پاکستان، دیوالیہ معیشت سے صلح سازی تک

09:03 AM, 25 Mar, 2026

وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ تاریخ کے اوراق پر کبھی مایوسی کی سیاہی گہری ہو جاتی ہے تو کبھی امید کی روشنائی اس پر نئی کہانیاں لکھنے لگتی ہے۔ قوموں کی زندگی بھی دریا کی مانند ہوتی ہے۔ کہیں سکوت، کہیں طغیانی، کہیں خشک کٹاو¿ اور کہیں موجوں کا شور۔ پاکستان کی داستان بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں کٹھنائیوں کے سنگلاخ پہاڑ بھی آئے اور عزت و توقیر کے ہمالیہ بھی سربلند ہوئے۔ لیکن پاکستان کا قافلہ ایک ایسے سفر میں رہا، جس میں گرد آلود راستوں سے گزرنے کے باوجود روشن افق تک پہنچنے کی تمنا کبھی مدھم نہ پڑی۔
ابھی کل کی بات لگتی ہے جب فضا میں افواہوں کا ایک ہجوم تھا۔ ہر سمت یہ صدا گونج رہی تھی کہ پاکستان معاشی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ اسے قرضوں کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ایک کمزور معیشت قرار دے رہے تھے۔ مہنگائی کا آسیب گھروں کے دروازوں پر دستک دیتا تھا۔ بجلی اور گیس کی بندشیں زندگی کے معمولات کو مفلوج کیے ہوئے تھیں۔ غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کسی ریت گھڑی کی مانند تیزی سے کم ہو رہے تھے۔ معیشت کا آسمان گہرے بادلوں میں گھرا تھا اور کہیں سے روشنی کی کوئی کرن نمودار نہیں ہو رہی تھی۔
یہی وہ وقت تھا جب سکیورٹی کے افق پر بھی اندھیری گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ دہشت گردی کے سائے شہر شہر پھیلے ہوئے تھے۔ سرحدوں پر تناو¿، اندرونی بے یقینی اور بیرونی دباو¿ نے اس سرزمین کو ایک کٹھن امتحان میں ڈال رکھا تھا۔ دشمن کمین گاہوں میں بیٹھا ہر لمحہ موقع کی تاک میں تھا۔ علاقائی اور عالمی مخالفین ہر فورم پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ یہ سرزمین گرداب میں پھنسی ایسی ناو¿ معلوم ہوتی تھی، جس کے بادباں پھٹ چکے اور پتوار ٹوٹ گئے ہوں۔
یہی نہیں، اس ملک نے ایک ہی زمانے میں دو بڑی جنگیں لڑیں۔ ایک جنگ دہشت گردی کے خلاف تھی، جس میں لہو کے چراغ جلے، جوانوں نے جانیں نچھاور کیں اور قوم نے اپنے آنسو ضبط کیے۔ دوسری جنگ معاشی بقا کی تھی، جہاں ہتھیار نہیں بلکہ فیصلے آزمائے جاتے ہیں، جہاں گولیاں نہیں بلکہ 
پالیسیوں کے تیر چلتے ہیں۔ ایسے میں کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہی ملک ایک دن عالمی طاقتوں کے درمیان صلح کی میز سجانے کی جرا¿ت کرے گا۔
مگر قدرت کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ عزت اور ذلت کے فیصلے زمینی ترازو پر نہیں ہوتے۔ جسے ربِ کائنات سر بلند کرنا چاہے، اسے کوئی جھکا نہیں سکتا۔ آج وہی پاکستان، جسے کل تک کمزور معیشت اور غیر مستحکم ریاست کہا جاتا تھا، عالمی سفارتکاری کے افق پر ایک نئے کردار کے ساتھ نمودار ہو رہا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ انکشاف کررہی ہے کہ پاکستان خود کو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اسرائیل کے تناظر میں بھی اس کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں۔ یہ ایک ایسا موڑ ہے جہاں تاریخ خود ٹھہر کر دیکھتی ہے کہ ایک کمزور سمجھے جانے والا ملک کس طرح اپنے اندر سے طاقت کے نئے سرچشمے تلاش کر لیتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو ہو یا وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ ہو، یہ سب اس بدلتے ہوئے منظرنامے کی نشانیاں ہیں۔ پس پردہ سفارتی رابطے، جن میں جیرڈ کشنر اور دیگر کردار شامل ہیں، اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ دنیا اب پاکستان کو محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک ایسے پل کے طور پر دیکھ رہی ہے جو امن تک پہنچنے کا واحد راستہ ہو۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر وہ کون سی قوت ہے جس نے اس ملک کو اس مقام تک پہنچایا؟ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ ہرگز نہیں۔ یہ دہائیوں کی محنت، قربانیوں اور حکمت عملی کا ثمر ہے۔ جغرافیہ نے پاکستان کو ایک ایسا مقام عطا کیا ہے جہاں مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے راستے آپس میں ملتے ہیں۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد، افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی اور بحر ہند کی وسعتیں۔۔۔۔ یہ سب پاکستان کو ایک ناگزیر حقیقت بنا دیتے ہیں۔
تاریخ اور ثقافت کے رشتے بھی کم اہم نہیں۔ ایران اور پاکستان کے درمیان صدیوں پر محیط تعلقات ایک ایسی بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں جس پر اعتماد کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سفارتکاری کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں تو یہی رشتے نئی راہیں کھولنے لگتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی عسکری قوت بھی اس کے وقار کا ایک اہم ستون ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے اسے ایک ایسا تجربہ دیا ہے جسے دنیا نظر انداز نہیں کر سکتی۔ یہ وہ تجربہ ہے جو امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح متوازن خارجہ پالیسی نے اسے کسی ایک بلاک کا اسیر بننے سے بچایا ہے۔ چین کے ساتھ اقتصادی روابط، خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون اور مغربی دنیا کے ساتھ مکالمہ۔۔۔۔ یہ سب مل کر پاکستان کوایک قابلِ اعتماد ثالث بناتے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں معاشی بحران نے پاکستان کی بنیادوں کو ہلایا مگر اصلاحات، عالمی تعاون اور داخلی عزم نے اسے سنبھالا دیا۔ آج یہ معیشت اگرچہ مکمل طور پر مستحکم نہیں مگر اتنی طاقتور ضرور ہے کہ سفارتی میدان میں اعتماد کے ساتھ قدم رکھ سکے۔
یہ تمام عوامل مل کر اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کا یہ عروج کسی جادو کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد کی داستان ہے۔ ایک ایسی داستان جس میں آزمائش بھی ہے اور استقامت بھی، زخم بھی ہیں اور مرہم بھی۔
آج اگر اسلام آباد میں امن یا صلح کی میز سجتی ہے تو یہ صرف دو ممالک کے درمیان مفاہمت نہیں ہوگی بلکہ یہ اس خطے کے لیے ایک نئی صبح کی نوید ہوگی۔ یہ اس بات کا اعلان ہوگا کہ مشکلات کے پہاڑ بھی عزم کی دھوپ میں پگھل سکتے ہیں۔
قارئین محترم! دنیا آج حیرت سے دیکھ رہی ہے کہ جس ملک کو کبھی ناکامی کی مثال کہا جاتا تھا، وہی اب امن کا پیامبر بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟ مگر شاید یہ معجزہ بھی اسی قوم کو نصیب ہوتا ہے جو آزمائشوں میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتی۔ اب ذمہ داری اس قوم اور قیادت پر ہے کہ وہ اس مقام کو سنبھالے۔ داخلی اتحاد کو مضبوط کرے، معیشت کو مستحکم بنائے اور اپنی سفارتی حکمت عملی کو مزید نکھارے۔ کیونکہ عزت کا سفر جتنا مشکل ہوتا ہے، اس کی حفاظت اس سے کہیں زیادہ دشوار ہوتی ہے۔

مزیدخبریں