مشرق وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے نئے امکانات

09:11 AM, 24 Jun, 2026

ایران امریکہ جنگ پاکستان کی انتھک ثالثی دوڑ دھوپ اور دیگر مسلم و غیرمسلم ممالک کے ظاہری و خفیہ تعاون کے باعث بند ہو چکی ہے، فتح یا شکست کا تعین کرنا سردست مشکل ہے لیکن ایران جو ایک عرصے سے عالمی امریکی پابندیوں میں جکڑا ہوا تھا، اب ان پابندیوں سے آزاد ہونے لگا ہے، اسے اپنا تیل اپنی مرضی سے بیچنے کی اجازت بھی ہو گی، اس کے منجمد اثاثے تحلیل ہوں گے، ایران کو اپنی دولت خود استعمال کرنے کی اجازت بھی ہو گی، ایران اپنی معیشت کو درست کرنے اور اس کی تعمیر نو کے ذریعے تعمیروترقی کے سفر کا آغاز کر سکے گا۔ یہ سب کچھ ایرانی فتح نہیں تو اور کیا ہے۔ ایران کے تباہ حال انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے اسے مالی تعاون بھی میسر ہو گا۔ ایران دیگر ممالک کے ساتھ تعاون و اشتراک کے ذریعے اپنی خوشحالی کا بندوبست کرنے میں آزاد ہو گا۔ یہ فتح و نصرت نہیں تو اور کیا ہے ، ہاں امریکہ یہ کہہ کر کہ ایران کو ہرگز ہرگز ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کرنے دی جائے گی اپنی فتح کا اظہار کر رہا ہے، کرنے دیجئے،۔ ایران تو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ہم ایٹم بم بنانا نہیں چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کے بڑے امام کا فتویٰ بھی موجود ہے اور یہ ایران کی ریاستی پالیسی بھی ہے کہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے جائیں گے۔ ویسے ایران نے تو این پی ٹی پر دستخطوں کے ذریعے اس بات کا عملی ثبوت بھی دے دیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاﺅ پر یقین نہیں رکھتا ہے۔ ایران نے تو ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے اہلکاروں، معائنہ کاروں کو بھی اجازت دے رکھی تھی کہ وہ جب چاہیں ایران آئیں اور ایران کی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کریں اور دیکھیں کہ ایران اپنے عہدو پیمان پر قائم ہے اور وہ ایٹم بم بنانے کی تیاری نہیں کر رہا ہے بلکہ وہ صرف توانائی کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ ایٹمی صلاحیت سول مقاصد کے لئے حاصل کی جا رہی ہے ملٹری مقاصد کے لئے نہیں۔ ایران ایک عرصے تک اپنے اس عزم پر قائم رہا۔ بھر جب ڈونلڈ ٹرمپ نے باراک اوباما کے ساتھ کئے گئے ایرانی معاہدے سے نکل جانے کا اعلان کیا تو ایران کے پاس کچھ بھی کرنے کا جواز ہاتھ آ گیا اور اس نے ایٹمی افزودگی کی سطح بلند کر دی۔ اس طرح ایران نے 450 کلوگرام تک افزودہ یورینیم حاصل کر لیا جس کی افزودگی کی شرح 60 فیصد یا اس سے زیادہ تھی جو سول معاملات کے لئے نہیں بلکہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے اب اسی یورینیم کو تلف کرنے کے لئے چودہ نکاتی مفاہمتی یادداشت میں ذکر کیا گیا ہے کہ اسے کس طرح ایران کی دسترس سے باہر نکالا جائے گا کیونکہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے عزم پر قائم نظر آتا ہے اور اتنی بلند شرح افزودگی والا یورینیم اس کے کسی کام کا نہیں ہے۔ امریکہ اسی حوالے سے باتیں کر کے اسے اپنی فتح قرار دے رہا ہے۔ بہرحال بات اب فتح یا شکست کی نہیں رہی بلکہ جنگ بندی کے بعد مستقل امن قائم کرنے کے معاملات طے کئے جانے ہیں۔ ایران، عرب اور اسرائیل اس معاملے میں فریق ہیں۔ امریکہ اسرائیل کے سرپرست کے طور پر اس معاملے میں اہم فریق ہے کوئی مانے یا نہ مانے امریکہ ایک بڑی معاشی، عسکری اور تہذیبی طاقت ہے مشرق وسطیٰ میں ہی نہیں یورپ و مشرق بعید میں بھی اس کی نفوذ پذیری ہے گو چین ایک عظیم الجثہ معاشی و عسکری طاقت بن چکا ہے اور اس کی عالمی سطح پر نفوذ پذیری بھی اظہر من الشمس ہے لیکن اس کے پاس ابھی تک اس طرح کی قوت نافذہ موجود نہیں ہے جس طرح کی امریکہ کے پاس ہے۔ امریکہ اب بھی اپنی شرائط پر اصرار کرتا ہے اور منوا بھی لیتا ہے۔ حالیہ جنگ میں امریکی طاقت اور قوتِ نافذہ کو زک پہنچی ہے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے امریکی اہداف اور اسرائیل پر قہر و غضب نازل کر دکھایا ہے، ہرمز کی نکہ بندی کر کے ایران نے اپنی جغرافیائی قوت و طاقت کا عملی مظاہرہ بھی کر دکھایا ہے۔ اسرائیل کی کمزوری بھی عربوں پر ہی نہیں دنیا پر عیاں ہو چکی ہے، اسرائیل کو تباہ و برباد کرنا ممکن نظر آنے لگا ہے۔ امریکی و مغربی اقوام کی عملی امداد کے بغیر اسرائیل کو کسی مکھی مچھر کی طرح مسلا اور کچلا بھی جا سکتا ہے، شرط عزم صمیم کی ہے جو ابھی تک عربوں کے پاس نہیں ہے، مسلمانوں کے پاس نہیں ہے کسی بھی قوم کے پاس نہیں ہے۔ بہرحال اس جنگ نے خطے کی ترتیب نو کی بنیادیں رکھ دی ہیں اب نئے اتحاد بنیں گے، معاشی اتحاد بھی اور عسکری اتحاد بھی۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے ساتھ ہی اس کی ابتدا ہو گئی ہے، چین کا اثرونفوذ خطے میں بڑھے گا۔جنگی تباہ کاریوں کے بعد تعمیرنو کے عمل میں چین کلیدی کردار ادا کرے گا۔ متحدہ عرب امارات میں تعمیرنو کا عمل ہو یا ایرانی تباہ حال انفراسٹرکچر کی تعمیر اور نیوم سٹی کا قیام چین ایک اہم عامل کی حیثیت میں نمایاں ہو گا۔ امریکی فوجی اڈوں کا حال تو پہلے ہی مخدوش ہو چکا ہے، ان کے مستقبل پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں، عربوں نے امریکہ کو کھربوں ڈالر اس لئے دیئے کہ وہ ان کی حفاظت کرے گا لیکن حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ صرف اور صرف اسرائیل کے لئے ہے، سارے اڈے صرف اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرتے نظر آئے، عرب نہتے اور بے یارومددگار رہے۔ یہی تجربہ اور سوچ اب خطے کی تشکیل نو کرے گی۔ امریکی اثرات کم ہوں گے۔ پاکستان اور چین کے ساتھ ترکی، قطر اور سعودی عرب بڑے کھلاڑیوں کے طور پر خطے کی تشکیل نو میں اہم کردار ادا کریں گے۔ مشرق وسطیٰ 
میں ایران ایک اہم اور فیصلہ کن عامل کے طور پر ابھرے گا۔ ایران کے حلیفوں بشمول حزب اللہ، حوثیوں و دیگر جنگجو گروہوں کے بارے میں سردست کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے لیکن خطے کی تشکیل نوایک طرف خطے میں امن و خوشحالی کا پیام لائے گی تو دوسری طرف عالمی معیشت میں بھی بہتری اور بڑھوتی ہو گی۔ روس یوکرائن جنگ کے منفی اثرات نے یورپ اور اقوام مغرب کے طرز معاشرت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں وہ مشرق وسطیٰ میں بدامنی اور دہشت گردی کو کسی طور بھی برداشت نہیں کر سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس جنگ میں امریکی اتحادیوں اور نیٹو ممالک نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ سفارتی سطح پر بھی انہوں نے نہ صرف امریکی جنگ کی مخالفت کی بلکہ اسرائیل کے مذموم رویوں کی بھی مذمت کی۔ اس جنگ میں عالمی رائے عامہ امریکہ کے ساتھ نہیں تھی۔ اسرائیل کی عالمی حمایت میں بھی کمی دیکھی گئی۔ اسرائیل کے خلاف جس مزاحمت کا آغاز حماس نے کیا ایران نے اسے مکمل کیا۔ امریکہ و اسرائیل سرخرو نہیں ہوئے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عرب و مسلم ممالک بدلتے ہوئے حالات کو فہم و فراست کے ساتھ اپنے حق میں استعمال کریں۔

مزیدخبریں