کوئٹہ دھماکے میں 14 جانیں قربان، شہداء میں 3 ایف سی اہلکار بھی شامل، ملک بھر میں شدید غم و غصہ

02:30 PM, 24 May, 2026

کوئٹہ :بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی ایک اور بزدلانہ کوشش سامنے آئی ہے۔ کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر ہونے والے ایک ہولناک بم دھماکے میں 3 ایف سی اہلکاروں سمیت 14 افراد شہید ہو گئے ہیں۔ دھماکے کی شدت کے باعث پٹری کے اطراف موجود متعدد معصوم خواتین اور بچے بھی ملبے اور اسپلنٹرز کی زد میں آ کر شدید زخمی ہوئے ہیں۔

حکومتی ترجمان اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی شاہد رند نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر کے کوئٹہ کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بم ڈسپوزل اسکوڈ نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے تخریب کاری کے شواہد جمع کر لیے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر ریلوے حنیف عباسی: وزیراعظم نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ وفاقی حکومت بلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے صوبائی حکومت کو تمام وسائل فراہم کرے گی۔

     وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مشترکہ طور پر اس حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے امن پر وار کرنے والے خارجی دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق، کوئٹہ اور اس کے مضافاتی علاقوں کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناgroupکہ بندی سخت کر دی گئی ہے اور مبینہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی بیخ کنی کے لیے بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

مزیدخبریں