ایران بمقابلہ خلیجی ریاستیں اور سعودی عرب....!

09:04 AM, 24 Mar, 2026

امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر یلغارکو تئیس، چوبیس دن گزر چکے ہیں ۔ اس دوران بڑی تباہی اور بربادی کا سامنا کرنے کے باوجود ایران کی طرف سے بلا شبہ انتہائی مستقل مزاجی اور ثابت قدمی کے ساتھ بھرپور مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایران میں اہم عسکری تنصیبات ، اصفہان کے جوہری مراکز، تیل ڈپوﺅں، جنگی کشتیوں، ڈرونز اور میزائلوں کے لانچرز اور اڈوں کو تباہ کن بمباری اور میزائل حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ایران میں تہران اور اصفہان جیسے شہروں میں عسکری تنصیبات ملبے کے ڈھیروں اور تیل کے ڈپو آگ اور دھوئیں بادلوں میں تبدیل ہو چکے ہیں تو ایران کا تیل کا اہم ترین مرکز جزیرہ خارگ بھی آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ ایران کی طرف سے بھی اسرائیل کے دارالحکومت تل ایبب اور دوسرے اہم شہروںجن میں اُس کا جنوبی شہر ڈیمونا کا نیوکلیئر ریسرچ سنٹر اور عراد جیسے شہر شامل ہیں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈیمونا اور عراد پر ایرانی میزائلوں کے کامیاب حملوں سے اسرائیل کی چیخیں ہی نہیں نکلی ہیں بلکہ اُس کے کئی درجن افراد ہلاک اور کم از کم ایک سو پچاس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ایران کی طرف سے خلیج کی ریاستوں میں امریکی اڈوں، تیل کے ڈپوﺅں ، بندرگاہوں اور فضائی اڈوں کو ڈرونز اور میزائل حملوں سے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔قطر میں قدرتی گیس کی سپلائی کا دُنیا کا سب سے بڑا مرکز تباہی اور بربادی کا نشانہ بن چکا ہے اور اسے بحال ہونے یا کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیںتو سعودی عرب میں ریاض اور کئی دوسرے شہروں اور تیل کی سپلائی کی مشرقی بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں دوبئی کے ہوائی اڈے کی تنصیبات ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن رہی ہیں تو اس کی بندرگاہ فجیرہ میں تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ جہاں سے بحری جہاز ایندھن کے طور پر تیل بھرتے ہیں آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ عمان میں صلالہ کی بندرگاہ پر تیل کے ڈپو بھی خاکستر ہو چکے ہیں ۔
ایران ، خلیج کی ریاستوں اور اسرائیل میں جنگ کی یہ صورتحال ایسی ہے جو لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتی رہتی ہے کہ فریقین کے ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرونز حملوں اور بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن امریکہ بہادر جو اس جنگ کا ایک اہم ترین فریق ہے اس کے اس لحاظ سے وارے نیارے ہیں کہ ہزاروں کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہونے کی وجہ سے وہ اس طرح کی براہ راست تباہی اور بربادی سے بچا ہوا ہے۔ تاہم اُس کے جنگی نقصانات، طیاروں کی تباہی اور جنگ پر اُٹھنے والے اخراجات کچھ کم نہیں ہیں۔ بلا شبہ وہ اربوں ڈالر کا اسلحہ اس جنگ میں جھونک چکا ہے تو اُس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئے روز کی دھمکیاں اس پر مستزاد ہیں۔ ڈونلڈ 
ٹرمپ ایک طرف اپنے حلیف ممالک اور نیٹو اتحادیوں کو طعنے دیتا ہے کہ وہ بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں اُس کی مدد نہیں کی تو دوسری طرف اُس نے ایران کو تازہ ترین دھمکی دی ہے کہ وہ اگلے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو کھول دے ورنہ وہ ایران کے بڑے پاور پلانٹس کو مرحلہ وار نشانہ بنائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دی جانے والی اس خوفناک دھمکی کے ساتھ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے اپنے جنوبی شہروں ڈیمونا اور عراد پر کامیاب ایرانی حملوں کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کے لئے اگرچہ یہ ایک مشکل شام ہے لیکن اس کے باوجود ایران پر حملے جاری رہیں گے کہ یہ ہمارے مستقبل کی جنگ ہے۔ دوسری طرف ایران کی اعلیٰ ترین قیادت بالخصوص سپریم کمانڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی طرف سے اگرچہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی بات کی گئی ہے لیکن وہاں کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ایران کا فوجی نظریہ دفاع سے بدل کر جارحانہ جنگ کا ہوچکا ہے۔ اسرائیلی اور امریکی حکام اب دُنیا بھر میں کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں اور ایران کے دشمنوں کو عالمی سطح پر عدم ِ تحفظ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دشمن کے سرنڈر تک جنگ جاری رہے گی۔ ایران کے صدر مسعود پز شکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے اور جب تک ضروری ہو گا ہم دفاعی اقدامات کرتے رہیں گے۔ 
امریکہ ، اسرائیل اور ایران کے اعلیٰ عسکری و حکومتی قائدین کے یہ بیانات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے اور جواب میں ایران کی طرف سے اسرائیل کو نشانہ بنانے اور ہمسایہ خلیج کی ریاستوں اور سعودی عرب میں امریکی اڈوں ، فوجی مراکز اور دوسرے مقامات کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ جلد ختم ہونے والا نہیں ہے۔ ہاں البتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی حماقت کا ارتکاب کرتے ہوئے جیسے انہوں نے دعویٰ کر رکھا ہے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے عجلت میں کسی بڑی جنگی کارروائی یا خطرناک حملے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو پھر کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ صورتحال کیا رُخ اختیار کرے۔ تاہم ایک بات واضح طور پر سامنے آ چکی ہے کہ ایران اور سعودی عرب سمیت ہمسایہ خلیجی ریاستوں جو تمام اسلامی ممالک ہیں کے درمیان اختلافات بلکہ دشمنی کی ایسی خلیج پروان چڑھ چکی ہے جس کا مستقبل قریب میں ختم ہونا یا مٹانا آسان نہیں ہو گا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ اسرائیل اور امریکہ بمقابلہ ایران جنگ کی تازہ ترین معروضی صورتحال اور اس کے ساتھ ایران کی طرف سے سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کو اپنے میزائل اور ڈرونز حملوں کا نشانہ بنانا اس نہج پر پہنچ چکا ہے جو پورے عالمِ اسلام بالخصوص پاکستان کے لئے انتہائی پریشانی کا باعث ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ہمیشہ سے یہ دلی خواہش رہی ہے کہ ایران اور اُس کی پڑوسی عرب ریاستیں باہمی برسرِ پیکار رہیں اس کے لئے وہ کئی طرح کے شوشے ہی نہیں چھوڑتے رہے ہیں بلکہ اقدامات بھی کرتے رہے ہیں۔ پھر ایران کی اپنی پالیسیاں بھی ایسی رہی ہیںکہ اُسے عرب ممالک میں پراکسیز کا شوق رہا ہے۔ ایک طرف وہ لبنان اور فلسطین میں حزب اللہ اور حماس کی حمایت کر کے انہیں اسرائیل پر حملوں میں اُکساتا رہا ہے اور دوسری طرف اُس نے شام اور یمن میں بھی باغی گروپوں کی حمایت کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا ہے ۔ اسی طرح ایران یمن میں سعودی عرب کے مقابلے میں ہمیشہ سے حوثی باغیوں کی حمایت کرتا رہا ہے ۔اب اُس نے اپنی پڑوسی عرب ریاستوں اور سعودی عرب پر ان ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے موجود ہونے کی آڑ میں ڈورن اور میزائل حملوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے بلا شبہ اس نے صورتحال کو اور بھی گمبھیر اور پریشان کن بنا دیا ہے۔ پاکستان کے لئے یہ صورتحال انتہائی پریشان کن اور تکلیف دہ ہے۔ ایک طرف اندرونِ ملک اُسے دہشت گردی اور افغانستان میں طالبان رجیم اور وہاں موجود تحریکِ طالبانِ پاکستان کے فتنہ الہندوستان کے خارجیوں کی دہشت گردی کا سامنا ہے تو دوسری طرف دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کی معاشی اور اقتصادی مشکلات میں بھی اضافہ ہو چکا ہے اس سے بڑھ کر ایران کی طرف سے ہمسایہ خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب پر حملوں نے پاکستان کی مشکلات کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بندھن میں بندھا ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان میں سے کسی بھی ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایران سعودی عرب پر حملہ آور ہو یا اُس کے کسی ہوائی اڈے کو نشانہ بنائے تو پاکستان خاموش رہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پچھلے دنوں سعودی عرب کے چند گھنٹوں کے ہنگامی دورے پر تشریف لے گئے تو انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کی صورت میں اُس کا پورا پورا ساتھ دیں گے۔ دیکھا جائے تو پاکستان حتی الوسع پوری کوشش کر رہا ہے کہ سعودی عرب اُس سے راضی رہے تو ایران بھی اُس سے ناراض نہ ہونے پائے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کے ایران کے اقدامات پاکستان کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔

مزیدخبریں