اِنصاف کے چور دروازے

09:42 AM, 24 Jun, 2025

گلف نیوز کے 3 جون 2025ء کے شمارے میں ایک خبر شائع ہوئی ہے۔ خبر یہ ہے کہ راس الخیمہ میں ایک اماراتی خاتون نے اَپنے آشنا کے ساتھ مل کر اَپنے اماراتی شوہر کو قتل کردِیا۔ اْس کا شوہر ذیابیطس کا مریض تھا۔ یہ خاتون اْسے انسولین کے انجکشن لگایا کرتی تھی۔ اْس نے انجکشن میں انسولین کی مقدار یہ سوچ کر بڑھا دی کہ اِس طرح اْس کا شوہر آہستہ آہستہ مر جائے گا اَور کسی کو اْس پر شک بھی نہیں ہوگا۔ لیکن اِس سے بات نہیں بنی۔ چنانچہ اْس نے انجکشن میں بے ہوشی کی دوا شامل کردی۔  اِس سے شوہر بے ہوش ہوگیا۔ خاتون کو لگا کہ شوہر مر گیا ہے۔ چنانچہ اْس نے اَپنے آشنا کو بلایا کہ وہ لاش ٹھکانے لگانے میں اْس کی مدد کرے۔ جب آشنا آیا تو اْسے معلوم ہوا کہ شوہر اَبھی زندہ ہے۔ چنانچہ اْس نے شوہر کا گلا گھونٹ کر اْسے مارڈالا اَور اَپنے پاکستانی ڈرائیور کو کہا کہ وہ لاش کو ٹھکانے لگانے میں اْس کی مدد کرے۔ اْس نے ڈرائیور کو مدد کرنے اَور خاموشی کے عوض دس ہزار درہم دینے کی آفر کی۔ اْن دونوں نے لاش کار میں ڈالی اَور دور پہاڑی علاقے میں لے جاکر لاش ایک وادی میں پھینک دی۔ وہ لاش ایک چرواہے کو ملی اَور اْس نے پولیس کو بتا دیا۔ پولیس نے تیزی سے تفتیش کی اَور اْس خاتون، اْس کے آشنا اَور پاکستانی ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔ اْن تینوں نے جرم کا اِقرار کرلیا۔ عدالت نے تینوں کو موت کی سزا سنادی۔ اْس عورت کے بچوں نے دیکھا کہ باپ تو مرگیا ہے، اَب ماں بھی جانے والی ہے چنانچہ اْنہوں نے ماں کو معاف کردِیا۔ چونکہ وہ مقتول کے وارث تھے لہٰذا قانون کے مطابق وہ دیت لے سکتے تھے یا معاف کرسکتے تھے۔ اْنہوں نے ماں کو معاف کردیا۔ ماں کی موت کی سزا عمر قید میں تبدیل ہوگئی۔ ایک سال بعد بچوں نے ماں کی وہ سزا بھی معاف کردی اَور ماں آزاد ہوگئی۔ باقی دونوں مجرموں کی سزا برقرار رہی۔
اِس ساری کہانی کو سن کر کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اِنصاف کے تقاضے پورے ہوگئے ہیں؟ وہ خاتون جو اَصل مجرم تھی، وہ تو صاف  بچ گئی اَور جن لوگوں نے اْس کے جرم میں اْس کی مدد کی وہ موت کے گھاٹ اْتر گئے۔ اِس لیے کیونکہ اْنہیں معاف کرنے والاکوئی نہیں تھا۔ یہ سارا مقدمہ یہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کے قانونِ قصاص و دیت میں مجرموں کے لیے ایک بہت بڑا چور دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اْس چور دروازے کو اِستعمال کرکے لوگ قتل جیسے بھیانک جرم کرنے کے باوجود صاف بچ جاتے ہیں۔ وہ جرم جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے ایک اِنسان کی ناحق جان لی اْس نے گویا پوری اِنسانیت کو قتل کردیا، اْس جرم کا مجرم صرف اِس لیے بچ جاتا ہے کیونکہ کوئی اْسے اْسی طرح یا رقم لے کر معاف کردیتا ہے۔ چنانچہ یہ جرم تمام تر کوششوں کے باوجود مسلمان ممالک سے ختم نہیں ہوپارہا۔ وہ کافر ممالک جہاں قتل کی سزا اگرچہ موت نہیں بلکہ عمر قید ہے لیکن وہاں معافی کا کوئی چور دروازہ نہیں کھلا، وہاں قتل پر بہت حد تک قابو پالیا گیا ہے۔ دْنیا کے محفوظ ترین ممالک، جہاں لوگوں کی جان محفوظ ہے، سوئٹزرلینڈ، ناروے، سویڈن، آسٹریا، ڈنمارک، کینیڈا، فن لینڈ اَور نیوزی لینڈ ہیں۔ اِن میں ایک ملک بھی مسلمان نہیں ہے۔ 
کہا جاتا ہے کہ اِسلام میں قتل کا مقدمہ ریاست اَور مجرم کے درمیان نہیں ہے بلکہ مقتول کے ورثاء اَور قاتل کے درمیان ہے۔ اگر اِس بات کو دْرست تسلیم کرلیا جائے تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب کسی مسلمان ریاست میں کوئی قتل ہو تو مقتول کے وارثوں کو مجرم کو پکڑنے میں ریاست کی مدد نہیں لینی چاہیے۔ وہ لوگ خود ہی مجرم کو پکڑیں اَور چاہیں تو اْسے قتل کردیں یا چاہیں تو دیت لے کر اْسے معاف کردیں۔ کیا آج کی دْنیا میں کوئی ذی ہوش شخص اِس بات کو دْرست تسلیم کرسکتا ہے؟ اگر مقتول کے لواحقین ریاست سے درخواست کریں کہ مجرم کو پکڑنے میں ہماری مدد کرے تو اْنہیں ریاست کو اِس کام کا معاوضہ دینا چاہیے۔ اگر ریاست مجرم کو پکڑ لے تو مقتول کے لواحقین اْس کے ساتھ جو چاہے سلوک کریں۔ اگر مقدمہ کسی عدالت میں جائے توعدالت اگر اْس شخص کو قاتل قرار دے تو لواحقین کے حوالے کردے کہ اَب تم جو چاہو اِس کے ساتھ کرو۔ لیکن یہ سب نہیں ہوتا۔ جب بھی کہیں قتل ہوتا ہے تو ریاست خودبخود حرکت میں آجاتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کے اَندر قانون کی حکمرانی اَور لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کی ذمے داری ریاست کی ہے۔ وہ زمانہ جب ریاست نہیں ہوتی تھی، پولیس اَور عدالتیں بھی قائم نہیں تھیں، ریاست لوگوں کی جان، مال اَور عزت کی حفاظت کی ذمے دار نہیں تھی، تب تو یہ بات تسلیم کی جاسکتی تھی کہ معاملہ مقتول کے لواحقین اَور قاتل کے درمیان تھا۔ اَب جبکہ صورتِ حال بدل گئی ہے، ملک میں اَمن وامان برقرار رکھنا ریاست کی ذمے داری ٹھہری ہے، یہ بات کیسے تسلیم کی جاسکتی ہے کہ ریاست محنت کرکے ایک مجرم کو پکڑے، عدالت  کا پورا نظام حرکت میں آئے اَور ملزم پر مقدمہ چلے اَور کوئی اْسے پیسے لے کر معاف کردے اَور ریاست منہ دیکھتی رہ جائے۔ ایک خطرناک مجرم جس نے اِنسانی جان لینے کا گھناؤنا جرم کیا ہے، وہ آرام سے آزاد ہوکر معاشرے میں گھومنے لگے اَور اْسے کوئی کچھ نہ کہہ سکے۔ اگر یوں ہونے لگے تو ملک میں امن و امان برقرار رکھنا اَور لوگوں کی جان کی حفاظت کی ذمے داری پھر ریاست پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ اگر یہ ذمے داری ریاست کی ہے تو پھر کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جس مجرم کو چاہے پیسے لے کر یا ویسے ہی معاف کردے۔اِس حوالے سے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 178کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اْس میں دیت لے کر معاف کردینے کا ذکر ہے۔ لیکن سورہ النساء کی آیت نمبر 92میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ دیت کا معاملہ صرف قتل خطاء کی صورت میں ہے۔ بہت سے مسلمان ممالک نے سورۃ البقرہ کوپکڑ کردیت کا قانون لاگو کررکھا ہے۔ کچھ نے اَیسا نہیں بھی کیا۔ مثلاً ملیشیا میں دیت کا قانون لاگو نہیں ہے۔ اِسی طرح ترکی میں بھی چند جگہوں پر یہ قانون لاگو ہے لیکن پورے ملک میں دیت کا قانون موجود نہیں ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام مسلمان یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ دیت کا قانون قتل عمد کی صورت میں لاگو ہونا چاہیے۔ اَیسا سوچنا دْرست بھی ہے۔ نبی اکرم ؐکی احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے دیت کا قانون قتل خطاء کی صورت میں لاگو ہوتا ہے، قتل عمد کی صورت میں نہیں۔ مثلاً آپؐ نے فرمایا ’’قیامت کے دِن مقتول اَپنا کٹا ہوا سر ہاتھ میں پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوگا اَور دہائی دے گا کہ مجھے اِنصاف دِلایا جائے۔‘‘ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اِس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ وہ تو ٹھیک ہے لیکن تمہارے لواحقین نے دیت کی رقم لے کر قاتل کو معاف کردِیا تھا، لہٰذا اَب کچھ نہیں ہوسکتا؟ ایک اَور حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا ’’جو شخص اندھا دھند مارا جائے پتھروں کے ساتھ پتھراؤ میں یا کوڑوں کے ساتھ مارنے میں یا لاٹھیوں کی لڑائی میں اِس کا حکم قتل خطاء کا ہے۔ اْس کی دِیت خطاء کی دِیت ہے۔ اَور جو شخص جان بوجھ کر مارا جائے وہ قصاص کا سبب ہے۔ جو شخص اْس کے در سے حائل ہو اْس پر اللہ کی لعنت اَور اْس کا غضب ہے۔ اْس سے فرض اَور نفل عبادت قبول نہ کی جائے گی۔‘‘ (ابوداؤد، نسائی)۔
جو کہانی شروع میں بیان کی گئی ہے وہ یہ بتاتی ہے کہ جس طرح یہ قانون چند ممالک میں لاگو ہے وہاں لوگوں، خاص طور پر امیر لوگوں کے پاس قتل کرنے کا لائسنس آجاتا ہے۔ وہ جسے چاہیں قتل کردیں اَور پیسے دے کر جان چھڑا لیں۔ اِسی طرح  دھونس اَور دھمکی کے ذریعے بھی لوگوں کو دیت لینے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔  دْنیاکا کوئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ اْس مقدمے میں جو فیصلہ ہوا وہ عدل و اِنصاف کے تقاضے پورا کرتا ہے۔ اگر اْس عورت کے بچے مقتول کے قانونی وارث نہ ہوتے اَور وہ اَپنی ماں کو چھڑانے کے لیے اْسے معاف نہ کرتے تو وہ بھی موت کے گھاٹ اْترتی۔ لیکن جس عورت نے سب کچھ پلان کیا، جس کی وجہ سے وہ شخص قتل ہوا وہ نہایت آرام سے باہر آگئی اَور دوسرے دو افراد اَپنی جان سے گئے۔ اَیسی نااِنصافی کو اِسلامی قانون کا نام دینا خود بہت بڑی زیادتی اَور نااِنصافی ہے۔ ہمیں اِس پر غوروفکر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ساری دْنیا میں ہمارے اِس قسم کے غلط نظریات کی وجہ سے ہمارا دِین خواہ مخواہ میں بدنام ہورہا ہے۔ 

مزیدخبریں