جیسے شعبوں پر حملے نہ کرتے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ نوجوان کو جتنا زیادہ جذباتی بنائیں گے، اپنی کارروائیوں کے لیے اتنا ہی آسان ہدف حاصل کر لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تشدد پر مبنی کتب ان کے لیے بارود یا اسلحے سے بھی زیادہ کارآمد ثابت ہو رہی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ اور سماجی تنظیمیں اس حقیقت کو سمجھیں کہ کالعدم تنظیموں کا سب سے بڑا محاذ اب نوجوانوں کے ذہن ہیں۔ طلبہ کو حقائق پر مبنی لٹریچر اور کتب فراہم کی جائیں جن سے وہ مسئلہ بلوچستان کی حقیقت کو سمجھ سکیں۔ 

مزیدخبریں