ظاہری عبادات اور نمائشی اخلاقیات کافی نہیں!

09:14 AM, 24 May, 2026

دیکھا جائے تو ہم عجیب قسم کے مذہبی، قانونی اور اخلاقی تضادات کا شکار ہیں۔باتوں کی حد تک تو ہم مذہبی سکالر بھی ہیں، موٹیویشنل سپیکر بھی ہیں، ایک ذمہ دار شہری بھی ہیں اور گھر کے بہترین سربراہ بھی مگر جب ان باتوں کا عملی نمونہ پیش کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو جانے کیوں ہمارے قول و فعل میں ایک لمبا فاصلہ دکھائی دیتا ہے۔ہم اصولوں کی بات تو کرتے ہیں مگر اصولوں پر چلنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں، ہم دین سے محبت کے دعوے تو کرتے ہیں مگر دین کی بنیادی تعلیمات کو روزمرہ زندگی میں جگہ دینے پر تیار نہیں،ہم تہذیب، اخلاق، برداشت اور صفائی کی بات تو کرتے ہیں مگر عملی میدان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔
رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو ہماری عبادات میں حیرت انگیز اضافہ ہو جاتا ہے۔ مساجد بھر جاتی ہیں، تراویح میں رش لگ جاتا ہے، قرآن پاک کی تلاوت بڑھ جاتی ہے، سوشل میڈیا پر دینی پوسٹس کی بھرمار ہو جاتی ہے۔ ہر طرف مذہبی ماحول دکھائی دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پورا معاشرہ نیکی کی طرف راغب ہو چکا ہے۔ لیکن اسی رمضان میں دکاندار اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ چینی، آٹا، پھل، سبزیاں، گوشت، ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ ذخیرہ اندوزی شروع ہو جاتی ہے۔ مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے تاکہ زیادہ منافع کمایا جا سکے۔ ملاوٹ کا بازار گرم ہو جاتا ہے اور بے ایمانی عام ہو جاتی ہے۔ یہاںسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر رمضان واقعی نیکیوں اور عبادات کا مہینہ ہے تو پھر اس مہینہ میں بے ایمانی کیوں بڑھ جاتی ہے؟ روزہ اگر صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ کردار سازی کا ذریعہ ہے تو پھر ہمارے کردار میں تبدیلی کیوں نہیں آتی؟ ہم افطار دسترخوان تو سجا لیتے ہیں مگر اپنے دلوں سے لالچ نہیں نکال پاتے۔ ہم شب قدر میں دعائیں تو مانگتے ہیں مگر دوسروں کا حق مارنے سے باز نہیں آتے۔ گویا عبادت ہمارے لیے ایک رسم بن گئی ہے جبکہ اس کی روح کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔
اسی طرح ہم اصولوں کی باتیں بھی بہت کرتے ہیں۔ ہر شخص دوسرے کو قانون کا احترام سکھاتا نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر قوم کی اصلاح کے مشورے دیے جاتے ہیں۔ مگر جب ہم سڑک پر نکلتے ہیں تو ہمارے اصل کردار کی جھلک سامنے آ جاتی ہے۔ ٹریفک سگنل شاید صرف ایک سجاوٹی چیز بن چکا ہے۔ سرخ بتی جل رہی ہو تب بھی گاڑیاں گزر رہی ہوتی ہیں۔ ون وے سڑک پر الٹی سمت سے آنے والوں کو ذرا شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ ہیلمٹ پہننا بوجھ لگتا ہے، سیٹ بیلٹ غیر ضروری محسوس ہوتی ہے، اور لائن میں کھڑا ہونا اپنی توہین سمجھا جاتا ہے۔
عیدالاضحی کے دنوں میں بھی ہمارا اجتماعی رویہ کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ قربانی ایک عظیم عبادت ہے، یہ ایثار اور محبت کا درس دیتی ہے، مگر ہم نے اسے بھی دکھاوے اور مقابلے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ لاکھوں روپے کے جانور خریدے جاتے ہیں۔ ان کی نمائش کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر تصاویر لگائی جاتی ہیں۔ لیکن انہی جانوروں کے لیے چارہ تلاش کرتے ہوئے ہم دوسروں کے گھروں کے سامنے لگے پودے، پھول اور درخت برباد کر دیتے ہیں۔ کسی نے برسوں محنت سے اپنے گھر کے باہر سبزہ اگایا ہوتا ہے، خوبصورت پودے لگائے ہوتے ہیں، مگر چند لمحوں میں انہیں جانوروں کے آگے ڈال دیا جاتا ہے۔
یہ رویہ صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ ہم عبادت تو کرتے ہیں مگر عبادت کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ ہم قربانی تو دیتے ہیں مگر قربانی کا اصل سبق یعنی دوسروں کا خیال رکھنا بھول جاتے ہیں۔ ہم مذہبی جذبے کا اظہار تو کرتے ہیں مگر صفائی، نظم و ضبط اور شہری ذمہ داری کو اہمیت نہیں دیتے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عبادت صرف مسجد تک محدود نہیں بلکہ سچ بولنا، ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا، ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا، صفائی کو برقرار رکھنا ، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا بھی عبادات ہے۔ اگر ہم صرف مذہبی رسومات ادا کریں مگر عملی زندگی میں اخلاقیات کو نظر انداز کر دیں تو ہماری عبادات کا اثر معاشرے پر نظر نہیں آئے گا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں۔ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم رمضان میں واقعی تقویٰ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ذخیرہ اندوزی، منافع خوری اور دھوکہ دہی چھوڑنا ہوگی۔ اگر ہم خود کو مہذب قوم کہنا چاہتے ہیں تو ہمیں ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔ اگر ہم قربانی کی روح کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صفائی، نظم اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا ہوگا۔ معاشرے کی تبدیلی بڑے نعروں سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے عملی اقدامات سے آتی ہے۔ جب ایک شخص سگنل پر رک جاتا ہے تو وہ صرف قانون کی پابندی نہیں کرتا بلکہ دوسروں کے لئے بھی ایک مثبت مثال بنتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ کئی برس پہلے اخبار کی نوکری میں نائٹ ڈیوٹی کے بعد رات گئے جب میں گھر لوٹتا تھا اور ٹریفک سگنل سرخ ہونے پر رک جاتا تھا تو بعض لوگ تو مجھے دیوانہ سمجھتے تھے لیکن بعض میری دیکھا دیکھی رک بھی جاتے تھے۔ یعنی اگر ہم قانون کی پاسداری شروع کر دیں تو کچھ نہ کچھ لوگ آپ کو فالو کرتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ چلتا رہے تو شائد بہت سے لوگ قانون پر عملدرآمد کرنا شروع کر دیں۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل بہتر ہو تو ہمیں خود بہتر بننا ہوگا۔ اگر باپ سگنل توڑے گا تو بیٹا بھی یہی کرے گا۔ اگر والدین صفائی کا خیال نہیں رکھیں گے تو بچے بھی لاپرواہ بنیں گے۔ اگر معاشرے میں بے ایمانی عام ہوگی تو نئی نسل بھی اسے معمول سمجھنے لگے گی۔
بدقسمتی سے ہم نے اپنے قول اور فعل کے درمیان موجود فاصلے کو اتنا معمول بنا لیا ہے کہ اب ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ ہم جھوٹ بول کر بھی خود کو اچھا انسان سمجھتے ہیں، قانون توڑ کر بھی خود کو مہذب کہتے ہیں، دوسروں کو تکلیف دے کر بھی مطمئن رہتے ہیں اور فراڈ کے پیسوں سے حج کر کے خود کو حاجی کہلوانا چاہتے ہیں۔ یہی بے حسی آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو کمزور کر رہی ہے۔ 
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ صرف ظاہری عبادات اور نمائشی اخلاقیات کافی نہیں۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب ہمارے اعمال بھی ہماری باتوں جیسے ہو جائیں۔ جب رمضان میں عبادت کے ساتھ ایمانداری بھی بڑھے، جب عیدالاضحیٰ میں قربانی کے ساتھ صفائی اور احساس ذمہ داری بھی نظر آئے، جب سڑک پر نکلنے والا ہر شخص دوسروں کے حق کا احترام کرے، اور جب ہم دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کو اہم سمجھیں۔

مزیدخبریں