وہ قوم کی حیات ہے

09:02 AM, 25 Mar, 2026

 سائیں فضل شاہ صاحب تفسیرِ فاضلی میں ایک جگہ بیان کرتے ہیں کہ جس ماضی کا گواہ حال نہ ہو، وہ ماضی قابلِ اعتبار نہیں ہوتا۔ یہی بات ہم نے مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ سے یوں سمجھ رکھی تھی کہ انعام یافتہ لوگ اگر پہلے زمانے میں موجود تھے تو سمجھو کہ آج بھی موجود ہیں۔ یعنی اگر ماضی میں ولی تھے تو زمانہ حال میں بھی ہوں گے .... دراصل ولی ہمہ حال ہوتا ہے۔ کربلا قصہ ماضی نہیں .... کربلا حال میں بھی جاری و ساری ہے۔ کربلا کے سب کردار زندہ ہیں۔ پیغامِ کربلا کے علم بردار آج بھی موجود ہیں۔ حسینؓ زندہ ہے .... کہ حسینیت زندہ ہے۔ پیغامِ کربلا کے وارث آج بھی جہادِ مسلسل میں مصروفِ عمل ہیں۔ کسی نظریے کی زندگی کا ثبوت یہ ہے کہ اس نظریے کو اپنے کردار میں شامل کرنے والے لوگ زندہ و موجود ہیں۔ حال کی شہادت، ماضی کی شہادت ہے۔
سیّد علی خامنہ ای کی شہادت نے جہاں ایرانی قوم کو یکجا کر دیا ہے وہاں اُمّتِ مسلمہ کو بھی وحدت کی لڑی میں پرو دیا ہے۔ سچ ہے، شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے۔ ایک خدا، ایک رسول، ایک قرآن کوماننے والے، ایک قبلہ کی طرف رخ کر کے عبادت کرنے والے سب ایک ہو گئے۔ شیعہ سنی کی تقسیم ختم ہو گئی۔ اب ایک نئی قسم کی تقسیم ہے .... یہ تقسیم ہے .... حسینیت اور یزیدیت کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون ظلم و استبداد، کفر اور اندھی طاقت کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اور کون ہے جو حق، انصاف اور دین کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
تاریخ اس سیّد زادے کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی .... اس کا حال، ماضی کی شہادت دے رہا تھا۔ یہ بھی امام حسینؓ کے اسی قول کے ہمراہ چل رہے تھے .... کہ ”مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ کہاں اپسٹین فائل کا شکار، خدا کی مار، کبائر کو شعائر بنانے والا، غرور کے تعفن میں غرق فرعون کا نمایندہ .... اور کہاں ایک عالمِ دین، دینی اقدار کا پیام بر .... طہارت کے نصاب کا پرچارک .... اِس جیسا اُس جیسے کی بیعت کیسے کر ے۔
امام عالی مقامؓ جانتے تھے کہ بہتر افراد کا یہ مختصر قافلہ بالاخر شہادت گاہ کی طرف جا رہا ہے .... اُدھر امام کے چھتیسویں(36ویں) پوتے سیّد علی خامنہ ای بھی بخوبی جانتے تھے کہ دشمن اُن کی جان لینے کے درپے ہے۔ محافظین نے منت کی، کہ وہ کسی طرح بم پروف بنکر میں پناہ لے لیں، لیکن اس سیّد زادے نے یہ کہہ کر اپنی جان بچانے سے انکار کر دیا کہ جس قوم کا رہنما اپنی جان بچانے کی فکر کرے گا، اُس کے بیٹے اپنی قوم پر کیسے جان نچھاور کریں گے۔ گویا یہاں بھی شہادت اضطراری نہیں، اختیاری تھی۔ یہ شہید بھی خاندان سمیت قتل ہوا .... یہاں بھی ایک ہی بیٹا زندہ 
بچا ہے۔ کربلا کی تاریخ دوبارہ رقم ہو رہی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ جب کربلا برپا ہو رہی تھی تو مسلمان کہاں تھے .... وہیں پر، جہاں آج ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ خیبر شکن حیدرِ کرارؓ کے وارث ہی اہلِ یہود کو للکار سکتے تھے۔ یہی انہیں یہودی بستیوں سے نکالیں گے۔ ذوالفقارِ حیدری ہی شرپسندوں کے سر قلم کرتی ہے۔ انسانیت کے دشمنوں کی سرکوبی محسنِ انسانیت کے ولی و وصی کے ہاتھوں ہی رقم ہوتی ہے۔
مقامِ تاسف ہے کہ ہم فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں .... توحید کے پرچارک ہیں لیکن وحدت سے دُور ہیں۔ ہم نے اپنے مشاہیر کو بھی تقسیم کر رکھا ہے۔ ہر فرقہ خود کو حق پر سمجھتا ہے اور دوسروں کو باطل پر گمان کرتا ہے۔ یہ بدگمانی ہے جو دو بھائیوں کو ایک دوسرے سے دُور کر دیتی ہے۔ ہم اس حدیث کے تو قائل ہیں کہ حکمت مومن کی گم شدہ میراث ہے، جہاں سے بھی ملے وہ اسے لے لیتا ہے .... لیکن اس حدیث کا اطلاق ہم صرف غیروں پر کرتے ہیں، یورپی مفکروں کی کتابوں کو اپنے لیے جائز اور حلال قرار دینے کے لیے یہی حجت استعمال کرتے ہیں .... اگر نہیں کرتے تو اس حدیث کا اطلاق اپنے کلمہ گو بھائیوں پر نہیں کرتے۔ ایک اچھا کام، ایک اچھی بات، ایک اچھی تحریک اگر مجھ سے مختلف مکتبہِ فکر کے ہاں میسر آتی ہے، تو اسے میں اپنے لیے صرف اس لیے حرام سمجھ لیتا ہوں کہ یہ اس کے ہاں رائج ہے۔ تف ہے تعصب پر .... تف ہے فرقہ پرستی پر۔ ہم فقہی اختلاف کو دینی اختلاف سمجھ لیتے ہیں اور دوسروں کے کارہائے خیر کو خیر کی فہرست سے خارج کر دیتے ہیں۔ دراں حالے کہ مستند احادیث میں رقم ہے کہ علما کے درمیان اختلاف میری امت کے لیے رحمت ہے۔ اختلاف کیسے رحمت بنتا ہے، اس کی تفصیل کشف المحوب میں درج ہے .... یہاں وضاحت کی گنجائش نہیں۔ فقط اتنا بتا دیتا کافی ہے کہ معروف و منکرات کی تشریح میں ایک عالمِ دین کی طرف سے دی گئی گنجائش پر جب کوئی اُمّتی عمل کرتا ہے تو فوری فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کم اَز کم شریعت کے حصار سے باہر نہیں گرتا۔ ہم ایک دوسرے سے استفادہ کرنے کی بجائے استحصال کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں .... اور بہت جلد ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خود کو بھی آسانیوں سے محروم کر لیتے ہیں۔
اس فقیر نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، دینی جماعتوں اور تنظیموں کی طرف سے اسلامی نظام کا مطالبہ سنا ہے۔ ہمارے پڑوس نے اسلامی نظام نافذ کر کے دکھا دیا ہے، اور ہم ان سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ پچاس برس سے وہ لوگ طاغوتی نظام کے خلاف پامردی سے کھڑے ہیں۔ انہوں نے دین اور دنیا کو ہم آہنگ کر کے دکھا دیا ہے۔ وہاں جمہوریت ہے، لیکن مادر پدر آزاد نہیں۔ دینی بالادستی ہے لیکن فسطائیت نہیں۔ وہ دفاع سے لے کر دوائی تک خود کفیل ہیں، تعلیم سے لے کر کھیل تک جھنڈے گاڑتے چلے آئے ہیں۔ مغربی استعمار کی منت سماجت کیے بغیر ہی وہ اپنے ملک کا نظام چلا رہے ہیں .... اور بطریقِ احسن چلا رہے ہیں۔ وہاں پارلیمنٹ کے ستر فیصد سے زائد اراکین پی ایچ ڈی ہیں۔ خواتین میں تعلیم کی شرح ایشیا بھر میں سے زیادہ ہے۔ ہم سات سمندر پار سے مشاورت کرنے کو تیار ہیں اور پاس بیٹھے ہمسائے سے بیزار ہیں .... عجب بے قدری ہے .... عجب ناشناسی ہے!
مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے: اسلامی نظام تب نافذ ہو گا جب تمہارا ہیڈ آف سٹیٹ اور ہیڈ آف دین ایک ہی ہو گا۔ جب گورنر ہی بادشاہی مسجد میں نماز پڑھائے گا۔ آپؒ فرماتے کہ اسلامی نظام تب قائم ہو گا جب سربراہِ مملکت کا معیارِ زندگی ایک عام شہری کے معیار کے مطابق ہو جائے گا۔ مرشد کی باتیں یاد کرتا ہوں اور ورطہِ حیرت میں ڈوب جاتا ہوں۔ یہ باتیں ہمارے ایرانی بھائیوں نے اپنے ہاں نافذ کر کے دکھا دی ہیں۔ سچی بات ہے کہ سید علی خامنہ ای کی شہادت سے قبل ہمارے ہاں ان کے بارے میں معلومات بہت تھوڑی اور ادھوری تھیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں رہبر معظم ہی حکومت کے سپریم لیڈر ہیں اور وہی نماز پڑھا رہے ہیں۔ وہی دنیا کے بارے میں ہدایات جاری کر رہے ہیں اور وہی دین کی باتیں بتلا رہے ہیں۔ دین و دنیا کا فرق انہوں نے مٹا کر دکھا دیا۔ اب تک کے ایرانی صدور ہوں یا سپریم لیڈر، اُن کا رہن سہن ایک متوسط گھرانے کے رہن سہن کی طرح ہے۔ کسی پاس پرائیویٹ جیٹ یا مرسڈیز گاڑیوں کا فلیٹ نہیں۔ ان کا لباس عام اور کام خاص ہے۔ یہاں پھر مرشد کی ایک بات یاد آئی: ”ہم نے زندگی عام رکھنی ہے اور خیال عظیم رکھنا ہے“۔ عظمت کے یہ پیمانے وہاں پورے ہوتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کلامِ اقبالؒ کو اپنی زندگی میں ایسے نافذ کیا کہ انقلاب برپا کر کے دکھا دیا اور ہم ہیں کہ اقبال اور یومِ اقبال دونوں سے بیزار!
سیّد علی خامنہ ای فی الواقع سیّد ہیں، یعنی سردار ہیں .... صاحبِ کردار ہیں۔ ان کی ساری زندگی ان کے کردار کی شہادت دیتی ہے اور پھر یہ اہلِ یہود کے ہاتھوں شہادت ان کے علوی و حسینی کردار پر ایک مہرِ تصدیق ثبت کر دیتی ہے۔ مجھے یقین ہے، بوقت ضربت علیؓ کے اس بیٹے نے بھی نعرہ لگایا ہو گا ” اللہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا“۔ ان کی شہادت ایک کامل شہادت ہے۔ یہ باالجسم بھی ہے، بالرّوح بھی ہے اور بالنّفس بھی .... آپؒ نے داخل میں عدوّمّبین کے ساتھ جنگ کی اور فتحیاب ہوئے، اور خارج میں باطل قوتوں کے خلاف نبرد آزما رہے اور کامیاب ٹھہرے۔ ہمارے لیے یہ کارِ سعادت ہے کہ ہم اُن کی شہادت کی شہادت دے رہے ہیں۔

مزیدخبریں