عیدالفطر اس بار بھی ہمیشہ کی طرح مذہبی عقیدت و احترام اور روایتی جوش وجذبے سے منائی گئی اور ہمیشہ ہی کی طرح کئی مسائل کی زد میں بھی رہی۔ پہلا مسئلہ تو رویت ہلال ہی کا تھا جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں تین دن عید منائی گئی۔ افغانستان میں جمعرات، سعودی عرب، خلیجی ممالک، براعظم یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں جمعہ اور پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا سمیت چند دیگر ملکوں میں ہفتہ کے روز منائی گئی۔
رویت ہلال کا مسئلہ دیرینہ ہے اور اس کے حل کی تمام تر کوششوں کے باوجود ہنوز ایک عقدئہ لاینحل نظر آتا ہے حالانکہ آج کے جدید، ترقی یافتہ اور سائنسی دور میں اسے مسئلہ رہنا نہیں چاہیے، پوری دنیا کو ایک دن عید منانے پر متفق ہو جانا چاہیے لیکن اختلاف برقرار رکھنے والوں کے پاس بھی اپنے اپنے دلائل موجود ہیں اور وہ ان سے دست بردار ہونے کو کسی طرح تیار نظر نہیں آتے۔ شاید کبھی مستقبل بعید میں اس مسئلے کا کوئی حل نکل آئے اور پوری دنیا ایک ہی دن عید منانے پر اتفاق کر لے۔
رویت ہلال پر اختلاف کے باوجود عید خوشیوں کا تہوار ہے، سو اس پر ہر مسلمان کو خوشی منانی چاہیے اور اپنی خوشیوں میں غریبوں اور مسکینوں کو بھی ضرور یاد رکھنا چاہیے۔ فطرانہ ادا کرنا چاہیے، صدقہ و خیرات بھی دینا چاہیے۔ خوشی ہر چہرے پر نظر آنی چاہیے۔ عالم اسلام کے امن و سکون اور سلامتی کے لیے بھی ضرور دعائیں مانگنی چاہئیں کیونکہ عالم اسلام پر بھی اس وقت سخت مشکل وقت چل رہا ہے۔ عید کا اصل مزا تو اسی صورت میں ہے جب دنیا میں مکمل امن ہو، کہیں جنگ و جدل اور خون ریزی نہ ہو۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف ہمارا پیارا وطن پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے تو دوسری طرف پورے مشرق وسطیٰ پر جنگ کے بادل چھائے ہیں۔ پاکستان نے تو افغانستان کے خلاف
آپریشن غضب للحق کو عید کے باعث عارضی طور پر معطل کر دیا اور افغانستان کی طرف سے بھی اس کا مثبت جواب دیا گیا تاہم برادر اسلامی ملک ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ طور پر مسلط کردہ جنگ جاری ہے، اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر عید کے روز بھی حملے کیے جبکہ ایران نے بھی ان کا جواب دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیجی ملکوں میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف اسرائیل ایران کے علاوہ فلسطین اور لبنان کو بھی مسلسل جارحیت کا نشانہ بنا رہا ہے۔
اسرائیل نے دو سال غزہ پر جنگ مسلط کیے رکھی جس کے نتیجے میں پورا علاقہ تباہ و برباد ہو گیا۔ بچوں اور عورتوں سمیت 70ہزار کے قریب لوگ مارے گئے، جو بچ گئے، ان کے لیے بھی زندگی ایک کڑا امتحان بن کر رہ گئی۔ ان بے چاروں نے کس طرح عید منائی ہو گی کہ ان کی زندگی تو ابھی تک معمول پر ہی نہیں آ سکی۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہی صورت حال ہے کہ عید کے موقع پر کہیں نہ کہیں جنگ جاری ہوتی ہے۔ راقم نے چند سال قبل غزہ سے متعلق ایک قطعہ لکھا تھا جو آج کی صورت حال پر بھی پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔ پیش خدمت ہے:
ایک عرصے سے جنگ جاری ہے
مر چکے ہیں ہزاروں جس میں لوگ
عید ایسے میں کیا منائے کوئی
کیوں نہ اس بار سب منائیں سوگ
سو کیفیت اس بار بھی سوگ ہی کی ہے لیکن کیا کیا جائے کہ عید تو موقع ہی خوشی کا ہے اور اس پر حکم بھی خوشی منانے کا ہے، سو خوشی منانا بھی ضروری ہے۔ ورنہ جنگ و جدل کے علاوہ مہنگائی نے لوگوں کا جو حال کر دیا ہے، اس نے بھی کسی کو عید منانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ ایک تو پٹرول کی قیمتوں میں حد سے زیادہ اضافے کا اثر براہ راست اشیا کی قیمتوں پر پڑا ہے، رہی سہی کسر رمضان المبارک کے دوران ناجائز منافع خوری کرنے والوں نے پوری کر دی۔ اس بار لوگوں میں عید کی شاپنگ کرنے کی بھی تاب نہ تھی۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد قابو سے باہر مہنگائی کا ہمیشہ سے زیادہ شکوہ کرتی نظر آ رہی ہے۔
جنگی ماحول اپنی جگہ اور مہنگائی اپنی جگہ لیکن عید تو عید ہے۔ یہ خدا کی طرف سے ایک انعام ہے، سو اس کے ملنے پر اسی طرح خوشی منانی چاہیے جیسے انعام ملنے پر منائی جاتی ہے۔ بچوں کے لیے تو یہ خاص انعام ہے کہ عید تو ہوتی ہی بچوں کی ہے۔ عید کی ساری رونق، رنگینی اور گہما گہمی بچوں ہی کے دم سے ہے۔ یہ امر خوشی کا باعث ہے کہ لوگوں نے مشکل حالات کے باوجود عید کو ہمیشہ کی طرح بھرپور جوش و جذبے سے منایا، پٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے کرائے کئی گنا بڑھ جانے کے باوجود پردیسی اپنے اپنے آبائی علاقوں میں عید منانے گئے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہوئے۔ لوگوں نے اپنے بچوں کو نئے کپڑے اور جوتے بھی خرید کر دیئے۔ خواتین نے بھی خوب شاپنگ کی، ملبوسات جوتے، چوڑیاں، جیولری، بناو¿ سنگھار کا سامان خریدا اور عید کے رنگوں میں بھرپور اضافہ کیا۔ اس بڑے پیمانے پر خریداری سے ملک میں معاشی سرگرمی بھی تیز ہوئی جس کے یقینا معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں جو خوش آئند چیز ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ اس بار ہلال عید نے کئی حوالوں سے ہماری ہنسی ضرور اڑائی لیکن پھر بھی ہم اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ ہمیں رمضان المبارک دیکھنا نصیب ہوا اور عید کی خوشیاں منانے کی توفیق بھی ملی۔ عید اگرچہ گزر چکی ہے لیکن عید کے بعد قارئین سے یہ پہلی ملاقات ہے، اس لیے عید کی مبارکباد دینا بھی ضروری ہے، سو اسی حوالے سے ایک قطعہ پیش خدمت ہے۔
اس بار تو گرانی نے حد سے کہیں سوا
ہر ایک خاص و عام کی مٹی پلید کی
پھر بھی خدا کا شکر کہ بخشا مہِ صِیام
سو کیجیے قبول مبارک بھی عید کی
ہلال عید ہماری ہنسی اڑاتا ہے
09:03 AM, 24 Mar, 2026