تمہارے بغیر ہماری یہ پہلی عید تھی، عید کیا ہونی ہے محرم سی سوگواری پورے گھر پر طاری تھی، جب سے تم گئے ہو تمہاری ماں کی صحت دن بہ دن گرتی جا رہی ہے، وہ اب بہت کم کسی سے بات کرتی ہے، بس دیواروں کو گُھورتی رہتی ہے، تمہاری دادو کی حالت بھی ایسی ہی ہے، میں نے بھی بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا ہوا ہے، تمہارے جانے کے بعد سے لے کے اب تک غم کا ایک آنسو اپنی آنکھوں سے میں نے ٹپکنے نہیں دیا، البتہ اُس روز میں اپنے آنسوو¿ں پر قابو نہیں پا سکا جب تمہارے اصل قاتل کی ضمانت خارج ہوئی، مگر یہ شُکرانے کے آنسو تھے، پاکستان کے ظالمانہ اور منافقانہ نظام کے مطابق سب مجھ سے کہتے تھے ”تمہارا اصل قاتل بہت طاقتور ہے، اُس کی فیملی کا باقاعدہ ایک کریمینل ریکارڈ ہے، لاہور کے ایک عہدے کے اعلیٰ کردار کے انتہائی گھٹیا پراپرٹی پسند پولیس افسر سے اُن کے ذاتی و کاروباری روابط ہیں، سیاسی حوالے سے بھی اُن کا اچھا خاصا اثر و رسوخ ہے، سسٹم مکمل طور پر اُن کی گرفت میں ہے چنانچہ اُس کا گرفتار ہونا ناممکن ہے، ایسی تمام باتیں میں ایک کان سے سُن کر دوسرے سے نکال دیتا تھا، کیونکہ میرا ایمان اُس اللہ پر ہے جو چیونٹی سے ہاتھی کو اور چڑیوں سے باز مروا دیتا ہے، تم میرے اکلوتے بیٹے تھے تمہارے جانے سے میرے دُنیا ویران ہو گئی ہے، مگر میں نے اسے اللہ کی رضا سمجھ کر اپنی الگ ایک دُنیا آباد کر لی ہے، تمہاری میت پر سب دھاڑیں مار مار کے رو رہے تھے، میں چُپ تھا، میں اُس وقت بھی نہیں رویا جب تم لہو لہان میری آنکھوں کے سامنے دم توڑ گئے، میں اُس وقت بھی نہیں رویا جب تمہاری میت کو غسل دیا جا رہا تھا، میں تمہارے زخموں سے بہتے ہوئے لہو کو دیکھ کر بھی نہیں رویا، تمہارا آخری دیدار کرتے ہوئے تمہارے سب دوست، سب عزیز و اقارب، تمہارے چچا عمر رشید جنہیں پیار سے تم ”بابو جی“ کہتے تھے سب رو رہے تھے، میں چُپ تھا، تمارے بہترین دوست، کزن اور بہنوئی رحمت اللہ پر الگ سکتہ طاری تھا، میں اُن سب کو سنبھال رہا تھا، میں نہیں رویا، جب تمہارا جنازہ اُٹھایا گیا ایک کہرام برپا تھا، میں نہیں رویا، جب تمہاری میت کو لحد میں اُتارا جا رہا تھا، میں نہیں رویا، جب منوں مٹی تم پر ڈالی جا رہی تھی، میں نہیں رویا، مختلف اینکرز تمہارے بارے میں مجھ سے بات کرتے ہوئے زار و قطار روئے، میں نہیں رویا، تمہیں اللہ کے سپرد کر کے گھر واپس آیا، تمہاری ماں تمہاری بہن تمہاری دادو کی حالت غیر دیکھ کر بھی نہیں رویا، تمہارے اکلوتے اڑھائی سالہ بیٹے یوسف نے مجھ سے پوچھا ”سب کیوں رو رہے ہیں؟“، میں پھر بھی نہیں رویا، اُس نے اپنے ننھے مُنے ہاتھوں سے میرے دونوں گال پکڑ کر مجھ سے پوچھا ”میرے بابا گھر کب آئیں گے؟“ میں نہیں رویا، اس لیے نہیں رویا میں نے تمہاری موت کو اللہ کی رضا سمجھ کر صدق دل سے قبول کر لیا تھا، مگر احمد میں تمہیں بتاو¿ں اندر سے میں ٹُوٹ چکا ہوں، اب صرف اتنی طاقت اللہ نے مجھے عطا کر رکھی ہے میں تمہارے قاتلوں سے مقابلہ کر سکوں، اُنہیں قانون کے شکنجے میں لا سکوں، کچھ لوگ اُن کے لیے معافی تلافی کی بات کرتے ہیں میں اُن سے کہتا ہوں ”معافی تلافی کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہو گا اُنہیں مزید بے گناہوں کو قتل کرنے کا لائسنس دے دیا جائے“۔ میں تمہارا قتل شاید معاف کر دیتا مگر تمہارے گھٹیا قاتلوں نے اپنے کچھ لعنتی ملازموں کے ذریعے تمہاری جو کردار کشی کرائی اُسے شاید کبھی معاف نہیں کر سکتا، تمہارے قاتلوں کے کچھ دیرینہ دُشمن میرے پاس آئے تھے، وہ مجھ سے کہنے لگے ”آپ ہمارا ساتھ دیں ہم مل کر بدلہ لیتے ہیں“، میں نے اُن سے کہا ”میں گھٹیا دُشمن نہیں ہوں، آپ اپنی لڑائی لڑیں مجھے قانون کے مطابق اپنی لڑنے دیں“، احمد تمہاری موت کو اللہ کی رضا سمجھ کر صبر شُکر کرنے کا نتیجہ یہ نکلا اللہ کی غیبی مدد مجھ تک پہنچی، سسٹم پر حاوی جو لوگ قاتلوں کو سپورٹ کر رہے تھے وہ مجھے کرنے لگے، اللہ نے انصاف کے حصول کا ہر بند دروازہ مجھ پر کھول دیا، ایسے ایسے ”نامعلوم مقام“ سے مجھے مدد آئی جس کا تصور بھی میں نے نہیں کیا تھا، مجھے نہیں معلوم آگے چل کر کیا ہو گا مگر جو پیچھے ہوا ہے اُس پر میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے، میں انصاف کے حصول کی آخری حد تک جاو¿ں گا، احمد بیٹا کسی روز میرے خواب میں آو¿، بیٹھ کر کچھ ایسی باتیں کر لیں جو تماری زندگی میں تم سے میں نہیں کر سکا، میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں تمہارے قاتلوں سے نمٹنے کے لیے کیسے کیسے عظیم لوگوں نے میری مدد کی، تم اللہ کے پاس ہو، تم اُن سب کے لیے اجر عظیم مانگنا، پچھلے دنوں تمہاری دادو واش رُوم میں گر گئی تھی، اُس روز تمہیں یاد کر کے ایک بار پھر وہ بہت روئی، اُنہیں وہ وقت یاد آ گیا جب ایک بار ایسے ہی وہ گری تم نے اُنہیں سنبھالا دیا تھا، تم ساری رات اُن کے پاس بیٹھے رہے تھے، تماری ماں تماری دادو تمہاری بہن تمہاری بیوی سب مجھ سے گلہ کرتے ہیں میں اُن سب کے پاس کیوں نہیں بیٹھتا؟ میں اس لیے اُن کے پاس نہیں بیٹھتا وہ سب تمہیں یاد کر کر کے زار و قطار روتی ہیں، مجھ سے نہیں دیکھا جاتا، میں ڈرتا ہوں اُنہیں روتا دیکھ کر میں خود بھی نہ رو پڑوں، تمہارے جانے کے بعد گھر کا پتا پتا بُوٹا بُوٹا سوگوار ہے، تمہارے گارڈز اب زیادہ بات نہیں کرتے، چُپ رہتے ہیں، میں اُن کی ویسی خدمت نہیں کر سکتا جیسی تم کرتے تھے، تم اُن کے لیے بھی ویسا کھانا منگواتے تھے جیسا اپنے لیے منگواتے تھے، اُن کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے تھے، تمہارے ساتھ اُن کی محبت کا یہ عالم تھا وہ عید پر بھی تمہیں چھوڑ کر گھر نہیں جاتے تھے، اس بار بھی نہیں جا رہے تھے، میں نے اُنہیں زبردستی بھیجا، میں نے اُن سے پوچھا ”اب تو احمد نہیں ہے اب تم کیوں نہیں جاتے؟“، وہ بولے ”اب یوسف ہمارا احمد ہے“، ہاں یاد آیا جب بھی گھر سے باہر گیٹ پر کسی گاڑی کا ہارن بجتا ہے یوسف گھر کے جس کونے میں بھی ہوتا ہے بھاگ کر گیٹ کی طرف جاتا ہے، کہتا ہے پاپا آ گئے پاپا آ گئے، مگر تم نہیں آتے وہ سوگوار ہو کر واپس اندر آ جاتا ہے، تمہیں پتہ ہے یوسف مجھے دادا کہنے کے بجائے ”عادل صاحب“ کہہ کے بُلاتا ہے، سب سے بڑی مُشکل مجھے یہ درپیش ہے وہ بار بار مجھ سے پوچھتا ہے ”عادل صاحب میرے پاپا گھر کب آئیں گے؟“، میں اُس کے اس سوال کا جواب نہیں دے پاتا، میں کتنا بدقسمت ہوں میں اُس کے لیے جان دے سکتا ہوں، اُس پر اپنا سب کچھ قُربان کر سکتا ہوں مگر اُس کی یہ واحد فرمائش ہے جو میں پوری نہیں کر سکتا، میں تمہیں واپس نہیں لا سکتا، نہیں لا سکتا۔
عادل رشید بنام احمد جاوید
09:04 AM, 24 Mar, 2026