خالصتان کے قیام کے لیے لاس اینجلس میں سکھوں کا کامیاب ریفرنڈم ، بھارت سے علیحدگی کا فیصلہ

12:11 PM, 24 Mar, 2025

لاس اینجلس  :  امریکی شہر لاس اینجلس میں خالصتان کے قیام کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں کامیابی سے ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا۔ اس ریفرنڈم میں بھارتی پنجاب کو خالصتان بنانے کے حق میں 35 ہزار سے زائد سکھوں نے اپنے ووٹ دیے۔ امریکا بھر سے سکھ کمیونٹی کے افراد بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے لاس اینجلس آئے، اور سوک سینٹر میں صبح نو بجے سے شروع ہونے والی ووٹنگ میں بھرپور حصہ لیا۔

ووٹنگ کے اختتام پر سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے اگلے خالصتان ریفرنڈم کی تاریخ کا اعلان کیا، جس کے مطابق 17 اگست کو واشنگٹن ڈی سی میں اگلا ریفرنڈم ہوگا۔ انہوں نے اس ریفرنڈم کے انعقاد کی اجازت دینے پر ٹرمپ انتظامیہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ سکھ دنیا بھر میں بھارت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ بھارت کے زیرِ تسلط نہیں رہنا چاہتے اور اپنے حقوق کے لیے وہ اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکھ اپنی آزادی کے لیے ووٹوں کے ذریعے جواب دیں گے، نہ کہ گولیوں سے۔

اس موقع پر سکھ رہنماؤں نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں سکھوں پر حملوں میں ملوث ہے، لیکن ان حملوں کے باوجود خالصتان کی تحریک کو روکنا ناممکن ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس ریفرنڈم میں 35 ہزار سے زائد سکھوں کی شرکت خالصتان کے قیام کی جانب ان کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

مزیدخبریں