ایران کی خارجہ پالیسی میں بڑا یوٹرن؟ مجتبیٰ خامنہ ای کی امریکہ سے مذاکرات اور معاہدے کی مبینہ ہدایت

03:07 PM, 24 Mar, 2026

تل ابیب/تہران : مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادلوں کے درمیان ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے ملکی قیادت کو واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور نئے معاہدے کی باقاعدہ ہدایت دے دی ہے۔
اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای نے حالیہ علاقائی صورتحال، بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے ٹکراؤ اور آبنائے ہرمز کے تزویراتی خطرات کے پیشِ نظر تہران کو "حقیقت پسندانہ" پالیسی اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔ اس نئی سمت کا مقصد براہِ راست یا بالواسطہ رابطوں کے ذریعے ایران پر بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی حکومت کے اندر سخت گیر اور سفارتی دھڑوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ رہبرِ اعلیٰ کے اس مبینہ بیان کو تہران میں موجود مذاکرات کے حامی گروہ کی بڑی کامیابی اور ان کی پوزیشن کی مضبوطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ اسرائیلی میڈیا اس دعوے کو خطے کے لیے گیم چینجر قرار دے رہا ہے، تاہم تہران کی جانب سے اب تک ان خبروں کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پیش رفت درست ہے، تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

مزیدخبریں