واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا حملہ بہت کمزور اور پہلے سے متوقع تھا، جس کا امریکا نے بھرپور اور مؤثر طریقے سے دفاع کیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بتایا کہ ایران نے العدید ایئربیس پر کل 14 میزائل فائر کیے، جن میں سے 13 کو راستے میں ہی مار گرایا گیا، جبکہ ایک میزائل کو جانے دیا گیا کیونکہ وہ کسی خطرناک سمت میں نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے اس حملے میں کوئی امریکی فوجی زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی خاص نقصان ہوا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا، "ایران نے شاید اپنا غصہ نکال لیا ہے، اور امید ہے اب مزید کشیدگی نہیں بڑھے گی۔"
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے حملے سے پہلے امریکا کو آگاہ کر دیا تھا، جس کی وجہ سے حفاظتی اقدامات کیے جا سکے اور نقصان سے بچا گیا۔ ٹرمپ نے اس پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ شاید اب ایران امن کی طرف قدم بڑھائے، جیسا کہ وہ اسرائیل سے بھی امید رکھتے ہیں۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے قطر کے امیر کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں قطر میں واقع العدید ایئربیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے سے کچھ دیر پہلے قطر نے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جبکہ تین دن پہلے یہ خبریں آئیں کہ امریکا نے اپنے 40 جنگی طیارے اس اڈے سے ہٹا لیے تھے۔