تیسرا سیز فائر

09:18 AM, 24 Nov, 2025

آج سے چند روز قبل دو امریکی دو دھاری تلواریں لیے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے، دونوں ایک دوسرے کو للکار رہے تھے، دھمکا رہے تھے۔ ایک نے کہا تم فاشسٹ ہو، دوسرے نے کہا تم انتہا پسند ہو، تخریب کار ہو۔ ایک نے دھمکی دی ہو سکتا ہے میں نیویارک کے فنڈز میں کمی کر دوں۔ دوسرے نے جواب دیا تم کبھی ایسا نہ کر سکو گے۔ بظاہر لگتا تھا یہ جنگ جس انداز میں شروع ہوئی ہے آئندہ چار برس تک جاری رہے گی کیونکہ دونوں شخصیات کا تعلق ایک دوسرے کی مخالف سیاسی جماعتوں سے ہے لیکن اچانک کیا ہوا دونوں نے اپنی اپنی تلواریں نیام میں ڈال لیں، ایک نے دوسرے کو ملاقات کی دعوت دی دوسرے نے بھی پہاڑ پر چڑھنے کی بجائے اس دعوت کو قبول کیا، پھر یہ دونوں شخصیات اوول آفس میں نظر آئیں۔ میزبان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھے، مہمان نیویارک کے میئر ممدانی تھے۔ دونوں میڈیا کے سامنے آئے تو سب حیران تھے۔ سوال و جواب کے سیشن نے سب کی حیرت میں اضافہ کر دیا۔ امریکی میڈیا نمائندوں کا خیال تھا کہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر دونوں ایک دوسرے کے لتے لیں گے یہ دیکھنے کے لیے ایک جہاں وہاں پہنچا لیکن تماشا نہ ہوا۔ میڈیا ٹاک میں ٹرمپ ٹیم کی ہلکی سی شرارت واضح طور پر نظر آئی، صرف ہمارے یہاں نہیں تمام دنیا میں ایسے موقعوں پر پرچی بردار صحافی موجود ہوتے ہیں جو صاحب اقتدار کی سہولت کے لیے ان کے مخالف سے سخت سوال پوچھتے ہیں۔ میئر نیویارک سے سوال پوچھا گیا، آپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو فاشسٹ کہا تھا، اس موقع پر ممدانی ایک لمحے کے لیے جزبز ہوئے تو ٹرمپ نے فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا، پریشان ہونے اور وضاحت دینے کی ضرورت نہیں، ممدانی کہہ دو ہاں میں نے کہا تھا۔ اس جواب پر سب نے ایک بلند قہقہہ لگایا جس کے بعد ٹرمپ نے ممدانی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سخت حالات اور سخت مقابلے کے بعد انتخاب جیتا ہے۔ میں ممدانی کی صلاحیتوں کا قائل ہوا ہوں۔ ممدانی میں اور مجھ میں کچھ قدریں کچھ صلاحیتیں مشترک ہیں زہران ممدانی نے بھی اس موقع پر ایسے خیالات کا اظہار کیا جن کی ان سے توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ ممدانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم مل کر امریکی عوام کی خدمت جاری رکھیں گے اور دیکھیں گے کہ انہیں مہنگائی اور بے روزگاری سے کیسے ریلیف پہنچا سکتے ہیں۔ ٹرمپ ممدانی ملاقات کا انجام خوشگوار تھا، اس ملاقات کے بعد دونوں بھائی بھائی بن گئے دونوں نے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا کسی نے ممدانی کا حلف روکنے کی کوشش نہیں کی، ان کا حلف لینے والا اچانک بیمار ہو کر چھٹی پر نہ گیا، یوں ہمیں جمہوریت کا وہ حسن دیکھنے کو ملا جسے تلاش کرتے کرتے عمر بیت گئی۔ مگر وہ پاکستان کے کسی کونے میں نہ ملا۔ ہم نے ووٹ کو وہ عزت ملتے بھی دیکھی جس کے متلاشی جناب نواز شریف رہے بالآخر انہوں نے اپنی جماعت کے زمانہ اقتدار میں ووٹ کی عزت ہوتے دیکھ لی۔ امریکی جمہوریت کے حسن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے پن کے مظاہرے کے پیچھے بہت کچھ اور بھی ہے۔ انسان اور اس کی اہمیت ہے، اس کی سوچ پر پابندی نہیں لگائی جاتی نہ ہی اسے اغوا کیا جاتا ہے نہ سوچ بدلنے پر بذریعہ تشدد مجبور کیا جاتا ہے۔ اہم ترین بات جس نے ٹرمپ ممدانی کی اس جنگ کو ختم کیا وہ آئندہ برس ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات ہیں۔ نیویارک سیاسی اعتبار سے اہم شہر ہے اسی طرح نیو جرسی بھی، دونوں شہروں میں ٹرمپ کے امیدواروں کو شکست ہوئی ہے اب اپنے مخالف ووٹرز کا دل جیتنے کا ایک ہی طریقہ تھا وہ یہ کہ انہیں زیادہ سے زیادہ سہولتیں بہم پہنچائی جائیں نہ کہ ان کے فنڈ روکے جائیں۔ یہ سیز فائر دونوں لیڈروں کے ویژن کا ایک ثبوت ہے۔ اب چلتے ہیں دوسرے سیز فائر کی طرف۔ دبئی میں منعقد ہونے والے ایئر شو کا اختتام خلاف توقع تھا۔ اس موقع پر محاورہ یاد آیا اگر قسمت خراب ہو تو اونٹ کی پشت پر بیٹھے ہوئے شخص کو بھی کتا کاٹ سکتا ہے۔ بھارتی ایئر فورس کی قسمت کے ستارے گردش میں ہیں، ماہ مئی میں انہیں پاکستان ایئر فورس کے ہاتھوں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا، ان کے متعدد لڑاکا جہاز تباہ اور پائلٹ بھی یقینا ہلاک 
ہوئے۔ اس نقصان کو بھارتی قیادت نے خاصی پس و پیش کے بعد تسلیم کیا۔ ٹھیک چند ماہ بعد انہیں دبئی شو میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ان کا تیار کردہ لڑاکا جہاز تیجا کریش ہوا جس میں بھارتی ونگ کمانڈر نمنش بھی ہلاک ہو گیا۔ اس کریش نے بھارتی ایئر فورس کی کمر توڑ ڈالی ہے۔ لڑاکا جہاز تیار کرنے والی بھارتی کمپنی کے شیئرز دو مرتبہ گرے ہیں جبکہ تیجا کی فروخت کے متعدد آرڈر منسوخ ہو سکتے ہیں۔ بھارتی ایئر فورس کے طیارے اس سے قبل بھی ایئر شوز میں کریش ہو چکے ہیں۔ دبئی کے ایئر شو کو دیکھنے کے لیے طیارہ ساز کمپنیوں کے متعدد سربراہ، مختلف ممالک کے ایئر چیف اور فنی ماہرین کے علاوہ لڑاکا جہازوں کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والے متعدد ممالک کے نمائندے شامل تھے جبکہ دبئی میں مقیم مختلف ممالک کے شہری بھی موجود تھے، ہلاک ہونے والے بھارتی ونگ کمانڈر نے ایک روز قبل اپنے والدین کو اپنی پرفارمنس کے دن اور وقت سے مطلع کیا تھا، ان کا پیغام وائرل کیا گیا یوں لاکھوں افراد ٹی وی سکرین پر ان کی موت کا منظر دیکھ کر رنجیدہ ہوئے، اس حادثے کے بعد پاکستان کی بعض اہم شخصیات کی طرف سے کچھ ایسے بیانات سامنے آئے جن سے یوں لگا جیسے انہوں نے اپنا آئندہ الیکشن بھارتی ووٹرز کی طاقت سے جیتنا ہے۔ ایک بیان میں دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہماری دشمنی فضاؤں تک ہے ہمیں حادثے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس ہے۔ پاکستان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں 65 کی جنگ میں اور بھارتی ایئر فورس کے نقصان اور ابھینندن کا جہاز گرنے پر بھی افسوس ہو گا۔ یاد رہے ٹھیک چند ماہ قبل جب 100 سے زیادہ بھارتی طیارے پاکستان پر حملہ آور ہونے کھلی فضا میں تھے تو ان میں بھارتی ونگ کمانڈر نمنش بھی تھا، پس مجھے اس کے مرنے پر کوئی افسوس نہیں۔ بھارت کئی ماہ سے پاکستان پر حملے کی تیاری کر رہا ہے اس مرتبہ وہ اپنی ایئر فورس کی بجائے بحری طاقت کو آزمانا چاہتا ہے جبکہ پاکستان نیوی اس کے متعدد جہاز ڈبونے کے لیے تیار بیٹھی ہے، دبئی کریش کے بعد بھارت اور بھارتی افواج اب لڑائی کی موڈ میں نہیں بلکہ سیز فائر کی طرف آ رہی ہیں۔ پاکستان کے اندر گزشتہ تین برس سے ایک جنگ جاری ہے، اس جنگ میں بھی سیز فائر ہو جانا چاہیے۔ اس جنگ نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے، آئی ایم ایف کی رپورٹ دیکھ لیجئے، کرپشن کا بازار گرم ہے، ہماری توجہ کہیں اور، تیسرا سیز فائر وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزیدخبریں