مشرقِ وسطیٰ بحران اور پاکستان کا مصالحانہ کردار

09:03 AM, 25 Mar, 2026

مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے خطرناک ترین موڑ سے گزر رہا ہے۔ وہ خطہ جو دہائیوں سے کشیدگی کا مرکز رہا ، اب ایک ایسی ہمہ گیر علاقائی جنگ کی لپیٹ میں ہے جس کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سیاست کو ہلا کر رکھ رہے ہیں۔ غزہ سے شروع ہونے والی جنگ لبنان اور اب ایران و اسرائیل کے براہِ راست ٹکراو¿ تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی طاقتیں منقسم ہیں اور خطے میں امن کا خواب بکھرتا دکھائی دے رہا ہے۔یہ تنازع اب محض اسرائیل اور ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکہ، سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، عراق، لبنان جیسے ممالک براہِ راست اس آگ کا حصہ بن چکے ہیں۔
حالیہ ہفتوں کی سب سے بڑی اور ہولناک تبدیلی ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے تھے جسے ”آپریشن ایپک فیوری“ (Operation Epic Fury ) کا نام دیا گیا ۔28 فروری کوشروع ہونے والے ان فضائی حملوں نے خطے کی صورتحال کو یکسر بدل دیا ۔ ان حملوں میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی جاں جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔ اس واقعہ نے تہران میں اقتدار کے ڈھانچے کو تو ہلا کر رکھ دیا لیکن امریکہ و اسرائیل کو جن نتائج کی توقع تھی وہ بھی پورے نہیں ہو سکے۔ ان کا خیال تھا کہ سپریم لیڈر کے بعد ایران میں افراتفری پھیل جائے گی اور عوام خوشی کے مارے سڑکوں پرنکلیں گے تو ایسے میں رجیم چینج آپریشن مکمل کر لیا جائے گا۔ لیکن سید علی خامنہ ای کے بعد ایرانی قوم مزید مضبوط ہوئی اور اس کی واحد وجہ ان کا مذہب کے ساتھ لگاﺅ ہے ۔ سید علی خامنہ ای کے بعد ان کے صاحبزادے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا جا چکا ہے تاہم وہ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے اور ظاہر ہے اس کی وجہ سکیورٹی رسک ہے۔ ایران نے اسرائیل اور امریکی حملوں کے جواب میں اسرائیل پر سیکڑوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات اور سفارت خانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ جنگ آج چھبیسویں روز میں داخل ہو چکی ہے اور دوسری جانب لبنان کا محاذ بھی اب مکمل جنگی میدان بن چکا ہے۔ اسرائیلی افواج نے لبنان میںفضائی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں لبنانی شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ بیروت کے مضافات اور بقاع کی وادی میں مسلسل بمباری نے لبنان میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے۔ اس جنگ کا سب سے خطرناک پہلو عالمی توانائی کی سپلائی لائنوں پر حملہ ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بلاک کرنے کی دھمکی دی جس کے جواب میں امریکی صدر نے اس گزرگاہ کو ہر حال میں کھولنے کی بات دہرائی۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ حالیہ کشیدگی کی ایک تشویشناک بات یہ ہے کہ خلیجی ممالک، جو اب تک اس تنازع سے براہِ راست دور رہنے کی کوشش کر رہے تھے، اب اس کی زد میں آ رہے ہیں۔اس تنازع میں پاکستان کی سفارتی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ 
اس صورت حال میں جب دنیا دو حصوں میں منقسم ہے ‘ پاکستان نے مشرق وسطیٰ بحران کو ختم کرنے کیلئے اپنا مصالحانہ کردار ادا کرنا شروع کیا ہے اور پاکستان کی سفارتی کوششوں میں ترکیہ اور مصر بھی اس کے ساتھ ہیں۔ امریکا ایران جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ترجمان وائٹ ہاو¿س نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مابین ٹیلی فونک گفتگو کی بھی تصدیق کی ہے۔ ترجمان وائٹ ہاو¿س کے مطابق یہ حساس سفارتی بات چیت ہے۔ کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ امریکا اس معاملے پر میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔ ابھی یہ سطور تحریر کر رہا ہوں تو خبر ملی کہ ایک عرب ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر نے بھی مذاکرات کی حمایت کردی ہے تاہم ان سطور کی تحریر تک تہران کی جانب سے مذاکرات یا سپریم لیڈر کی حمایت سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد ہی ایک حتمی معاہدہ سامنے آ سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد ایرانی حکام کی جانب سے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار سامنے آیا تھا۔ 
پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے موقف ہمیشہ اصولی رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ دو ریاستی حل اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی بات کی ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے سعودی عرب، ایران اور دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں” برادرانہ ثالث“ کا کردار ادا کیا ۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے موجودہ بحران بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ ایک طرف برادر اسلامی ملک ایران ہے جس کے ساتھ سرحدیں جڑی ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب جس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر رکھا ہے جبکہ خلیجی ممالک سے معاشی اور سٹرٹیجک تعلقات ہیں۔ پاکستان کا جھکاو¿ کسی ایک بلاک کی طرف ہونے کے بجائے امن کی طرف ہونا اس کی بڑی کامیابی ہے۔ وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیانات میں مسلسل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے، تاکہ بڑے پیمانے پر علاقائی جنگ کو روکا جا سکے۔ مشرقِ وسطیٰ کی یہ صورتحال اگر مزید اسی نہج پر جاری رہی تو یہ ایک ایسی ”گریٹ وار“کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس کی مثال شاید پہلے نہیں ملتی۔ اگر عالمی برادری نے فوری طور پر کوئی بڑا بریک تھرو نہ کیا، تو یہ جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو بدل دے گی بلکہ عالمی معیشت کو ایک طویل مدتی بحران میں دھکیل دے گی۔ بارود کی یہ بو اب صرف دمشق، تہران یا تل ابیب تک محدود نہیں بلکہ اس کی تپش پوری دنیا محسوس کر رہی ہے۔عالمی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بیٹھک لگے گی۔ اگر ایسا ہے تو یہ سفارتی محاذ پر پاکستان کی بہت بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔

مزیدخبریں