دہشت گردی واقعات اور قومی پالیسی بنانے کا فیصلہ

10:03 AM, 24 Mar, 2025

ریاست کا بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے قومی پالیسی بنانے کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کو مزید مربوط بنانے کا فیصلہ نہایت خوش آئند ہے۔ اس وقت ملک دشمن تنظیموںکے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے، بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کے بعد نوشکی میں بس پر خود کش حملے نے پوری قوم کو رنج و الم میں مبتلا کیا ہے۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں 31 بے گناہ افراد دہشت گردوں کی بربریت کا شکار ہوئے جبکہ 36 دہشت گردوں کو جہنم رسید کیا گیا۔ بلوچستان میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان دہشت گرد حملوں کی باقاعدہ ذمہ داری قبول کی ہے، واضح رہے کہ بی ایل اے کو افغانستان اور بھارت کی حمایت اور مدد حاصل ہے۔ دہشت گرد جعفر ایکسپریس حملے کے دوران جائے وقوعہ سے افغانستان میں بیٹھے رحمان گل نامی شخص کو اطلاعات دے اور ہدایات لے رہے تھے، ٹریس شدہ کالز میں دہشت گردوں کے افغانستان سے رابطے سامنے آ چکے ہیں۔ امریکا میں سکھوں کی عالمی تنظیم سکھ فارجسٹس نے بلوچستان میں ٹرین حملے کے متعلق ایک بیان جاری کیا جس میں سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ٹرین دہشت گرد حملے میں ’’رائ‘‘ ملوث ہے، عالمی ادارے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور ’’رائ‘‘ کے خلاف کارروائی کریں۔ گرپتونت سنگھ پنوں کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف بھارت خفیہ جنگی حکمت عملی کے بلیو پرنٹ پر عمل کر رہا ہے، مودی کا بھارت صرف علاقائی خطرہ نہیں، یہ ایک مکمل دہشت گرد حکومت ہے، مودی حکومت پُر تشدد بین الاقوامی جبر میں مصروف ہے۔ بلوچستان ٹرین حملہ بھارت کے جارحانہ دفاعی نظریے کا ثبوت ہے، بھارت خفیہ دہشت گرد کارروائیوں سے پڑوسی ممالک کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے، بھارت بیرون ممالک میں ٹارگٹ کلنگ، انتہا پسندی اور سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہے۔ مودی نے بھارت کو ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا عالمی مرکز بنا دیا ہے۔ ’’رائ‘‘ کی بے قابوکارروائیاں جنوبی ایشیا کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور ریاستی تشدد کی خطرناک عالمی مثال قائم کر رہی ہیں۔ اس وقت دشمن قوتیں پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں، افغانستان کی سرزمین پاکستان دشمنوں کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ ملک میں خلفشار پیدا کرنے کے لیے اندرونی اور بیرونی قوتوں کا گٹھ جوڑ عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ بلوچ عوام پر کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی سہولت کار بلوچ یکجہتی کمیٹی، ماہ رنگ، سمی دین اور صبیحہ کی اصلیت اور مکروہ عزائم کھل کر عیاں ہو چکے ہیں۔ ایک طرف بی ایل اے کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ بلوچستان میں بلوچ عوام کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے دوسری طرف باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت بلوچ عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ بی ایل اے، لوگوں کو زبردستی اپنے ساتھ شامل ہونے پر مجبور کرتی ہے اور انکار پر انہیں ریاستی مخبر (ڈیٹھ سکواڈ) کے نام پر قتل کر کے نعشیں جھاڑیوں اور ویرانوں میں پھینک کر ریاستی اداروں کے خلاف منفی پراپیگنڈا شروع کیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بی وائی سی کالعدم تنظیم بی ایل اے کا سیاسی ونگ اور پراکسی ہے۔ ماہ رنگ، سمی دین اور صبیحہ ملک دشمن ایجنٹ ہیں جو اپنے ذاتی مفادات اور سیاست کے لیے سادہ لوح بلوچ عوام کو استعمال کر رہی ہیں۔ سیاسی وابستگی اور اختلاف سے ہٹ کر ایک عام پاکستانی کی نظر سے دیکھیں، حقائق آپ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں کہ رواں ماہ گیارہ مارچ کو بی ایل اے کے درندوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا، سیکڑوں بے گناہ مسافروں کو یرغمال بنایا گیا، بی وائی سی خاموش، 26 بے گناہ روزہ دار افرادکو شہید کیا گیا، بی وائی سی خاموش، نوشکی میں بس پر حملہ پانچ بے گناہ افراد کو شہید کیا گیا، بی وائی سی ماہ رنگ بلوچ خاموش، پنجگور کاٹا گری میں تین غیر مقامی مزدور حجاموں کو قتل کیا گیا، بی وائی سی خاموش، تربت سٹار پلس مارکیٹ میں صوبہ سندھ سانگھڑ کے دو مزدوروں کو قتل کیا گیا بی وائی سی ماہ رنگ بلوچ خاموش، بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان حملوں کی مذمت میں ایک لفظ تک ادا نہیں کیا، مگر جیسے ہی جعفر ایکسپریس حملے میں واصل جہنم ہونے والے خوارج کی لاشیں سول ہسپتال کوئٹہ پہنچیں، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مسلح جتھوں نے ہسپتال پر حملہ کر دیا، لاشیں چھین کر ’’یہ لاپتا افراد کی لاشیں ہیں‘‘ والا وہی پرانا ڈرامہ شروع کیا۔ لاشوں کو لے کر کوئٹہ میں پُرتشدد احتجاج شروع کیا گیا، بی وائی سی کے شرپسند مظاہرین نے پولیس پر حملہ کیا، پولیس لاٹھیوں اور واٹر کینن کے ذریعے شرپسند مظاہرین کو منتشر کرتی ہے، کیونکہ ان کے پاس صرف یہی دو چیزیں ہوتی ہیں، بی وائی سی کے مسلح دہشت گردوں نے تین افراد جن میں سے ایک افغانستان اور دوکوئٹہ سے باہر کے تھے، ان کو قتل کیا اور ان کی لاشیں سڑک پر رکھ کر کوئٹہ شہر کو یرغمال بنا لیا، مقامی پولیس نے مقتولین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے مانگیں تو بی وائی سی نے لاشیں دینے سے انکار کر دیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ افراد پولیس نہیں بلکہ بی وائی سی کے مسلح مظاہرین کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں، مقتولین اپنے پیاروں کی لاشوں کے لیے تڑپتے رہے مگر بی وائی سی نے ورثا کو بھی لاشیں دینے سے انکار کر دیا اور ان لاشوں پر اپنی سیاست چمکائی گئی۔ بی وائی سی کے لوگوں کو اشتعال انگیزی اور سول ہسپتال کوئٹہ پر حملے کے جرم گرفتار کیا گیا، کیونکہ کسی بھی فرد کو ریاستی رٹ چیلنج کرنے، ریاستی اداروں پر حملہ کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم متزلزل نہیں کر سکتے، بھارت افغانستان اپنے ناپاک مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے، پاکستان کو توڑنے والے خود مٹ جائیں گے، جب تک مائیں اپنے بچے پاکستان پر نچھاور کرتی رہیں گی، یہ قوم بالخصوص نوجوان اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے تو کوئی بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ قومی اسمبلی میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا کہ 2018ء میں قائم ہونے والی نااہل حکومت نے دہشتگردی کیخلاف جنگ سے حاصل ہونے والے ثمرات کو ضائع کر دیا اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد روک دیا جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے، پاکستان آج فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، جس کا تقاضا ہے کہ ہم سوال کریں کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے۔ فوج اور عوام ایک ہیں، ان کی درمیان دراڑ ڈالنے کی سازش پہلے کامیاب ہوئی اور نہ آئندہ ہو گی۔ دہشت گردی کو ایک بار پھر سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہم سب کو آہنی عزم کا اعادہ کرنا ہو گا۔

مزیدخبریں