قطری وزیراعظم کا عمان کا اہم دورہ، آبنائے ہرمز پر علاقائی مذاکرات کی تیاری

08:07 PM, 24 Jun, 2026

مسقط: قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بدھ کے روز عمان کا دورہ کیا، جہاں آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل اور انتظامی امور کے مستقبل کے حوالے سے ایران، عراق اور خلیجی ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق مجوزہ مذاکرات کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ کے انتظام، سلامتی اور جہاز رانی سے متعلق معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہے۔ یہ عمل امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات یا بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق اقدامات سے الگ ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمدورفت برقرار رکھنے اور کسی بھی قسم کی ٹرانزٹ فیس کی مخالفت کریں گے، جبکہ ایران سمندری ماحول کے تحفظ، نیویگیشن سہولیات اور سکیورٹی انتظامات کے اخراجات کے حوالے سے تجاویز پیش کر سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ تصور کیا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ خطے میں حالیہ کشیدگی کے باعث اس گزرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں، جس سے عالمی منڈیوں میں بھی بے چینی دیکھی گئی۔

سفارتی حلقوں کے مطابق یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کی ایک اہم شق پر عملدرآمد کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس میں ایران، عمان، عراق اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظامی ڈھانچے پر مذاکرات کی تجویز دی گئی تھی۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ ان مذاکرات میں پاکستان کو ثالث یا سہولت کار کا کردار دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس سے خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب خطے میں وسیع تر مفاہمت اور اعتماد سازی کے لیے ریاض میں ایک الگ علاقائی کانفرنس کے انعقاد پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس میں ایران، خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی شرکت متوقع ہے۔

ادھر عمانی حکومت نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے عارضی بحری راستوں کا اعلان کیا ہے۔ عمان کے مطابق موجودہ شپنگ روٹ کے متبادل کے طور پر شمالی اور جنوبی سمت میں دو نئے راستے مختص کیے گئے ہیں۔

بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے اشتراک سے تیار کردہ منصوبے کے تحت جہازوں کی روانگی مرحلہ وار ہوگی اور ہر جہاز کو الگ سے سفر کے اوقات اور راستے سے متعلق ہدایات فراہم کی جائیں گی۔

عمانی حکام نے واضح کیا ہے کہ بحری جہازوں کے مالکان اور کپتان اپنی سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ تمام جہازوں کو سفر کے دوران اپنا آٹومیٹک آئیڈینٹیفکیشن سسٹم فعال رکھنے اور کسی بھی غیرمعمولی صورتحال کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عمان نے اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کوئی نیا ٹیکس یا راہداری فیس عائد نہیں کی جائے گی، تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔

علاوہ ازیں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری خدمات اور جہاز رانی کے انتظامی امور سے متعلق باضابطہ مشاورت کا آغاز ہو چکا ہے، جسے خطے میں استحکام اور تعاون کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں