اگر اسرائیل حملوں سے رکے گا تو ہم بھی رک جائیں گے، عباس عراقچی

09:59 AM, 24 Jun, 2025

تہران : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان پر ایران نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی جارحیت بند کر دے تو ایران بھی جوابی کارروائیاں بند کر دے گا۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجے تک اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے، تو ایران کی طرف سے بھی کوئی مزید کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی، بلکہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں دفاع کیا گیا ہے۔

عراقچی نے مزید کہا کہ فی الحال جنگ بندی پر کوئی باقاعدہ معاہدہ طے نہیں پایا، اور فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے کا فیصلہ بعد میں حالات دیکھ کر کیا جائے گا۔

ان کے مطابق ایرانی افواج نے مقررہ وقت تک جوابی حملے کامیابی سے مکمل کر لیے ہیں، اور اگر اسرائیل مزید حملہ نہیں کرتا تو ایران بھی خاموش رہے گا۔

وزیر خارجہ نے ایرانی فوج کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہر قسم کی جارحیت کے خلاف خون کے آخری قطرے تک لڑنے کو تیار ہیں، اور پوری قوم اپنی افواج کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے صبح 6 بجے کے بعد حملے روک دیے ہیں، جسے ممکنہ طور پر کشیدگی میں کمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں