امریکا۔ایران اسلام آباد معاہدہ امید کی کرن، تمام فریق عملدرآمد یقینی بنائیں: چین

08:15 PM, 24 Jun, 2026

بیجنگ: چین نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مفاہمت کو برقرار رکھنا اور اس پر مکمل عملدرآمد کرنا تمام متعلقہ فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ یہ معاہدہ عالمی سطح پر ایک مثبت اشارہ ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیچیدہ تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ سے اختلافات کے پرامن حل، مذاکرات اور سیاسی رابطوں کا حامی رہا ہے اور کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے طاقت کے استعمال یا دھمکیوں کی مخالفت کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بیجنگ خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے بقول چین ایران کی خودمختاری، سلامتی، علاقائی وحدت اور قومی مفادات کے تحفظ کی تائید جاری رکھے گا۔

گو جیاکن نے مزید کہا کہ چین ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور باہمی اعتماد کے فروغ کو بھی خطے کے امن اور ترقی کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

یاد رہے کہ 14 جون کو پاکستان کی سہولت کاری سے ایران اور امریکا کے درمیان ایک 14 نکاتی سمجھوتہ طے پایا تھا، جس کا مقصد جاری تنازعات کا خاتمہ اور باقی ماندہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا تھا۔

’’اسلام آباد انڈراسٹینڈنگ‘‘ کے نام سے موسوم یہ معاہدہ 18 جون کو باضابطہ طور پر نافذ ہوا، جب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کی توثیق کی۔

معاہدے میں جنگ کے خاتمے، لبنان میں امن و استحکام کی بحالی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور ایران کے خلاف امریکی بحری پابندیوں کے خاتمے سمیت کئی اہم نکات شامل ہیں۔

مبصرین کے مطابق چین کی جانب سے اس معاہدے کی حمایت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں خطے میں امن کے لیے سفارتی اقدامات کو مؤثر اور قابلِ عمل راستہ تصور کر رہی ہیں۔

مزیدخبریں