مصطفیٰ قتل کیس کا مرکزی ملزم ارمغان حوالہ ہنڈی اور فراڈ میں ملوث نکلا

02:15 PM, 24 Mar, 2025

کراچی :مصطفیٰ قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کی حوالہ ہنڈی اور فراڈ میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اس کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق، ارمغان نہ صرف قتل کیس میں ملوث ہے بلکہ وہ ڈیجیٹل کرنسی اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں بھی سرگرم تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق، ارمغان ہر ماہ جعلسازی سے 3 سے 4 لاکھ ڈالر کماتا تھا اور پھر یہ پیسے ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرتا تھا۔ اس کے پاس جو گاڑیاں تھیں، وہ بھی انہی پیسوں سے خریدی گئیں۔ مزید یہ کہ اس نے اپنے دو ملازمین کے نام پر بینک اکاؤنٹس کھلوائے تھے، اور اس کے غیر قانونی کال سینٹر سے امریکی شہریوں سے فراڈ کیا جاتا تھا، جس میں اہم معلومات حاصل کر کے رقم بٹوری جاتی تھی۔

ارمغان نے 2018 میں اپنا غیر قانونی کال سینٹر قائم کیا تھا، جہاں ہر کارکن روزانہ 5 افراد سے جعلسازی کرتا تھا۔ اس کے پاس کروڑوں روپے مالیت کی تین گاڑیاں ہیں، اور اس نے پانچ گاڑیاں فروخت بھی کی ہیں۔ اس کے علاوہ، اس نے اپنے والد کے ساتھ مل کر امریکا میں حوالہ ہنڈی کے لیے ایک کمپنی بھی قائم کی تھی۔ایف آئی اے کی جانب سے مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ اس کے خلاف مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔

مزیدخبریں