حلال و حرام کی بھول بھلیاں

10:08 AM, 24 Mar, 2025

جب میں سکول میں پڑھتا تھا تو ہمارے محلے کی مسجد میں لاؤڈ سپیکر نہیں ہوتا تھا۔ رمضان کے مہینے میں روزہ کھلنے کا اِعلان کرنے کے لیے ایک ڈھول بجایا جاتا تھا۔ یہ ایک بڑے سائز کا ڈھول تھا جیسے افریقی قبائل کے ہوتے ہیں۔ اِس کے اْوپر جھلی لگی تھی اَور اْسے دو ڈنڈوں کی مدد سے بجایا جاتا تھا۔ رمضان شروع ہونے سے ایک دو دِن پہلے اِسے نکالا جاتا اَور اِس کی صفائی کرکے اِس کی جھلی پر تیل لگایا جاتا۔ ڈنڈوں پر بھی تیل لگایا جاتا۔ آج کے دَور میں ہمارے ملک میں کیا کوئی یہ تصور کرسکتا ہے کہ مسجد میں ڈھول بجایا جائے؟
ہمارے اسکول میں صبح ایک اسمبلی ہوتی تھی جس میں سب بچے اپنی اپنی کلاسوں کے لحاظ سے ایک قطار میں کھڑے ہوجاتے۔ سامنے اسٹیج پر کچھ بچے بانسری اَور دو اقسام کے ڈھول بجاکر قومی ترانے کی دْھن بجاتے اَور سب بچے قوم ترانہ پڑھتے تھے۔ اِس کے بعد ایک فوجی دْھن پر سب بچے اْنھی قطاروں میں اَپنی اَپنی کلاسوں میں چلے جاتے۔ اَب یہ روایت بھی تقریباً ختم ہوگئی ہے کیونکہ ہم پر یہ اِنکشاف ہوا ہے کہ بانسری اَور ڈھول حرام ہیں۔ یہ چیزیں افریقہ کے مسلمان ممالک میں حرام نہیں ہیں۔ یہ ترکی میں بھی حرام نہیں ہیں۔ آج بھی افریقہ کی مسجدوں میں بانسری بھی بجائی جاتی ہے اَور ڈھول بھی۔ ترکی کی مساجد میں بھی ڈھول بجایا جاتا ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ اْن پر یہ اِنکشاف کیوں نہیں ہوا کہ یہ سب حرام کام ہیں؟ مزید یہ کہ ہمیں آج سے پچاس سال پہلے کیوں یہ بات معلوم نہیں تھی کہ مسجد میں ڈھول بجانا بْری بات ہے؟
بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔ میرے بچپن میں شب برات پر چراغاں کیا جاتا تھا، میٹھے پکوان بنائے جاتے تھے اَور لوگوں میں تقسیم کیے جاتے تھے۔ اَب ہم پر یہ وحی اْتری ہے کہ شب برات منانا ہی غلط ہے اَور شب برات کچھ نہیں ہوتی۔ اِسی طرح ہم مسلمانوں کے دْوسرے فرقوں کی تقریبات میں بھی شرکت کرلیا کرتے تھے۔ تب کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ یہ گناہ ہے۔ شب معراج، عید میلادالنبی بڑے جوش و خروش سے منائے جاتے تھے۔ اَب اِن پر بہت بڑے بڑے سوالیہ نشان بنائے جاچکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اِس طرح کی وحی ترکی، افریقہ، اِنڈونیشیا، بھارت کے مسلمانوں پر کیوں نہیں اْترتی؟ ہم پر بھی یہ آج سے پچاس سال پہلے کیوں نہیں اْتری تھی؟ کیا تب قْرآن، احادِیث کی کتابیں، سیرت کی کتابیں، فقہ کی کتابیں موجود نہیں تھیں اَور یہ نئی دریافت ہیں؟ کیا ہم یہ سمجھیں کہ آج سے سو سال پہلے کے مسلمان آج کے مسلمانوں کی نسبت جاہل تھے؟ اْنہی مسلمانوں کی کتابیں پڑھ کر آج کے مسلمان اَپنے آپ کو عالم کہتے ہیں۔ یہاں کسی مخصوص شخص یا جماعت یا ملک کا نام لینا مناسب نہیں لیکن یہ سچ ہے کہ ایک مخصوص سوچ کے فروغ نے ہی مسلمانوں میں یہ تقسیم پیدا کی ہے۔ اْن لوگوں نے اپنی طرف سے ایک ایسی حق بات پھیلانے کی کوشش شروع کی جو اْنہیں ہی پتاچلی تھی۔ کمال یہ ہے کہ اِن پچاس برسوں میں ہمارے اَندر کئی حلال چیزیں حرام ہوگئی ہیں۔ کوئی حرام شے حلال نہیں ہوئی۔ 
لیکن یہ حلال و حرام کا قصہ بھی عجب ہے۔ کچھ وہ حلال وحرام ہیں جنہیں قرآن اَور سنت نے حلال و حرام قرار دِیا ہے۔ وہ اَپنی جگہ مستحکم ہیں اَور ہمیشہ سے اِسی طرح ہیں۔ آج تک کسی جگہ مسلمانوں نے شراب، جوئے، زنا، حرام گوشت وغیرہ کو حلال قرار نہیں دِیا۔ پھر کچھ وہ حرام ہیں جو ہم نے خود سے اِیجاد کیے۔ پرنٹنگ پریس حرام تھا، لاؤڈ اسپیکر بھی حرام تھا، ٹیلی وژن بھی حرام تھا بلکہ موشن پکچر ہی حرام تھی، تصویر کھینچنا بھی حرام تھا۔ چھری کانٹے سے کھانا بھی بدعت تھی، میز کرسی پر بیٹھنا بھی غلط تھا، دْنیاوی تعلیم جسے ہم انگریزی تعلیم کہا کرتے تھے حاصل کرنا بھی حرام تھا ۔ اَب آہستہ آہستہ یہ سب چیزیں حلال ہوچکی ہیں۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اِن کوحرام قرار دینے والے دْرست تھے یا اِنہیں حلال کرنے والے دْرست ہیں ۔ جن لوگوں نے اْس زمانے میں اْن لوگوں کی پیروی کی اَور پرنٹنگ پریس یا ٹیلی وژن وغیرہ کو حرام سمجھ کر اْن سے کنارہ کشی اِختیار کی، اْن کی دْنیاوی زندگی ایک مخصوص طرز پر گزری اَور وہ بہت سی باتوں میں پیچھے رہ گئے۔ جو لوگ چھری کانٹے میں پھنس کر جنت  اَور جہنم کے فتوے دینے لگے اْن کی دْنیاوی زِندگی بھی ایک مخصوص طرح سے گزری۔ اَب وہ ساری چیزیں حلال ہوچکی ہیں۔ اَب اْن کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جائے؟ اِسی طرح پہلے جولوگ شب برأت کو حلال سمجھتے تھے اَور اَب اْنہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ تو سب کام ہی غلط ہے، اْنہیں کیا کرنا چاہیے؟ اَور کس حجت پر شب برأت، شب معراج  وغیرہ کو حرام سمجھنا چاہیے؟ 
کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اِس حلال و حرام کے چکر میں قوم خواہ مخواہ میں تقسیم ہوگئی ہے۔جن باتوں پر ہم جھگڑتے ہیں، بحثیں کرتے ہیں، دْوسرے کو بدعتی، جاہل ، گناہ گار اَور کافر تک قرار دے دیتے ہیں اْن کی ہماری دْنیاوی اَور اْخروی زندگیوں میں کیا حیثیت ہے؟ اِس سارے بکھیڑے میں جو واقعی کرنے والے کام تھے وہ رہ گئے۔ اَب جبکہ ہم دْنیاوی طور پر نہایت کمزور ہوچکے ہیں اَور سارے دْشمن مل کر ہمیں مار رہے ہیں تو ہمیں بہت تکلیف ہورہی ہے۔ کسی نے بالکل سچ کہا ہے کہ ہمارے دْشمن نے ہمیں دِین و دْنیا سے دْور کرنے کے لیے ہمیں اِن ’’دِینی‘‘باتوں میں اْلجھایا۔ پاکستان میں بھی یہ تماشہ اسی کی دہائی میں شروع ہوا تھا۔ سینتالیس سے لے کر اسی کی دہائی تک کے زیادہ تر مسلمان اب بدعتی، جاہل اَور گناہ گار ہوچکے ہیں۔ اِس تماشے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نوجوان مذہب سے ہی برگشتہ ہوگیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اِن کے اَپنے مسئلے ہی حل نہیں ہورہے، اِنہوں نے کیا کرنا ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے کہاکہ کولا، لیمن لائم، اورنج ڈرنک یہودیوں کی پیداوار ہے لہٰذا اِس کا بائی کاٹ کرو۔ لیکن ہم اْسی کولا کی کاپیاں اَپنے نام سے بنانے لگے۔ ہم سے اَپنا ایک مشروب بھی نہیں بنایا جاسکا جو ہم اِن تینوں کے مقابلے میں پیش کرسکیں۔ ہم برگر اَور پیزا کے مقابلے میں کوئی فاسٹ فوڈ نہیں پیش کرسکے۔ ہمارے یہاں کسی بھی قسم کی دْنیاوی تحقیق نہیں ہوتی۔ ہمارا سارا زور اِسی حلال و حرام پر نکل رہا ہے۔ نت نئے دینی مسائل ہمیں پریشان رکھتے ہیں۔ لیکن دْوسری جانب، دْنیا کی کوئی بْرائی نہیں جو ہم میں نہ پائی جاتی ہو۔ ہم سست ، کاہل،کام چور بن چکے ہیں۔ خالص چیز ملنا محال ہے۔ ہر طرف دھوکا بازی اَور دونمبری پائی جاتی ہے۔ ناجائز منافع خوری ہماری ہڈیوں میں بیٹھ گئی ہے۔ لیکن ہمیں یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ وہ ڈھول جو دونوں جانب سے بند ہو وہ حلال ہے یا صرف وہ ڈھول حلال ہے جو ایک طرف سے بند ہو اَور دْوسری طرف سے کھلا ہو۔ کوئی سمجھدار شخص یہ مسئلہ سنے تو سوائے ہمارا مذاق اْڑانے کے اَور کچھ نہیں کرے گا۔ ہم، بقول حضرت مسیح علیہ السلام، مچھرچھان رہے ہیں لیکن سالم اْونٹ نگل جاتے ہیں۔ شب برات یا شب معراج یا عید میلاالنبی کے حلال و حرام ہونے پر ہم لمبی بحثیں کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن سائنس، ریاضی اَور دْوسرے جدید علوم کی تعلیم حاصل کرنے کی ہم میں ہمت ہے اَور نہ ہی کوئی شوق۔ 
ہمیں اَب تک یہ سمجھ آجانی چاہیے کہ یہ سارا بکھیڑا اِس لیے کھڑا کیا گیا ہے کہ ہماری توجہ کام کی باتوں کی طرف نہ ہوسکے۔ ہم اِنہی میں گھومتے رہیں۔ اِنہی کا طواف کرتے رہیں اَور اَپنی طرف سے اَپنی جنت پکی کرتے رہیں۔ جس کی دْنیا اْس کی حماقت سے جہنم بنی ہو اْس کی عاقبت پربھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ 

مزیدخبریں