تبدیلی کی ہوائیں چلنے لگی ہیں، 27 ویں تحریک کی منظوری سے بہت کچھ بدل گیا، بہت کچھ بدل رہا ہے۔ 28 ویں ترمیم کا ذکر چھڑ گیا۔ کہا جا رہا ہے منظور ہوگئی تو کھیل کا پانسہ پلٹ جائے گا۔ منظوری آسان نہیں، این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی اضافہ، 18 ویں ترمیم میں رد و بدل ، تعلیم، پاپولیشن پلاننگ وفاق کے حوالے، دہری شہریت کا خاتمہ، اسمبلیوں کی مدت میں کمی بیشی ، بارہ صوبے ن لیگ انتظامی صوبوں پر رضا مند، پی پی سندھ کی تقسیم کیسے گوارا کرے گی۔ الیکشن کمشنر کی میعاد کا از سر نو تعین اور بہت کچھ جسے قوم سننا اور دیکھنا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے 27 ویں ترمیم کی حمایت کر کے آزاد کشمیر کی حکومت لے لی، اسی کو صدر زرداری کی سیاسی مہارت اور وزڈم کہا جاتا ہے۔ ایک دریا عبور کرلیا ایک اور دریا کا سامنا ہے جسے تیر کر پارکرنا آسان نہیں، اب طاقتوروں کے پاس دینے کو کچھ نہیں البتہ منوانے کی طاقت ہے، ایک من موہنے ویلاگر نے فیصل واوڈا جیسے قریبی اور ذمہ دار اعلیٰ افسر سے پوچھا پیپلز پارٹی 28 ترمیم کی بیشتر شقوں کی مخالف ہے کیسے منظور ہوگی؟ اعلیٰ افسر نے انتہائی اطمینان سے جواب دیا۔ منظور ہوجائے گی کاریگر کام کر رہے ہیں نوک پلک درست ہو رہی ہے منوانے والے سر پر موجود ہیں فکر کی کوئی بات نہیں۔ پیپلز پارٹی کے لیے بڑی آزمائش کڑا امتحان، بڑوں کی باتوں پر سر تسلیم خم کردے تو سیاست اور مقبولیت کا گراف گرنے کا خطرہ، مخالفت کرے تو حکومتوں کے جانے کا اندیشہ، آئینی عہدوں سے دستبرداری، بلاول بھٹو نوجوان خون، جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا کی جذباتی عمر، والد کی عقل و دانش شامل حال، گزشتہ دنوں خوب گرجے برسے کہا کسی کا باپ بھی 18 ویں ترمیم رول بیک نہیں کرسکتا۔ فواد چوہدری ادھر کے نہ ادھر کے بھٹکے ہوئے راہی دائرے میں گھومنے والے گم کردہ راہ مسافر، فوراً دفاع میں بولے ’’کسی کا باپ بھی 28 ویں ترمیم کو منظوری سے نہیں روک سکتا، ’’باپ‘‘ خاموش لیکن حالات سے ناخوش، صدر اور پی پی کو ایک کے بعد ایک سخت پیغام۔ پی پی نے مخالفت کی تو کیا ہو گا کشیدگی بڑھے گی۔ سرد جنگ چل رہی ہے معاملات بگڑے تو بچی کچھی جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔ عالی دماغ اور اچھے برے حالات چشیدہ 8 تجربہ کار سیاستدان گزشتہ دنوں بند کمرے میں بیٹھے اسی موضوع پر تبادلہ خیال کرتے پائے گئے۔ ایک پارٹی نے کارڈ شو کردئیے دوسری 23 نومبر (گزشتہ روز) کے انتخابی نتائج کے بعد شو کرے گی۔ مبینہ طور پر مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں چھ سیٹیں حاصل کرلیں تو اس کی پوزیشن مضبوط ہوجائے گی۔ تاہم قانون سازی کے لیے اسے پھر بھی پی پی جیسی اتحادی جماعت کی ضرورت پڑے گی، جس کی قومی اسمبلی میں 64 نشستیں اور سینیٹ میں بھی باقی جماعتوں سے زیادہ سیٹیں ہیں اگر پی پی اپوزیشن میں بیٹھ گئی تو مولانا فضل الرحمن اور پی ٹی آئی کے محلے کی رونقیں بڑھ جائیں گی۔ بلاول بھٹو اپوزیشن لیڈر بن گئے تو بے نقط اور تذکیر و تانیث کا لحاظ کیے بغیر تنقید کے ایسے تیر برسائیں گے کہ سینے چھلنی کر دیں گے۔ ریاست اب تک بے یقینی کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ اگر چہ ’’بڑے خان صاحب‘‘ کا محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ بھی غلط ثابت ہوا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے میاں نواز شریف کیخلاف نعرے لگوائے۔ بیٹی اب تک پاکستانی کہنے سے گریزاں افغانی کہنے پر بضد۔ مقتدرہ کی کھلی مخالفت میں بہت آگے چلے گئے اور ناقابل قبول ٹھہرے، سپیکر نے عمر ایوب کے سزا یافتہ ہونے اور نا اہلی کا کیس عدالت میں ہونے کے باعث اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ التوا میں ڈال دیا۔ علامہ ناصر عباس نے ٹی ٹی پی اور طالبان کے ذمہ داروں پر پُر جوش لعنتیں بھیجیں کہا ان ذمہ داروں پر اللہ رسولؐ کی لعنت ہم سب کی لعنت، صحافی طیب بلوچ نے ذمہ داروں میں بڑے خان صاحب کا نام لیا تو علامہ صاحب نے انہیں بھی رگڑ دیا۔ خان کو ملاقاتیوں نے خبر پہنچائی تو ناراض ہوئے اور علامہ کی بجائے مولانا کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا حکم دے دیا۔ خان اپنے آپ کو بدلنے پر تیار نہیں کسی بھلے آدمی سے مشاورت توہین سمجھتے ہیں۔ کوئی بدلنے کا مشورہ دے تو جون ایلیا کا شعر پڑھ کر بیرک میں چلے جاتے ہیں۔ ’’ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں شکریہ
مشورت کا چلتے ہیں‘‘ علامہ صاحب کا تجزیہ درست ،کافروں کی مدد سے پاکستان پر حملہ آور منافقین سے فوج بہادری سے نمٹ رہی ہے۔ جبکہ سہیل آفریدی فوج کو صوبہ سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ’’میں کافروں سے تو خود بچوں گا منافقوں سے خدا بچائے، یہ کیسے سانپوں کی نسل جس کی بڑوں بڑوں کو سمجھ نہ آئے‘‘ 27 ترمیم کے خلاف پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر احتجاج سات منٹ میں ختم کراچی اور لاہور میں بھی وکلاء نے ساتھ نہ دیا۔ ججز کی اجتماعی استعفوں کی کوشش بھی ناکام ہوگئی۔ کالے بھونڈوں کا ڈنک نکال دیا گیا وکلاء تحریک میں شمولیت مشکوک اور مشکل، گنڈا پور کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو خان کی رہائی کا شوق، جیل توڑ منصوبے ناکام، مچ یا ساہیوال جیل منتقلی زیر غور، علیمہ خان اور دیگر بہنوں اور دوچار وکلاء کے جیل سے باہر روز روز کے دھرنوں اور سیاست چکانے سے نجات ملے گی۔ سہیل آفریدی کے اسلام آباد پر آئی ایس ایف کے ہمراہ دسمبر میں حملے کی خواہش سینے ہی میں دم توڑ دے گی۔ ساتویں بار ملاقات سے انکار پر سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی منت سماجت پر اتر آئے خط لکھا فرقت عمران میں گھلا جاتا ہوں۔ ملاقات کے لیے مدد کریں، صوبائی وزیر اطلاعات نے ٹکہ سا جواب دیا ملاقات سے وزیر اعلیٰ کا لینا دینا نہیں۔ سپرنٹنڈنٹ جیل جانیں، غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات بعید از قیاس نہیں، جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا کورٹ مارشل مکمل 28 نومبر کو سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔ 12 سال قید عمر قید، سزائے موت یا پھر معافی، چند دن میں فیصلہ متوقع۔ بیرسٹر گوہر نے اصل چیئرمین بڑے خان صاحب کو مرد آہن قرار دے دیا لیکن مبینہ طور پر پارٹی کے گیارہ غداروں کی نشاندہی پر سارا لوہا پگھل گیا۔ خان کے ہوش اڑ گئے۔ ادھر اکانومسٹ نے نقاب پوش اہلیہ کو ماضی حال کے حوالے دے کر جادوگرنی، موکلات، جنات، جادو ٹونے کی آڑ میں سیاست میں مکمل حصہ دار قرار دیا۔ سارے نقاب الٹ دئیے خان اور ان کے سابق استاد الملائک کی اولاد لیڈروں کا مسلسل انکار اور جھوٹ پر تکیہ، ایک شاعر کا کہنا ہے کہ ’’اس کا گینز بک میں ثمر نام کیوں نہیں آتا جن نے ریکارڈ توڑ دئیے سارے جھوٹ کے‘‘ اللہ رحم کرے 28 ویں ترمیم کے زور دار دھماکہ سے متعدد کمزور دیواریں گر جائیں گی جبکہ نظام کی طاقت پر آئندہ دس سال تک مہر تصدیق ثبت ہوجائے گی۔
28 ویں ترمیم، وکلاء تحریک، نقاب پوش بے نقاب
09:18 AM, 24 Nov, 2025