قارئین کرام! آپ کو یاد ہو گا کہ 24 فروری 2025ء کو میں نے روزنامہ ’’نئی بات‘‘ میں اپنے کالم بعنوان ’’کینیڈا یاترا!‘‘ میں کینیڈا کے سفر کا دلچسپ احوال لکھا تھا۔ اس سفرنامے میں کینیڈا کے سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے ملاقات کا مزیدار قصہ بھی شامل تھا۔ اس کالم کی اشاعت کے بعد میں نے اس کا انگریزی ترجمہ جسٹن ٹروڈو کو ای میل کر دیا۔ جسے پڑھ کر انہوں نے مجھے جوابی ای میل بھیجی ہے۔ آپ کی دلچسپی کے لیے جسٹن ٹروڈو کی اس جوابی ای میل کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔ ملاحظہ کریں: محترم ابرار ندیم صاحب! آداب! آپ کی شاعری، آپ کی تحریر اور آپ کی کینیڈا کے بارے میں والہانہ محبت نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جیسا کہ آپ کے علم میںہے کہ میں آپ کے اس کالم کی اشاعت سے پہلے بھی ای میل کے ذریعے آپ سے رابطے میں تھا۔ جب میں نے آپ کی وہ ای میل جس میں آپ نے مجھے کینیڈا کے ویزہ کے حصول میں مدد کے لیے کہا تھا۔ یہ پڑھا کہ آپ جیسا بلند پایہ شاعر اور کالم نگار تین چار بار میرٹ پر ویزہ درخواست مسترد ہونے کے باوجود کینیڈا کی سرزمین پر قدم رکھنے کے لیے اتنا بے تاب ہے تو میں نے آپ کے ویزہ کے معاملے کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن افسوس کہ میں اپنے اس عظیم مقصد میں ناکام رہا۔ میرے لیے یہ ایک بہت بڑا دکھ تھا کہ میں آپ جیسے باکمال، ہنر مند اور محبت کرنے والے شخص کی خواہش پوری نہ کر سکا۔ مجھے آپ کو یہ بتاتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ کینیڈا کے ویزہ کے معاملات میں وزیراعظم کی کوئی براہ راست مداخلت نہیں ہوتی۔ ہمارا ویزہ نظام مکمل طور پر شفاف اور اصولوں پر مبنی ہے جس میں سفارت کاروں اور ویزہ افسران کی طرف سے ہر درخواست کا انصاف کے ساتھ جائزہ لیا جاتا ہے۔ لیکن جب میں نے دیکھا کہ میں آپ کے ویزہ کے معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا تو میں نے ایک انتہائی قدم اٹھایا اور وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ میری طرف سے یہ ایک بھرپور احتجاج تھا کہ ایک وزیراعظم ہونے کے باوجود میں اپنے پسندیدہ شاعر کی خواہش پوری نہیں کر سکا۔ میرا یہ قدم شاید کچھ لوگوں کو عجیب لگے لیکن میں نے یہ فیصلہ دل سے کیا تھا۔ اب جب کہ میں وزیراعظم نہیں رہا لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ بطور احتجاج میرا استعفیٰ رائیگاں نہیں گیا اور آخرکار آپ کو کینیڈا کا ویزہ مل گیا ہے۔ پتا نہیں کیوں مجھے پوری امید تھی کہ ایک دن آپ ضرور کینیڈا کی سر زمین پر قدم رکھیں گے۔ روزنامہ ’’نئی بات‘‘ میں آپ کا سفرنامہ پڑھ کر میں خوش ہونے کے ساتھ بے حد متاثر بھی ہوا ہوں۔ آپ کی ’’کینیڈا یاترا‘‘ کا احوال جان کر میں نے ایک لمحے کو سوچا کہ کیا آپ نے واقعی یہ سب کچھ کینیڈا میں کیا ہے یا پھر یہ میرے خوابوں کا حصہ ہے۔ آپ کی کہانی جیسے ایک رومانی فلم کا سکرپٹ ہو۔ ایک ایسا سکرپٹ جس میں ہر منظر میں ایک نئی لڑکی، ایک نئی محبت اور ہر جگہ پر بہار سی مہک رہی ہو۔ آپ کا سفرنامہ پڑھ کر میں اتنا جذباتی ہوا کہ اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا مگر پھر میں نے سوچا کہ کرسی پر بیٹھ کر ہی جواب لکھوں کیونکہ کھڑے کھڑے ٹائپ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ جب میں نے یہ پڑھا کہ آپ نے کینیڈا کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی ایما، سارہ، میری اور ایلینا جیسی خوبصورت اور ذہین لڑکیوں کے دل جیت لیے تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا ’’کیا یہ واقعی ممکن ہے؟ کیا ایک شخص اتنا ہنر مند، اتنا پُرکشش اور اتنا رومانوی ہو سکتا ہے؟‘‘۔ لیکن جب میں نے آپ کی تحریروں کو دوبارہ پڑھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ ہاں یہ ممکن ہے۔ آپ کی شاعری میں وہ جادو ہے جو دل کو چھو لیتا ہے اور آپ کی شخصیت میں وہ کشش ہے جو ہر کسی کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ میں نے سوچا ’’کیا میں بھی کبھی کسی کو اپنی شاعری سے متاثر کر سکوں گا؟‘‘ لیکن پھر مجھے یاد آیا کہ میں شاعر نہیں ہوں۔ میں صرف ایک وزیراعظم ہوں جسے ہر روز بجٹ پالیسیاں بنانا اور بین الاقوامی معاملات سے نمٹنا پڑتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میرے دفتری کاغذوں کے لحاظ سے تو میں ’’محترم وزیراعظم‘‘ کہلاتا ہوں لیکن میں سوچتا ہوں کہ کیا میں کبھی ’’محبوب وزیراعظم‘‘ بن سکوں گا! لیکن افسوس میں آپ کی طرح نہیں ہوں۔ ایما، سارہ، میری اور ایلینا کے بارے میں آپ کی روداد نے مجھے بے حد
متاثر کیا۔ ایما، جو آپ کو ٹورنٹو کے سی این ٹاور لے گئی، سارہ، جو آپ کی پنجابی شاعری پر فدا ہو گئی، میری جو آپ کے کالمز کی مداح تھی اور ایلینا جو آپ کی شاعری سے متاثر ہو کر اپنے خوابوں کو دوبارہ دیکھنے لگی۔ یہ سب کچھ اتنا رومانوی تھا کہ میں خود بھی ایک لمحے کے لیے یہ سوچنے لگا ’’کیا میں بھی کبھی ایسا کچھ کر سکوں گا؟‘‘۔ پھر مجھے دوبارہ یاد آیا کہ میں وزیراعظم ہوں اور وزیراعظم کو رومانوی ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ہمیں ہر وقت سنجیدہ رہنا پڑتا ہے۔ آپ کی تحریر نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ شاید میں بھی ایک دن کسی کو اپنی شاعری سے متاثر کر سکوں۔ ابرار ندیم صاحب! آپ کی شاعری نے مجھے بھی شاعر بنا دیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں شاعر نہیں ہوں لیکن کیا ہوا آپ کے ہاں بھی تو لاتعداد ایسے نام نہاد شاعر ہیں جنہیں شعر کہنا نہیں آتا مگر وہ دھڑلے سے شعر کہہ رہے ہیں۔ یہی سوچ کر میں نے اپنی پہلی شاعری لکھنے کی کوشش کی۔ یہ رہی میری پہلی نظم: ’’اوہ وزیراعظم! تیرے دن کیسے گزرتے ہیں / کیا تو بھی کبھی رات کو ستاروں کو گنتا ہے / یا پھر بس بجٹ اور پالیسیوں میں الجھا رہتا ہے / اوہ وزیراعظم کیا تو بھی کبھی محبت کرتا ہے / یا پھر بس ہر روز تقریروں میں الجھا رہتا ہے / کیا تو بھی کبھی کسی کے لیے تڑپتا ہے / یا پھر بس ہر روز ملکی معاملات میں الجھا رہتا ہے / اوہ وزیراعظم کیا تو بھی کبھی خواب دیکھتا ہے / یا پھر بس ہر روز سیاست میں الجھا رہتا ہے / اوہ وزیرِ اعظم کیا تو بھی کبھی کسی سے دل لگاتا ہے/ یا پھر بس ہر روز تقریروں میں الجھا رہتا ہے۔ ابرار ندیم صاحب! میں آپ کو یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں کہ آپ کی شاعری اور تحریریں ہمیشہ میرے دل کے قریب رہیں گی۔ میں آپ کی مزید کامیابیوں کا منتظر رہوں گا اور امید کرتا ہوں کہ آپ آئندہ بھی کینیڈا کا چکر ضرور لگاتے رہیں گے۔ اور ہاں اگر آپ دوبارہ کینیڈا آئیں تو براہ کرم مجھے بھی اپنے ساتھ لے جائیں۔ شاید میں بھی کسی لوسی، ایما، سارہ، یا ایلینا سے مل سکوں۔ خوش رہیں، مسکرائیں اور اسی طرح دل کو چھونے والی شاعری لکھتے رہیں! آپ کا مداح (سابق وزیراعظم کینیڈا) جسٹن ٹروڈو۔
( قارئین کرام آخر میں نوٹ فرما لیں کہ ممتاز سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کے سفر ناموں سے متاثر ہو کے لکھے گئے میرے تصوراتی سفر نامہ ’’کینیڈا یاترا‘‘ کی طرح کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی یہ جوابی ای میل بھی فرضی ہے۔ اس میں واقعات اور کرداروں کی مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی)
جسٹن ٹروڈو بنام ابرار ندیم!
10:04 AM, 24 Mar, 2025