بھاری بجٹ اور تشدد کے بڑھتے واقعات

09:06 AM, 24 Jun, 2026


 پنجاب پولیس پاکستان کا سب سے بڑا قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے۔ لگ بھگ دو لاکھ سے زائد اہلکاروں پر مشتمل یہ فورس صوبے کے تقریباً تیرہ کروڑ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ ہر سال پنجاب حکومت پولیس کے لیے اربوں روپے مختص کرتی ہے۔ جدید گاڑیاں، اسلحہ، نگرانی کے کیمرے، فرانزک سہولیات، ڈیجیٹل نظام اور نئی بھرتیاں اس بجٹ کا حصہ بنتی ہیں۔ موجودہ مالی سال میں بھی پنجاب پولیس کو ایک بڑا بجٹ دیا گیا ہے تاکہ جرائم پر قابو پایا جا سکے اور عوام کو بہتر سکیورٹی فراہم کی جا سکے۔ لیکن ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: اگر وسائل اور بجٹ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو پولیس تشدد، حراستی اموات اور مبینہ ماورائے عدالت کارروائیوں میں کمی کیوں نہیں آ رہی؟۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ حالیہ برسوں میں پنجاب پولیس، بالخصوص کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD)، متعدد تنازعات کا مرکز رہی ہے۔ 
لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق 2022 سے اپریل 2026 تک ملک بھر میں پولیس مقابلوں اور حراستی تشدد سے متعلق 364 انکوائریاں شروع کی گئیں۔ حیران کن طور پر ان میں سے 266 انکوائریاں صرف پنجاب میں ہوئیں۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان 266 انکوائریوں کے باوجود صرف 19 فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا احتساب کا نظام واقعی مو¿ثر ہے یا نہیں۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے 2025 کے دوران پنجاب میں ہونے والے پولیس مقابلوں کے حوالے سے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق صرف آٹھ ماہ کے عرصے میں 670 سے زائد پولیس مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ پولیس کی جانب سے صرف دو اہلکاروں کی ہلاکت رپورٹ کی گئی۔ انسانی حقوق کے ماہرین 
کے نزدیک یہ تناسب غیر معمولی ہے اور اس کی آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔
پولیس حکام کا مو¿قف اس سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق پنجاب دہشت گردی، منظم جرائم، ڈکیتیوں اور اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرائم سے نبرد آزما ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دوران مزاحمت کی صورت میں فائرنگ کے تبادلے ہوتے ہیں جن میں ہلاکتیں رونما ہوتی ہیں۔ پولیس حکام یہ بھی کہتے ہیں کہ چند واقعات کی بنیاد پر پوری فورس کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ ہزاروں اہلکار روزانہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کی حفاظت کرتے ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP)، ہیومن رائٹس واچ (HRW) اور جسٹس پروجیکٹ پاکستان (JPP) کا موقف ہے کہ پاکستان میں پولیس تشدد ایک ساختیاتی اور ادارہ جاتی مسئلہ بن چکا ہے۔ ان اداروں کے مطابق اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ پولیسنگ کے فرسودہ طریقہ کار، کمزور احتساب اور ناقص تفتیشی نظام میں پوشیدہ ہے۔
ماہرین کے مطابق پنجاب پولیس کے اندر آج بھی تفتیش کا ایک بڑا حصہ ملزم کے اعترافِ جرم پر انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی جنوبی ایشیا کے جدید ترین اداروں میں شمار ہوتی ہے، لیکن زمینی سطح پر بہت سے تفتیشی افسران اب بھی روایتی طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دورانِ حراست تشدد کے الزامات سامنے آتے رہتے ہیں۔ احتساب کا مسئلہ بھی کم اہم نہیں۔ اگر کسی پولیس اہلکار کے خلاف شکایت درج ہو جائے تو اس کے خلاف کارروائی کا عمل اکثر طویل اور پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ متعدد مقدمات میں انکوائریاں تو شروع ہوتی ہیں لیکن ان کا منطقی انجام سامنے نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ کارکردگی کا دباو¿ ہے۔ پاکستان میں پولیس افسران سے فوری نتائج کی توقع کی جاتی ہے۔ میڈیا، سیاسی قیادت اور عوام سب چاہتے ہیں کہ جرائم کا فوری خاتمہ ہو۔ اس دباو¿ کے نتیجے میں بعض اہلکار قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے شارٹ کٹ اختیار کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی سوچ بعض اوقات مبینہ جعلی مقابلوں اور غیر قانونی طاقت کے استعمال کو جنم دیتی ہے۔ پنجاب پولیس کے لیے مختص کیے جانے والے بھاری بجٹ کے باوجود اگر عوام کے اندر پولیس کا خوف کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے تو یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ پولیس پر عوامی اعتماد کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب شہری تھانے جانے سے خوف محسوس کریں یا انصاف کے بجائے طاقت کا تصور ذہن میں آئے تو یہ ریاستی اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب پولیس میں جدید فرانزک تفتیش کو لازمی بنایا جائے، حراستی تشدد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے، تمام تھانوں اور تفتیشی مراکز میں کیمرے نصب کیے جائیں اور آزادانہ نگرانی کا مو¿ثر نظام قائم کیا جائے۔ اسی طرح پولیس اہلکاروں کی تربیت میں انسانی حقوق، کمیونٹی پولیسنگ اور جدید تفتیشی مہارتوں کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔ پنجاب پولیس کے ہزاروں اہلکار دیانت داری اور بہادری سے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ان کی قربانیوں سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن چند غلط واقعات پورے ادارے کی ساکھ کو متاثر کر دیتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی پولیس کو ایک جدید، پیشہ ور اور عوام دوست ادارہ بنانا چاہتی ہے تو صرف بجٹ میں اضافہ کافی نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت ادارہ جاتی اصلاحات، شفاف احتساب اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی ہے۔

مزیدخبریں