کاکروچ جنتا پارٹی

09:12 AM, 24 May, 2026

بھارت میں ایک نئی سماجی سوچ نے جنم لیا یے جسکا نام اور کام دونوں ایک دوسرے کی تعریف خود بیان کرتے ہیں۔ چند روز قبل بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سوریا کانت نے ایک کیس کی اوپن سماعت کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا "کاکروچ جیسے نوجوان ہیں، جنہیں نہ کوئی روزگار ملتا ہے اور نہ ہی پیشے میں کوئی جگہ ہے۔ ان میں سے کچھ میڈیا والے جاتے ہیں، ان میں سے کچھ سوشل میڈیا، آر ٹی آئی کارکن اور دیگر کارکن بن جاتے ہیں، اور وہ سب پر حملہ کرنے لگتے ہیں"- بھارتی نوجوان نسل جنہیں جین زیز کہا جاتا ہے انہوں نے اعلیٰ عدالت کے جج کے نوجوانوں کے لئے کاکروچ لفظ استعمال کرنے پر شدید ردعمل دیا۔ اس کے بعد چیف جسٹس سوریا کانٹ نے اپنے ریمارکس کی وضاحت کرتے ہوئے جین زیز کی تعریف بھی کی مگر جین زی نسل کی ناپسندیدگی برقرار ہے۔ 
سوشل میڈیا پر وائرل کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھی جیت دپکے بھارتی جین زی نوجوان ہیں جو اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے امریکہ میں مقیم ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی سوشل میڈیا آگاہی مہم میں ایک انتہائی سنجیدہ پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ کچھ روز قبل بھارت میں نیٹ ٹیسٹ جو کہ بھارت کا قومی ٹیسٹ برائے اعلیٰ تعلیم ہے اس کے پرچے آﺅٹ ہونے کا مسئلہ سامنے آیا تھا۔ نوجوان طلبہ جو میڈیکل، اور انجینئرنگ کالجز میں داخلوں کے لئے سال بھر سے تیاری کر رہے تھے انکی محنت پر اس وقت پانی پھر گیا جب پرچے لیک ہونے پر حکومت نے نیٹ ٹیسٹ ملتوی کر دئیے۔ اس کے نتیجے میں میڈیا اطلاعات کے مطابق چار نوجوانوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ کہنے کو یہ انتظامی کوتاہی ہے مگر اس نے بھارتی نوجوان جین زیز کے ذہنوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ تحقیقاتی کمیٹی نے بیان دیا کہ نیٹ ٹیسٹ پیپرز آﺅٹ نہیں ہوئے بلکہ بعض سوالات آﺅٹ ہوئے ہیں۔ یہ حال ہے سرکاری ادارے کا جو کروڑوں طلبہ و طالبات کے شفاف ٹیسٹ کرانے کا مجاز ادارہ ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے ماننے والوں نے بھارت کے وزیر تعلیم شری دھرمیندر پردھان سے امتحانی پرچے آﺅٹ ہونے پر استعفیٰ مانگ رکھا ہے جو انٹرنیٹ پر زور پکڑ رہا ہے۔ 
ماہرین کہتے ہیں کاکروچ وہ کیڑا ہے جو صدیوں تک زندہ رہتا یے مرتا نہیں ہے۔ بعض لوگوں کی رائے میں کاکروچ ایٹمی دھماکوں کو بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے بھارتی حکومت کاکروچوں کی اس قدر لمبی زندگی اور قوت برداشت سے گھبرا گئی ہے۔ وگرنہ بھاجپا راج کو نہ کاکروچ کی فکر ہے نہ بھارتی نوجوان نسل کی۔
دور جدید میں کاکروچ دراصل ڈائینوسار کے زمانے کے ہیں۔ جو تقریباً 320 ملین سال پہلے کے قدیم دور میں پیدا ہوئے تھے۔یعنی بھارتی نوجوانوں کی یہ تحریک عملی شکل اختیار کر کے صدیوں تک چل سکتی ہے۔ کہتے ہیں کاکروچ صفائی کرنے والے کیڑے ہوتے ہیں جو بوسیدہ مادے، انسانی خوراک اور ردی کی ٹوکری میں کھانا کھاتے ہیں۔ بس یہ خصلت بھی بھارتی نوجوانوں میں ہے جو کاکروچ جنتا پارٹی کے ذریعے بھارت کے بوسیدہ نظام کو کھانے کے لئے تیار ہو رہے ہیں۔ 
بھارتی جنتا پارٹی نے سوشل میڈیا پر سرگرم کاکروچ جنتا پارٹی کے سوشل اکاونٹس بند کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ نئے اکاونٹس ہیک ہو رہے ہیں۔ جان سے مارنے کی دھمکی آمیز کالز کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کو موصول ہو رہی ہیں مگر پھر بھی جین زیز کی مسلسل سپورٹ سے کاکروچ بار بار سر اٹھا رہے ہیں۔ بھارتی وزارت داخلہ نے کاکروچ جنتا پارٹی کے فنڈز کی تحقیقات کے لئے کمر کس لی ہے۔ بھارت سیاست دانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام فالوورز کا ایک بڑا حصہ پاکستان، بنگلہ دیش اور ترکی کے بوٹ اکاونٹس اور پاکستانی صارفین ہیں۔ کاکروچوں کی اہمیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ دشمن ملک پر سازش کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں بھارت میں کاکروچوں کی سوشل میڈیا مہم کو پاکستانی صارفین کی حمایت حاصل یے۔ کبھی کہتے ہیں کاکروچوں کی بین الاقوامی فنڈنگ کی جا رہی ہے۔ جو بھی آواز، مہم، تنظیم یا ٹرینڈ حکومت وقت اور سسٹم کو للکارنے لگے اس کے خلاف حکومتی مشینری ایکٹو ہو جاتی یے پھر چاہے وہ سادہ سے کیڑے مکوڑے کاکروچ ہی کیوں نہ ہوں۔ 
دوسری جانب کاکروچ جتنا پارٹی کے نام نے سیاسی حلقوں میں بھی کھلبلی مچا دی ہے۔ بھارت میں حکومتی جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی اور حزب اختلاف کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس کو یہ پریشانی لاحق ہوئی ہے کہ اگر یہ مہم سیاسی جماعت میں تبدیل ہو گئی تو انکی سیاسی جماعتوں کا کیا بنے گا۔ کیونکہ کاکروچ جنتا پارٹی نے صرف دو روز میں سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر کروڑوں فالوورز حاصل کر لئے ہیں۔ یعنی یہ ابھرتی ہوئی کوئی تحریک بن سکتی ہے جیسی بنگلہ دیش اور نیپال میں حکومت گرانے کے لئے بنی تھیں۔

مزیدخبریں