جب گداگری آئینہ بن جائے

09:19 AM, 24 Nov, 2025

شہر کے ہنگاموں میں ایک ایسا سناٹا بھی پوشیدہ ہے جسے ہم اپنی جلدی، مصروفیت اور بے نیازی میں سن نہیں پاتے ہیں۔ دھوپ سے تپتی سڑکوں پر جلتے ہوئے، ٹریفک کے بے ہنگم شور میں کھوئے ہوئے ہم روزانہ ان لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں جن کی آنکھوں میں تو کئی سوال ہوتے ہیں مگر ان کی زبان خاموش ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی کی اس دوڑ میں ہمارے ساتھ سفر نہیں کر رہے بلکہ ہمارے اردگرد ہی ایک الگ مگر ان دیکھی دنیا میں جی رہے ہیں۔ ان معصوم اور قابلِ رحم چہروں کے پیچھے غربت نہیں بلکہ ایک پورا نظام چھپا ہوتا ہے۔ ایک ایسا نظام جو انسان کی کمزوری، جذبات اور ہمدردی کو اپنے منافع میں بدل دیتا ہے۔ گداگری اگر صرف بھوک کی کہانی ہوتی تو شاید اتنی سنگین بات کبھی نہ ہوتی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ کہانی اب فقر کی نہیں رہی بلکہ ایک پوری منظم، مکروہ اور کاریگروں کی طرح چلنے والی سماجی صنعت بن چکی ہے۔ ایک ایسا کاروبار جس کے تاجروں کے پاس دکانیں ہیں اور نہ ہی رجسٹریشن لیکن ان کے ورکرز ہرچوراہے، سگنل اور بازار میں موجود ہیں۔ گداگری کے اس کاروبار کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ لوگوں کی بے بسی کو سرمایہ بنا کر بیچتی ہے اور انسان کی ہمدردی، رحمدلی، نرمی اور اچھائی کو ایک منافع بخش تجارت میں بدل دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا کاروبار ہے جس کے اپنے ٹھیکے ہیں، اپنے علاقے، نگران اور یہاں تک کہ اپنی پالیسی بھی ہوتی ہے۔ آج یہ آمدن کا ایسا ذریعہ ہے جس کی رفتار ایک عام مزدور کی دیہاڑی سے بھی زیادہ ہے اور اس میں ذمہ داری، جوابدہی اور اخلاق تینوں صفر ہیں۔ جب سڑک کنارے کوئی معصوم بچہ گاڑی کی کھڑکی پر دستک دیتا ہے تو یہ صرف ایک مجبور ہاتھ نہیں بلکہ ایک مکمل مافیا کا سایہ ہوتا ہے۔ وہ بچے جو تعلیمی اداروں میں ہونے چاہیے تھے، جن کے ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہونی چاہیے تھیں، جنہیں کھیل کے میدانوں میں مسکرانا چاہیے تھا، جن کی آنکھوں میں مستقبل کے سنہرے خواب ہونے چاہیے تھے وہ تپتی سڑکوں پر ٹریفک کے دھوئیں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ آج تک اس حقیقت سے ہی بے خبر ہیں کہ ہاتھ پھیلانے کے علاوہ بھی زندگی گزارنے کا کوئی راستہ ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سارے نظام کے پیچھے آخر کون لوگ ہیں؟ وہ لوگ جو خواتین کو مخصوص سپاٹ دیتے ہیں، وہ گروہ جو بچوں کو پک اینڈ ڈراپ دیتے ہیں، جو رات ہونے پردن بھر کی ساری کمائی وصول کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ ریاست اس مسئلے کو جانتی ہے مگر یہ مسئلہ اتنا آسان نہیںہے کہ پولیس کی کارروائی سے ختم ہو جائے۔ گداگری اب صرف ایک جرم یا پھر معاشرتی بیماری نہیں رہی بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا سب سے خفیہ اور شوریدہ سوال بن چکی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہمیں سماجی شعور کی اہمیت سمجھنے کی بے حد ضرورت ہے۔ مدد کرنا اور کسی جرم کو مضبوطی فراہم کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ سڑکوں پر پھیلا ہوا یہ سارا نظام ہمارے اخلاقی بکھرائو کا نوحہ ہے۔ غریب کی مدد ضرور کریں مگر گداگری کے منظم کاروبار کو پیسے دے کر نہیں۔ ہمیں اصل ضرورت مند تک پہنچنے کے لیے اپنے طریقہ کار کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اس سلسلے میں سخت اقدامات کیے ہیں گداگری مافیا کے خلاف مہم، ہیلپ لائنز، بچائو کیلئے شیلٹرز سب کچھ ہی اہم ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ریاست قانون کے سہارے لڑ سکتی ہے مگر اس جنگ کو عام شہری کے کردار کے بغیر جیت نہیں سکتی ہے۔ اصل مدد یہ نہیں ہے کہ ہم روڈ پر کھڑے کسی بچے کی ہتھیلی پر پیسے رکھ دیں بلکہ اصل مدد یہ ہے کہ ہم اس بچے کے پیچھے چھپے ہاتھوں کو کمزور کریں، صدقہ صرف مستحق لوگوں کو دیں، خیرات تصدیق شدہ اداروں کو دیں، ہمدردی کو عقل سے جوڑیں اور ان تنظیموں کو مضبوط کریں جو ایسے بچوںکو سڑک سے اٹھا کر سکول تک پہنچانے کا کام کرتی ہیں۔ ہماری سڑکوں پر تو روز شام اترتی ہے مگر اس نظام پر کبھی اندھیرا نہیں ہوتا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم خود اسے روشن رکھتے ہیں۔ اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ گداگری کی اجازت ہم انہیں خود دیتے ہیں۔ ہر ہاتھ میں رکھے جانے والے پیسے اس کاروبار میں نئی جان ڈال دیتے ہیں۔ ہر ترس بھری نظر، ہر مسکراہٹ اور خاموشی اس مافیا کیلئے ایندھن بن جاتی ہے۔ گداگری کے اس مکروہ کاروبار کا خاتمہ ریاستی ایکشن کے ساتھ ساتھ سماجی رویے کی تبدیلی سے نکلے گا۔ فرق تب ہی پیدا ہو گا جب ہمارا معاشرہ خود کہے گا کہ غربت قابلِ رحم ہے مگر گداگری ایک کاروبار ہے۔ یہ صرف ہاتھ پھیلانے یا پھر ہمدردی کے کھیل تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ہماری خاموشی، سہولت پسندی اور معاشرتی شعور کی عکاسی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جو ہم نے اپنے معاشرتی ڈھانچے میں پیدا ہونے دیا۔ اصل خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ریاست اور معاشرہ مل کر اپنی ذمہ داری کو چھوڑ دیتے ہیں اور پھر یہ خالی جگہ ایسے نظام بھر لیتے ہیں جو انسانیت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گداگری کا خاتمہ صرف جرم روکنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی وقار کی بحالی کا سفر ہے۔ جس معاشرے میں محنت کمزور پڑ جائے اور آسان راستے مضبوط ہو جائیں وہاں سڑکیں گداگروں سے بھر جاتی ہیں اور دل ذمہ داریوں سے خالی ہو جاتے ہیں۔ معاشرے اس دن بہتر ہوتے ہیں جب وہ اپنے اندر موجود برائیوں کو چھپانے کے بجائے ان کی جڑ کو پہچاننا شروع کر دیتے ہیں۔ مہذب قومیں اپنے کمزوروں کو سڑکوں پر نہیں چھوڑتیں بلکہ وہ اس کے لیے مضبوط نظام بناتی ہیں۔ تبدیلی کی شروعات ہمیشہ چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے ہی ہوتی ہے آج ہمارا چھوٹا سا انکار ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے یا تو ہم خاموشی سے اس مکروہ کاروبار کو مزید پھیلنے دیں یا پھر اپنے ترس کو شعور میں بدلنے کے ساتھ اپنے معاشی ضمیر کو واپس حاصل کریں۔ اس کے بعد ہی گداگری کے اس منظم کاروبار کی دیواریں ٹوٹیں گی اور ہمارے شہروں کی سڑکیں واپس انسانیت کی روشنی سے جگمگائیں گی۔

مزیدخبریں