دورِ جدید کے انسان نے ترقی کی وہ منازل طے کی ہیں کہ اگر چند صدیوں پہلے کا کوئی فرد کسی ٹائم مشین کے ذریعے آج کی دنیا میں آ جائے تو وہ حیرت زدہ رہ جائے۔ اسے یقین ہی نہ آئے کہ یہ اسی کی نسل ہے جس نے زمین و آسمان کے فاصلے سمیٹ دیئے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے جہاں زندگی کو بے شمار آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں اس نے انسان کے اندر ایک عجیب سی بے چینی بھی پیدا کر دی ہے۔ ترقی کی اس برق رفتار دوڑ میں انسان نے جہاں فلاح و بہبود کے در کھولے، وہیں تباہی کے ایسے اسباب بھی پیدا کیے جو لمحوں میں بستیوں کو مٹا سکتے ہیں۔ مگر شاید اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اس ترقی نے انسان کو خود اس کے اپنے وجود سے دور کر دیا ہے۔ زندگی اب ایک مشین کی مانند ہو چکی ہے، بے حس، بے ربط اور محض گردش میں۔
آج کے انسان کی سب سے بڑی پہچان شاید یہ جملہ بن چکا ہے۔”میرے پاس وقت نہیں ہے۔“
حالانکہ وقت ہمیشہ وہی تھا، ہے اور رہے گا۔فرق صرف ترجیحات کا ہے۔
اسی کیفیت کو مرزا غالب نے یوں بیان کیا:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے
یعنی انسان خواہشات اور مصروفیات کے ایسے جال میں الجھ چکا ہے کہ سکون اس کی دسترس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
اس مشینی زندگی کی ایک جھلک ایک دلچسپ واقعے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ عید کے روز حسبِ معمول بے شمار مبارکبادی پیغامات موصول ہوئے۔ان میں ایک پیغام میرے ایک قریبی دوست جو کہ اب اسلام آباد میں مقیم ہیں ان کا بھی تھا۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھا، بغیر پڑھے، ایک ہی جوابی پیغام سب کو ارسال کر رہا تھا،
”خیر مبارک، آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو بھی بہت بہت عید مبارک۔“
میرا آٹھ سالہ بیٹا پاس بیٹھا یہ سب بغور دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس نے کہا،
”ابا، یہ تو عیدالاضحیٰ کا پیغام ہے!“
میں نے چونک کر دوبارہ پیغام پڑھا تو واقعتا میرے دوست نے عیدالفطر پر عیدالاضحیٰ کی مبارکباد بھیج دی تھی۔ بے اختیار ہنسی نکل گئی۔ میں نے جواب میں لکھا،
”خیر مبارک، گوشت دینے کا ارادہ ہے؟“
چند لمحوں بعد دوست کا جواب آیا،
”آپ کو اس عید پر بھی گوشت چاہیے؟“
جب میں نے اسے اصل بات بتائی تو فوراً فون آیا۔ ہنستے ہوئے کہنے لگا:
”فاروق بھائی! میں نے یہی پیغام ساڑھے چار سو لوگوں کو بھیجا ہے، مگر صرف آپ نے پڑھنے کی زحمت کی ہے!“
یہ جملہ محض مزاح نہیں، بلکہ ہمارے عہد کا نوحہ ہے، جہاں ردِعمل باقی ہے، مگر توجہ مفقود ہو چکی ہے۔
اسی تناظر میں ایک اور واقعہ بھی قابل غور ہے۔ ایک ڈاکٹر صاحب کو عید کے دوسرے دن کسی نے پیغام بھیجا:
”ڈاکٹر صاحب! میرے بیٹے کو motion Loose ہو گئے ہیں، براہِ کرم فوراً رہنمائی فرمائیں۔“
ڈاکٹر صاحب، شاید اسی عجلت کے اسیر، فوراً جواب دیتے ہیں:
”خیر مبارک، آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو بھی عید مبارک!“
یہ صرف ایک غلطی نہیں، بلکہ ایک طرزِ زندگی کی علامت ہے۔ جہاں الفاظ موجود ہیں مگر مفہوم کھو چکا ہے اور جہاں رابطہ ہے مگر تعلق نہیں۔ رومی کا ایک قول اس صورتحال کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔
”بی خبر از خویش شدی، در طلبِ نان و آب
آن چہ تو را زندہ کند، از نظر انداختی“
(تو رزق کی تلاش میں خود سے ہی بے خبر ہو گیا، اور جو چیز تجھے حقیقتاً زندہ رکھتی ہے، اسے نظر انداز کر بیٹھا)
سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس وقت ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے وقت کو محسوس کرنا چھوڑ دیا ہے؟
ہمیں شاید رک کر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ اگر ترقی ہمیں احساسات سے دور کر دے، تو کیا یہ اصل ترقی کہلائے گی؟
کاپی پیسٹ اور عید
08:58 AM, 25 Mar, 2026