تاریخ کے جھروکوں سے جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو صدیوں کا رخ متعین کر دیتے ہیں۔ آج عالمِ اسلام ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف داخلی خلفشار، سرحدوں کی کشیدگی اور باہمی بے اعتمادی کی دھند ہے، تو دوسری طرف اتحاد، یگانگت اور ایک طاقتور بلاک بن کر ابھرنے کا سنہری موقع۔ اس تناظر میں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کو باہمی تعلقات بہتر بنانے کی اپیل اور ثالثی کی پیشکش محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے زخمی بدن پر مرہم رکھنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ ایرانی قیادت کا یہ کہنا کہ ”ہم اپنے مشرقی ہمسایہ ممالک کو اپنے بہت قریب سمجھتے ہیں“ اور یہ مطالبہ کہ ”برادر ممالک لڑائی ختم کریں، ہم تعاون کے لیے تیار ہیں“، ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے جسے ہم اکثر سیاسی مصلحتوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان محض دو پڑوسی ممالک نہیں ہیں، بلکہ ان کا رشتہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر استوار وہ رشتہ ہے جس کی جڑیں تاریخ، ثقافت، مذہب اور جغرافیے میں بہت گہری ہیں۔ ان دو ممالک کے درمیان کھینچی گئی لکیریں کبھی ان کے دلوں کو جدا نہیں کر سکیں، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے جاری سرد مہری اور سرحدی تنازعات نے دشمنوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کی اس پکار کو سراہنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ انہوں نے کسی بیرونی طاقت کی مداخلت کے بجائے ”گھر کے معاملے کو گھر میں حل کرنے“ کی بات کی ہے۔ یہ ایک پختہ سیاسی اور اسلامی فکر کی عکاسی ہے کہ مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لیے واشنگٹن، لندن یا پیرس کی طرف دیکھنے کے بجائے تہران، کابل اور اسلام آباد کے درمیان مکالمے کی راہ ہموار کریں۔ جب خامنہ ای کہتے ہیں کہ ”میں خود ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہوں“، تو یہ ایک بھائی کا وہ کردار ہے جو بکھرتے ہوئے خاندان کو اکٹھا کرنے کے لیے تڑپ رہا ہو۔ آج امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی قوت کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ دشمن کی ”تقسیم کرو اور راج کرو“ کی پالیسی آج بھی اتنی ہی کارگر ہے جتنی سو سال پہلے تھی۔ عالمِ اسلام کے پاس وسائل کی کمی نہیں، افرادی قوت کی کمی نہیں اور نہ ہی جذبے کی کمی ہے؛ اگر کمی ہے تو صرف ایک ”مشترکہ وژن“ اور ”باہمی اعتماد“ کی۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج، جن کے سربراہان نے حال ہی میں عید کے موقع پر اتحاد اور ہمدردی کا پیغام دیا، اور افغانستان کی غیور عوام، اگر یہ دونوں مل کر ایران کے ساتھ ایک مضبوط تکون تشکیل دیں، تو یہ خطہ دنیا کا معاشی اور دفاعی مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا فائدہ نہ اسلام آباد کو ہے اور نہ کابل کو۔ اس کا فائدہ صرف ان قوتوں کو ہے جو اس خطے میں بدامنی دیکھنا چاہتی ہیں تاکہ ان کا اسلحہ بکتا رہے اور ان کا اثر و رسوخ قائم رہے۔ ایران کی جانب سے بڑھایا گیا یہ ہاتھ دراصل اس خلیج کو پاٹنے کی کوشش ہے جسے سازشوں کے ذریعے وسیع کیا گیا ہے۔ یہ وقت الزامات کی سیاست کا نہیں بلکہ اعترافِ حقیقت کا ہے۔ ہمیں ماننا ہو گا کہ ایک کا امن دوسرے کے امن سے وابستہ ہے۔ اگر کابل میں آگ لگے گی تو اس کی تپش اسلام آباد محسوس کرے گا، اور اگر پاکستان عدم استحکام کا شکار ہو گا تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آئے گا۔ عالمِ اسلام کے دانشوروں، حکمرانوں اور عوام کو اب اس فکر کی طرف راغب ہونا ہو گا کہ ”جاگیں، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے“۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، نئے عالمی بلاکس بن رہے ہیں، معاشی جنگیں لڑی جا رہی ہیں اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں وہی قومیں زندہ رہیں گی جو متحد ہوں گی۔ اگر ہم آج بھی سرحدوں پر الجھتے رہے، اگر ہم نے آج بھی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ روکی، تو تاریخ ہمیں ایک ایسی بکھری ہوئی بھیڑ کے طور پر یاد رکھے گی جس کا اپنا کوئی چرواہا نہ تھا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی یہ اپیل دراصل ایک انتباہ بھی ہے اور ایک نوید بھی۔ انتباہ اس لیے کہ وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے، اور نوید اس لیے کہ اب بھی واپسی کا راستہ کھلا ہے۔ پاکستان، افغانستان اور ایران کا اتحاد صرف ان تین ممالک کی بقا کی ضمانت نہیں بلکہ یہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے لیے امن کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس عید الفطر کے موقع پر، جہاں ہم خوشیاں منا رہے ہیں، وہیں ہمیں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم ان دیواروں کو گرائیں گے جو ہمیں ایک دوسرے سے دور کرتی ہیں۔ ہمیں ایک ایسی ”اسلامی کنفیڈریشن“ یا کم از کم ایک ایسا ”مضبوط دفاعی و معاشی بلاک“ بننا ہو گا جہاں ایک مسلمان کا پسینہ گرے تو دوسرے کو تکلیف ہو۔ ہمیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہو گا۔ ایرانی قیادت کے اس مثبت اقدام کا جواب اسی جوش و جذبے اور خلوص سے دیا جانا چاہیے۔ کابل اور اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ اس پیشکش کا خیر مقدم کریں اور میز پر بیٹھ کر تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کریں۔ یاد رکھیں، مکالمہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو جنگوں کو روکتا ہے اور امن کے چراغ روشن کرتا ہے۔ آخر میں، عالمِ اسلام کے لیے پیغام یہی ہے کہ اتحاد کوئی انتخاب نہیں بلکہ ہماری ضرورت ہے۔ دشمن ہماری دہلیز پر کھڑا ہے، ہماری معیشتیں دباو¿ میں ہیں اور ہماری نسلیں ہم سے سوال کر رہی ہیں۔ آو¿ اس سے پہلے کہ وقت کی گرد ہمیں دھندلا دے، ہم ایک ہو جائیں۔ کیونکہ اگر ہم ایک نہ ہوئے تو باری باری سب کا صفایا کر دیا جائے گا۔ تہران سے اٹھنے والی یہ صدا دراصل ایک پکار ہے: ”ایک ہو جا، کہ یہی تمہاری بقا ہے!“۔
اتحادِ امت کی پکار: جاگیں اس سے پہلے دیر ہو جائے
09:01 AM, 24 Mar, 2026