بیت المقدس کی چیختی فضائیں

10:05 AM, 24 Mar, 2025

جب عدل کے ایوانوں میں خاموشی کا راج ہو، جب انصاف صرف طاقتوروں کا غلام بن جائے، جب مظلوموں کے خون پر عالمی برادری کی بے حسی کا پردہ ڈال دیا جائے تو جان لیجئے کہ دنیا میں اصول باقی ہے نہ اخلاقیات اور نہ ہی انصاف۔ جب بھی تاریخ کے اوراق الٹے جاتے ہیں تو انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ نظر آتا ہے، وہ داغ جسے ظلم و جبر کی سیاہی نے ہمیشہ دھندلانے کی کوشش کی مگر حق کے چراغوں نے اسے بدنما رکھا۔ آج فلسطین کی سرزمین پر ہونے والے جبر و استبداد کی کہانی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں کی زمین لہو لہو ہے وہاں کی گلیاں بارود کی بو سے بھری ہیں، مائوں کی آہیں آسمان تک جا پہنچی ہیں مگر زمین پر کہیں کوئی بھی سننے والا نہیں۔ مظلوموں کی چیخیں اقوامِ متحدہ کے در و دیوار سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی ہیں، انسانی حقوق کے علمبردار اپنی آنکھوں پر مفادات کی پٹی باندھے کھڑے ہیں اور عالمی برادری کا ضمیر سر بازار نیلام ہو چکا ہے۔
یہ محض زمین کا جھگڑا نہیں یہ بقا کی جنگ ہے۔ ایک ایسی جنگ جس میں ایک طرف مظلوموں کے لاشے ہیں تو دوسری طرف ظالم کی بربریت کے نا قابلِ بیان مناظر۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حق اور باطل کا معرکہ ہوا سچائی نے سر اٹھایا۔ آج بھی فلسطین میں بہتے لہو کی سرخی دراصل ان چراغوں کا پیش خیمہ ہے جو سحر ہونے کی نوید دے رہے ہیں۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ وہ زمین جسے انبیاء کرام کی سرزمین کہا جاتا ہے وہاں بے گناہ خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں ہر طلوع ہوتے سورج کے ساتھ نئے مقتل سجتے ہیں، ہر گلی میں نئے زخم پلتے ہیں۔ جہاں ہر شام کئی مائیں اپنے جگر گوشوں کو مٹی کے سپرد کر دیتی ہیں۔ یہ صرف ایک قوم کی بربادی نہیں بلکہ انسانیت کے چہرے پر وہ بدنما دھبہ ہے جسے دنیا کی بے حسی نے مزید گہرا کر دیا۔ یہاں دنیا کا دوہرا معیار عیاں ہے۔ آج دنیا خاموش ہے اور انسانیت بے حس ہو چکی ہے۔ گھروں کے ملبے تلے دبے خواب، یتیم بچوں کی آنکھوں میں ٹھہرے آنسو، بھوک سے نڈھال معصوم لب، سب چیخ چیخ کر سوال کر رہے ہیں کہ آخر انصاف کا ترازو کب حرکت میں آئے گا؟ ظلم کا یہ پہیہ کب تک رواں رہے گا؟
تاریخ شاہد ہے کہ فرعونوں کے تاج سلامت نہیں رہے، نمرودوں کے تخت باقی نہیں رہے، یزیدیت کا سورج ڈوب گیا تھا اور یہی انجام اس جبر و استبداد کا مقدر ہے جو معصوموں کے لہو پر کھڑا ہو۔ آج اگر مظلوموں کی آہ و بقا بظاہر صدا بصحرا لگتی ہے تو کل یہی آہ طوفان بن کر باطل کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گی۔ یہ فلسطین کی سسکتی مائیں، یہ ننھے ہاتھوں میں پتھر لیے بچے، یہ خون میں لت پت شہیدوں کے جنازے سب ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کہ صبر کا ہر لمحہ تاریخ کے سینے میں ایک اور انمٹ باب رقم کر رہا ہے۔ دنیا کی بے حسی اپنی جگہ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ وہ چراغ جو خون سے جلائے جاتے ہیں کبھی بجھا نہیں کرتے۔ فلسطین کے زخموں سے پھوٹتی روشنی وہ چراغ ہے جو ایک دن ظلمت کے اس راج کو مٹی میں ملا دے گی وہ دن دور نہیں جب سحر نمودار ہو گی، جب حق سر بلند ہو گا، جب انصاف کا سورج طلوع ہو گا، جب معصوم شہیدوں کے لہو سے لکھی گئی تحریریں باطل کے ایوانوں پر کتبے بن کر چسپاں ہوں گی۔ یہ پہلا موقع نہیں جب فلسطین نے خون میں نہا کر تاریخ رقم کی ہو۔ 1948 سے یہ قوم ہر روز ایک نیا سانحہ جھیل رہی ہے، نہروں میں پانی کے بجائے خون بہایا گیا، زیتون کے باغات میں امن کے بجائے آہوں اور سسکیوں کی فصل اگائی گئی۔ جہاں صیہونی طاقتیں ہر دور میں ظلم کی ایک نئی داستان لکھتی ہیں مگر یہ قوم ظلم سہنے کے باوجود جھکی نہیں، بکی نہیں اور اپنی آزادی کی شمع کو بجھنے نہیں دیا۔ یہاں کی سر زمین صرف خون سے تر نہیں بلکہ صبر، استقامت اور حوصلے کی لازوال داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایک ایسی قوم جو ہر روز اپنے پیاروں کو کھونے کے باوجود بھی زندگی کے چراغ جلائے رکھتی ہے وہ شکست کیسے کھا سکتی ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ہر انقلاب قربانی مانگتا ہے اور ہر جدوجہد وقت چاہتی ہے۔ یہ ایک کھلا سچ ہے کہ فلسطین کا معاملہ صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا امتحان ہے۔ یہاں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ فلسطین پر ظلم ہو رہا ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جس امت کو زمین پر عدل و انصاف کے قیام کا فریضہ سونپا 
گیا تھا وہ اسے روکنے کے بجائے مجمعِ خاموشاں بنی ہوئی ہے۔ فلسطین چیخ رہا ہے مگر مسلم دنیا کی زبانیں گنگ ہیں، ہاتھ شل ہیں اور دلوں پر مصلحتوں کی مہریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ وہی امت ہے جس کے آبا نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا، جس کے مجاہدین کی للکار سے قیصر و کسریٰ کے ایوان لرز اٹھتے تھے۔ مگر آج؟ آج امت صرف قراردادوں، بیانات اور علامتی مذمت تک محدود ہو چکی ہے۔ مسلم حکمران عالمی طاقتوں کی خوشنودی میں مصروف ہیں، عوام جذباتی بیانات سے آگے نہیں بڑھ رہے اور علماء و دانشور اپنی تحریروں اور خطبات میں محض ماضی کے قصے دہراتے نظر آتے ہیں۔ ظلم صرف ظالم کا جرم نہیں ہوتا بلکہ ان آنکھوں کا بوجھ بھی ہوتا ہے جو سب کچھ دیکھ کر بھی موند لی جاتی ہیں، ان زبانوں کا قصور بھی ہوتا ہے جو حق کہنے سے گریز کرتی ہیں اور ان قدموں کا گناہ بھی ہوتا ہے جو ظالم کے خلاف اٹھنے کے بجائے ساکت کھڑے رہتے ہیں، وہ ہاتھ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں جو ظلم کے خلاف اٹھنے سے ڈرتے ہیں۔ امتِ مسلمہ کی یہ خاموشی صرف بے بسی نہیں بلکہ ایک جرم ہے۔ ایک ایسا جرم جو وقت کے ساتھ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ تاریخ میں ہر ظلم دو کرداروں کے سائے میں پروان چڑھا ایک وہ جو ظلم کرتے تھے اور دوسرے وہ خاموش رہ کر اسے سہنے دیتے تھے۔ بغداد میں چنگیز خان کی تلوار جتنی بھی قاتل تھی مگر اس سے زیادہ خوفناک وہ خاموشی تھی جو مسلم حکمرانوں نے اختیار کر رکھی تھی۔ اندلس میں صرف دشمن کی سازشیں نہیں چلیں بلکہ اپنوں کی بے حسی نے بھی اسلامی ریاست کو مٹی میں ملا دیا بالکل اسی طرح آج فلسطین لہو لہو ہے اور امت کی آنکھیں بند ہیں۔ ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ ہوتا ہے، ہر نمرود کے لیے ایک ابراہیم اور ہر یزید کے لیے ایک حسین۔ ظلم جتنا بھی طاقتور ہو جلد یا بدیر اپنے انجام کو پہنچتا ہے، آج جو ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے ہیں کل وہی زنجیروں میں جکڑے جائیں گے۔ آج جو قدم معصوموں کے گھروں کو روند رہے ہیں کل وہی زمین میں دھنس جائیں گے اور ستم گر اپنے انجام کو پہنچیں گے۔
دعا ہے کہ وہ دن جلد آئے جب بیت المقدس کی فضائوں میں اذانیں گونجیں، جب زیتون کے درخت امن کے گیت گائیں اور جب فلسطین کے بچے آزاد فضائوں میں مسکرائیں کیونکہ ظلم کا زوال تو لکھا جا چکا ہے مگر سوال یہ ہے کہ جب یہ باب بند ہو گا تو ہم کس صف میں کھڑے ہونگے؟

مزیدخبریں