سکرین کی قید میں جکڑی نسل!!!

10:07 AM, 24 Mar, 2025

مجھے یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے تھے تو ہماری ماں نے ہم بہن بھائیوں کیلئے ٹی۔وی دیکھنے کا ایک وقت مقرر کیا ہوا تھا۔ پلے اسٹیشن کو ٹیلی ویژن کیساتھ منسلک کر کے گیمز کھیلتے تو اس کی بھی نگرانی ہواکرتی کہ ہم کتنے وقت تک گیمز کھیل رہے ہیں۔ ہمارے والدین ہم بچوں کو بتایا کرتے تھے کہ مسلسل ٹی۔ وی دیکھنے اور گیمز کھیلنے سے وقت کا زیاں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ذہن اور آنکھوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن آج ہم ایک مختلف دنیا میں رہتے ہیں۔ہم دیکھیں یا نہ دیکھیں، ہمارے کمرے میں گھنٹوں ٹی۔وی چلتا رہتا ہے۔  ہمارے پاس چوبیس گھنٹے کیلئے انٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے۔ ہمارے ہاتھ میں ہر وقت موبائل فون ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لیپ ٹاپ، آئی پیڈ سمیت دیگر آلات بھی ہمیں دستیاب ہیں۔ یہ ڈیجیٹل گیجٹ بڑوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں اور بچوں کی بھی دسترس میں ہیں۔ بلکہ نوجوان اور بچے بڑوں سے کہیں زیادہ وقت ان مشینوں کیساتھ گزارتے ہیں۔ اب والدین گزرے وقتوں والی روک ٹوک اور نگرانی کم کم ہی کرتے ہیں۔ سو ہم میں سے بیشتر کو آزادی حاصل ہے کہ جتنا مرضی وقت ڈیجیٹل دنیا میں گزاریں۔ 
ہم ڈیجیٹل آلات کیساتھ وقت گزاری کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ کبھی ہمارا موبائل کھو جائے یا خراب ہو جائے تو وقت گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کبھی انٹرنیٹ کی بندش کا سامنا کرنا پڑے تب بھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے سارے رابطے منقطع ہو گئے ہیں اور تمام کام رک گئے ہیں۔ اگرچہ ہم میں سے بیشتر اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا میں گھنٹوں بسر کرنا ایک منفی عادت ہے، ا س کے باوجود اس عادت سے پیچھا چھڑانا نہایت مشکل بلکہ تقریبا ناممکن کام ہے۔ ہم اکثر یہ بحث بھی سنتے ہیں کہ ہم سب کو اپنا سکرین ٹائم کم کرنا چاہیے۔ اس کے لئے ڈیجیٹل ڈی۔ٹاکس اور ڈیجیٹل فاسٹنگ کی اصطلاحات بھی استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن اس معمول میں تبدیلی لانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ 
وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہ پہلو بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ ڈیجیٹل آلات کا زیادہ استعمال ہماری جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت کو متاثر کرتا ہے۔مثال کے طور پر گھنٹوں موبائل فون اور آئی پیڈ وغیرہ پر مصروف رہنے سے بینائی متاثر ہوتی ہے۔ گردن کو مسلسل جھکائے رکھنے سے اور ایک خاص زاویے سے بیٹھے رہنے سے گردن اور کمر کی ہڈیوں کے مسائل سامنے آتے ہیں۔ مختلف ممالک میں ہونے والی تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں گھنٹوں گھسے رہنے سے بے خوابی، تھکاوٹ ،ذہنی تناو، اضطراب جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ آپ کی یاداشت اور دماغی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ کچھ مستند تحقیقی مضامین اور رپورٹیں میری نگاہ سے گزریں، نتیجہ ان کا یہ تھا کہ ڈیجیٹل دنیا میں رہنے سے آپ حقیقت کی دنیا سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے احساس کمتری اور ریاکاری جیسی عادات فروغ پاتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ 
 سائنسی تحقیق سے قطع نظر، آپ اور ہم اپنی روزمرہ زندگی پر نگاہ ڈالیںتو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ موبائل فون پر ہم اپنا کتنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب، ٹک ٹاک ، انسٹا گرام وغیر ہ کیسے ہر روز ہمارے گھنٹوں نگل جاتے ہیں ۔ میرا تعلق شعبہ تدریس سے ہے۔ اس عمر میں بھی میرا اسکرین ٹائم بڑھ جانے سے میری پیشہ وارانہ کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ یہی حال طالبعلموں کا ہے۔ میری عادت ہے کہ ذہین طالب علموں کے معمولات ضرور معلوم کرتی ہوں۔ برسوں سے یہ معمول بھی ہے کہ جو طالب علم سی۔ایس۔ایس کا امتحان پاس کرتا ہے، اس سے بھی اس کے معمولات کے متعلق پوچھتی ہوں۔ سب طالب علموں میں ایک پہلو مشترک ہوتا ہے۔ وہ ہے سوشل میڈیا کا استعمال ترک کرنا یا پھر انتہائی محدود کرنا۔ یعنی جو لوگ آپ کو پڑھنے لکھنے میں آگے نظر آتے ہیں، وہ اپنا وقت سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارموں پر ضائع کرنے کے بجائے،  پڑھنے لکھنے اور سیکھنے میں صرف کرتے ہیں۔ 
اب بھارتی اداکار عامر خان کا قصہ بھی سن لیجئے۔ عامر خان نے 2021 ء میں سوشل میڈیا چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ تاکہ وہ غیر ضروری سکرین ٹائم سے بچ سکے۔ اپنی فلم ’’ لال سنگھ چڈھا‘‘ کے دوران عامر خان نے اپنا موبائل فون مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔ تاکہ اپنے کام پر توجہ دے سکے۔ ایک انٹرویو میں اس نے بتایا کہ اس عمل سے اس نے اپنی فلم کا کام وقت سے کہیں پہلے مکمل کر لیا۔ آخر کوئی تو وجہ ہے کہ ایپل کے بانی اسٹیو جابزنے اپنے بچوں پر آئی پیڈ اور آئی فون کے استعمال کی سخت پابندی عائد کر رکھی تھی۔ تاکہ بچے اپنا وقت کتابیں پڑھنے اور دیگر سرگرمیوں میں گزار سکیں۔ مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے بھی اپنے بچوں کو 14سال کی عمر تک موبائل کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی ۔ بل گیٹس کے گھر میں یہ پابندی بھی تھی کہ رات کو سونے سے پہلے موبائل فون کا استعمال نہیں ہو گا تاکہ نیند میں خلل واقع نہ ہو۔ ادھر ہمارا یہ حال ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو مصروف کرنے کے لئے ہم نے ان کے ہاتھوں میں موبائل فون اور آئی پیڈ تھما رکھے ہیں۔ آدھی رات کو نیند سے آنکھ کھلتے ہی ہم ٹٹول کر سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھاکر دیکھتے ہیں  اور بسا اوقات گھنٹوں گزار دیتے ہیں۔ میں کہیں پڑھ رہی تھی کہ برطانوی شاہی خاندان کے جوڑے پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے بچوں کے اسکرین ٹائم کے حوالے سے سخت اصول بنا رکھے تھے۔ بچوںکو موبائل فون اور آئی پیڈ وغیرہ کے استعمال کے بجائے قدرتی ماحول میں وقت گزارنے اور کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ یہ ذکر چلا ہے تو ٹیسلا اور ایکس کے بانی ایلون مسک کا ذکر بھی ضروری ہے۔ وہ اس بات کے سخت خلاف ہیں کہ ان کے بچے سوشل میڈیا او ر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر وقت ضائع کریں۔ ان کا خیال ہے کہ بچوں کو کتابوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے۔ پاکستان میں بھی ایسے گھرانے موجود ہیں جہاں بچوں کے بلاوجہ ٹی۔ وی دیکھنے، اور سوشل میڈیا کے استعمال پر روک لگائی جاتی ہے۔ بچوں کو کتابیں پڑھنے اور مختلف علوم یا مہارتیں سیکھنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ مگر ایسے گھرانوں کی تعداد یقینا بہت کم ہو گی۔ 
میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہی کہ ڈیجیٹل آلات، انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کے استعمال کی اہمیت نہیں ہے۔ ان سب کی اہمیت اپنی جگہ پر موجود ہے اور ان کے بغیر ہمارا گزارا مشکل ہے۔ اس کے باوجود نہایت ضروری ہے کہ ہم سب اپنا سکرین ٹائم محدود کریں۔ خاص طور پر ہر وقت موبائل فون کو تھامے رکھنے اور دیکھنے سے نجات حاصل کریں۔ ڈیجیٹل دنیا میں وقت گزارنے کے بجائے، اصل دنیا میں اپنے والدین، بہن بھائیوں،بیوی بچوں ، دوستوں، وغیرہ کیساتھ وقت گزاری کریں۔ نوجوانوں کیساتھ ساتھ بڑوں کو بھی اس بات کی سخت ضرورت ہے۔ مجھ سمیت ہم سب ہی وقت کے زیاں کے عادی ہو چکے ہیں ۔ تجربے کے لئے ہی سہی، چند دن کے لئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر کے اور موبائل کا استعمال محدود کر کے خود کو دوسری سرگرمیوں میں مصروف کر کے دیکھتے ہیں ۔ ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارے پاس کتنا وقت ہوتا ہے اور اس وقت کو ہم کیسے اچھے اور مثبت کاموں کو کرنے میں صرف کر سکتے ہیں۔ 

مزیدخبریں