امریکہ - اسرائیل کی ایران کیخلاف جنگ کا نتیجہ ضرور نکلے گا

09:04 AM, 24 Mar, 2026

امریکہ -اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ 2026 عالمی سیاست، معیشت اور طاقت کے توازن کو بدلنے والی ایک بڑی پیش رفت بن چکی ہے۔ یہ محض علاقائی تنازع نہیں بلکہ وسیع جیوپولیٹیکل تصادم کی شکل اختیار کر چکا ہے جسکے اثرات مشرق وسطیٰ سے نکل کر ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت تک تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اس جنگ نے نہ صرف خطے میں عدم استحکام بڑھایا ہے بلکہ بڑی طاقتوں کے درمیان نئی صف بندیوں کو بھی جنم دیا ہے جن میں چین، روس اور پاکستان کے کردار کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔جنگ کا آغاز 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ قیادت کی شہادت اور عسکری و سٹرٹیجک اہداف پر حملوں سے ہوا جسکا مقصد ایران میں رجیم تبدیل کرنا, اسکی دفاعی صلاحیت کو انتہائی کمزور کرنا اور اسکے اثر و رسوخ کو بے حد محدود کرنا تھا۔ ان مقاصد کے جواب میں ایران نے مزاحمت کرتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے نہ صرف اسرائیل بلکہ خلیج میں موجود امریکی مفادات کو ٹھیک ٹھاک نشانہ بنایا۔ اسطرح یہ تنازع محدود جھڑپ سے نکل کر طویل اور پیچیدہ جنگ میں تبدیل ہو گیا جسمیں امریکہ اور اسرائیل کو ابتک کامیابی نہیں مل سکی۔
چین اس جنگ میں محتاط اور متوازن حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ چین امریکہ کی مشرق وسطیٰ اور خلیج میں عسکری انگیجمنٹ کو اپنے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھتا ہے کیونکہ اس سے اسے ایشیا میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنیکا موقع مل رہا ہے دوسری طرف چین توانائی کی فراہمی کے حوالے سے شدید خدشات کا شکار بھی ہے۔ چین کی معیشت کا بڑا انحصار خلیجی تیل پر ہے۔ آبنائے ہرمز میں خلل پیدا ہوتا ہے تو اسکے صنعتی اور تجارتی نظام کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ چین کو یہ فائدہ بھی حاصل ہو رہا ہے کہ وہ ایران سے رعایتی نرخوں پر تیل حاصل کر رہا ہے اور عالمی سطح پر خود کو ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ چین اور ایران کے درمیان تعلقات اچھے ہیں اس لئے تاحال چین کو ایران سے تیل کے حصول میں کوئی مشکل نہیں۔روس کیلئے یہ جنگ ایک سٹرٹیجک موقع بن کر سامنے آئی ہے۔ روس کی تو چاندی ہوگئی ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے روسی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ امریکہ کی توجہ مشرق وسطیٰ کی طرف منتقل ہونے سے روس کو یورپ اور یوکرین کے محاذ پر ریلیف ملا ہے۔ روس مکمل طور پر بے فکر نہیں ہے۔ اگر ایران اس جنگ میں کمزور ہوتا ہے تو روس کا ایک اہم علاقائی اتحادی بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ جنگ کے پھیلاو¿ سے وسطی ایشیا میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے جو روس کیلئے نیا چیلنج بن سکتا ہے۔ اس صورتحال میں روس چین اور بھارت سمیت دیگر ممالک کو تیل و گیس فروخت کرکے سب سے زیادہ منافع کما رہا ہے۔ 
چین اور روس اس جنگ کے اصل بینیفشری ہیں۔ انہیں قلیل مدت میں معاشی اور اسٹریٹیجک فوائد حاصل ہو رہے ہیں لیکن طویل مدت میں عالمی عدم استحکام، توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاو¿ اور سپلائی چین کی رکاوٹیں ان کیلئے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس لیے انہیں مکمل فاتح قرار دینا قبل از وقت ہوگا کیونکہ اس جنگ کے اثرات ہر بڑی طاقت کو متاثر کریں گے۔پاکستان اس صورتحال میں نازک پوزیشن پر کھڑا ہے۔ ایک طرف اسے ایران کے ساتھ اپنی سرحدی سلامتی کے مسائل کا سامنا ہے دوسری طرف بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں اسکی پہلے سے کمزور معیشت پر مزید دباو¿ ڈال رہی ہیں۔ اسکے علاوہ داخلی سکیورٹی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں کیونکہ علاقائی کشیدگی کا اثر پاکستان کے اندرونی حالات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ پاکستان سفارتی سطح پر ثالثی کا کردار ادا کر کے اپنی عالمی اہمیت کو بڑھا اور چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ ایران کیلئے روس اور چین کا بالواسطہ تعاون موجود ہے جس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، تکنیکی مدد اور محدود دفاعی سپورٹ شامل ہے۔ یہ مدد براہ راست جنگ میں شمولیت کے مترادف نہیں بلکہ محتاط سٹرٹیجک سپورٹ ہے۔ پاکستان نے غیر جانبداری اختیار کی ہے اور کسی بھی قسم کی عسکری مدد سے گریز کیا ہے جو اسکی متوازن خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
 ایران نے شدید دباو¿ کے باوجود اپنی ریاستی ساخت کو کامیابی سے برقرار رکھ کر دشمنوں کیخلاف بھرپور جوابی کارروائی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسکے برعکس امریکہ اور اسرائیل کو عسکری برتری کے باوجود ایرانی حکومت کی تبدیلی میں بے حد مشکلات کا سامنا ہے۔ ابتک ایران کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اسکا انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا ہے لیکن اس نقصان کے علاوہ امریکہ اور اسرائیل کوئی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ایرانی کارروائیوں سے خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اسرائیل کو نشانہ بنا کر ایران کا پلڑا بھاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا تن تنہا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہی ایران کی بہت بڑی فتح ہے۔ ایران کے انتہائی موثر جواب نے امریکی اور اسرائیلی طاقتوں کے ناقابل تسخیر ہونے کے تصور کو پاش پاش کر کے رکھ دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو ٹیکنالوجی اور جدید اسلحے میں برتری حاصل ہے جبکہ ایران کو جغرافیائی برتری اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کا فائدہ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جنگ ایک تعطل (stalemate) کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں فی الحال امریکہ اور اسرائیل فتح حاصل کرنے کے قریب نہیں۔اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل جیت گئے تو ایران کا بطور علاقائی عسکری طاقت خطے میں دبدبہ اور اثر و رسوخ ختم ہو کر رہ جائے گا اور امریکہ اور اسرائیل بحرین, قطر, کویت, یو اے ای اور سعودی عرب پر اپنی عسکری قوت مزید مضبوط کر لیں گے۔ اگر ایران جیت گیا تو خطے کے انہی ممالک پر ایران کا دباو¿ مزید بڑھ جائے گا۔ اور وہ مستقبل میں امریکہ اور اسرائیل کیلئے بڑا چیلنج بن کر ابھرے گا۔ جنگ اب نہیں تو کبھی نہیں والے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران کا نظام رہیگا یا امریکہ اور اسرائیل کا۔ اب فیصلہ ہو کے رہے گا۔
فریقین کے مابین کسی محدود معاہدے کی صورت میں بھی ایران کا پلڑا بھاری رہے گا۔ خطے میں عدم استحکام طویل عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ایک نیا طاقت کا توازن ابھر سکتا ہے جہاں امریکہ کی اجارہ داری کو سنگین چیلنج درپیش ہوگا اور چین و روس کا کردار مزید مضبوط ہو کر سامنے آئے گا۔ اس جنگ کا واضح فاتح ہی دنیا پر اثر انداز ہوگا۔ خطے میں عدم استحکام مزید بڑھا تو چین اور روس وقتی طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر طویل مدت میں وہ بھی اس عدم استحکام سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال زیادہ خطرات اور محدود مواقع لیکر آئی ہے جسمیں محتاط اور متوازن پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔ اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان عالمی امن اور استحکام کو پہنچ رہا ہے۔ تنازع طول پکڑتا ہے تو اسکے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

مزیدخبریں