جنگ کے زمانوں میں محبت کی بات کریں

09:41 AM, 24 Jun, 2025

محبت ایک ایسا تجربہ ہے جس نے صدیوں سے ادب، فلسفہ اور نفسیات کی سرحدیں عبور کی ہیں۔ اس کا پیمانہ دل نہیں، روح ہے، اور اس کی زبان نثر نہیں، فکر اور احساس کا امتزاج ہے۔ مرزا غالب، میر تقی میر، ولیم شیکسپیٔر، وارث شاہ، اور جون ایلیا … یہ نام اُس غزل و نثر، اُس فلسفہ و فن اور اُس سچے درد کی ترسیل ہیں جن میں عشق کا ہر رنگ بدلتا رہتا ہے، مگر اُس کی گہرائی کبھی کم نہیں ہوتی۔
غالب کے نزدیک عشق عقل سے نکل کر بے خودی کا تجربہ ہے۔ ان کے خطوط اور فکری مکالموں میں عشق وہ سوال بن جاتا ہے جو ہمیشہ معلق رہتا ہے۔ عقل کہتی ہے ’’تم رکو، سوچو‘‘، تو عشق آگے دھکیل دیتا ہے ’’خود کو بھلا دو، جل کر بکھر جاو‘‘۔ غالب کی نثر میں ایسا جادو ہے جو ہر عارضی حقیقت کو فنا کر کے ایک دائمی وجود کے قریب لے آتا ہے۔ عشق اگر وصال نہ دے، تب بھی زندگی کی لذت اس میں گم ہوتی نہیں۔ ’’عشق کا خزانہ وہ ہے جو جیب میں نہ ہو، مگر عمر بھر کا سرمایہ بن جائے‘‘ … یہ کہنا اس کی گہرائی کا اعتراف ہے۔ میر تقی میر نے عشق کو پھول نہیں، پہاڑ جانا ہے۔ ان کے اشعار اور نثر میں دکھ، فراق اور درد ہی محبت کی وضاحت ہیں۔ عشق میر کے یہاں ایک بھاری پتھر ہے، ایک نازک شیشہ ہے، جو ہلنے سے ٹوٹ جائے۔ اس کے ہر لفظ میں ایک سادہ، بے ساختہ صداقت ہے … عاشق کا خود سے جہاد، اُس کی سچائی اور کثرت جذبات میں ٹوٹ جانے کا خوف۔ میر کے ہاں عشق نہ فلسفیانہ سوال ہے، نہ صوفیانہ راز، بلکہ ایک یوں جلادی چیز ہے جس کی راکھ سے شخصیت بنتی ہے۔
شیکسپیٔر نے عشق کو انسانی تصویر سے جوڑا، اسے ڈرامائی رنگوں میں اور نفسیاتی پیچیدگیوں میں ڈھالا۔ اُن کے سونات، ’’رومیو و جولیٹ‘‘، ’’اوتھیلو‘‘ … ہر جہاں حب اور اختلاف، جنوں اور عقل، حسن و جرم کا نشتر لے کر نقل و حرکت کرتا ہے۔ Sonnet 116 میں عشق کو ’’ایک ایسا نشان‘‘ کہا گیا ہے جو نہ بدلتا ہے، نہ مٹتا ہے، اور طوفانوں سے نہیں ڈرتا۔ رومیو کا جولیٹ تک پہنچنے کا جنون اور اوتھیلو کا محبوبہ پر رحم کھا جانا … وہ سادگی جس میں محبت کے خلوص سے زندگی بدل جاتی ہے۔ 
وارث شاہ نے عشق کی راہ مجازی سے حقیقی تک کھولی۔ ’’ہیر رانجھا‘‘ میں عشق نہ صرف ایک انسانی تعلق ہے، بلکہ ایک روحانی انقلاب بنتا ہے۔ رانجھا جب اپنا گھر بار چھوڑ کر جنگل میں جا بیٹھتا ہے، جب وہ جوگی بن کر خود کو فنا کے سفر میں کھو دیتا ہے … وہ محبت کا وہ ارتقا ہے جو محبوب کے ذریعے خالق کی تلاش کا آغاز کرتا ہے۔ عشق کا ہونا یہاں دنیا سے منہ موڑ کر سچائی کی طرف قدم بڑھانے کا نام ہے … ایک سچا عاشق روحانی آزادی کی قیمت ادا کرتا ہے۔
جون ایلیا آئے تو عشق نقاب بدل گیا۔ وہ زمانے کے شکوک اور انفرادیت کے تجربے میں، محبت کو کبھی راہ پرستی، کبھی صورت گری کے بیانیے میں پیش کرنے لگے۔ بنیادی طور پر عشق ایک ’’عدم‘‘ بن گیا … کبھی دیا جا رہا ہے، کبھی گرا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے عشق کی پھانس کو بھی دیکھا، اُس میں خرد و انا کی بغاوت کو بھی اور اُس میں وجود کی گہرائیوں کا ناقابل یقین تضاد بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ عشق وہ شے نہیں جو سمجھ میں آئے، بلکہ وہ سوال ہے جو سوال بنے رہتا ہے … اور اس سوال میں وہی ناری تلاش ہوتی ہے کہ کبھی پوری نہ ہو۔
ان پانچوں کے درمیان حب کی بنیادی حقیقت بدلتی نہیں، لیکن اس کی سمت، زبان، شدت اور شناخت بدل جاتی ہے۔ غالب اور میر میں عشق فکری زخم ہے۔ شیکسپیٔر میں انسانیت کی عکاسی ہے۔ وارث شاہ میں عشقِ حقیقی کی سمت ہے۔ جون ایلیا میں محبت کا تشکیک، وجود کا فلسفہ اور تجربے کی تضادیت ہے۔ یہ سارے نقطہ نظر یہ کہانی مشترک کرتے ہیں کہ عشق ایک ایسا سفر ہے جس میں انسان مٹتا ہے، بدلتا ہے اور کبھی ایک مسئلہ کے جواب میں نہیں بسا میں ہوتا، بلکہ سوال کے ساتھ خود کو برقرار رہنے دیتا ہے۔محبت صرف محبت نہیں ہوتی۔ یہ سوال ہے، درد ہے، تصوف ہے، عدم ہے، خانہ خراب ہے۔ ادب نے اسی کھنڈرات میں خود کو تعمیر کیا ہے۔ چاہے غالب کی شعلہ باون دل کی صورت ہو، میر کی بھاری داستان ہو، شیکسپیٔر کا ڈرامائی مظہر ہو، وارث شاہ کی صافی راہ ہو یا جون ایلیا کا دم خم عشق کا تضاد ہو، یہ عشقیہ کیفیت کسی ایک رنگ میں نہیں رہتی۔ یہ ایک چھتری ہے جس چھپ چھپ کر جلتا ہے، چھپپ چھپ کر کھلتا ہے۔ اور ہر شاعر، ہر نثرنگار، اس میں سے اپنا قطرہ نکال کر رکھ جاتا ہے۔ محبت ان کے سینے کی سانس میں گھس کر بیرونی چہرے کو فنا کر دیتی ہے اور اندرونی چہرے کو حقیقت کے ساتھ ملا دیتی ہے۔ یہی عشق کا راز ہے … وہ راز جو شاعری پہن کر ہم سے لبھوائے جی رہے ہیں، اور ہماری روحوں کے دریچے انہیں آنے دیتی رہتی ہیں۔
شاہ شمس تبریزی نے اظہار کے ساتھ چالیس اصول بھی بتا دئیے: ’’خدا کو دل سے تلاش کرو، نہ کہ دماغ سے۔ محبت کا راستہ دل سے گزرتا ہے، عقل اس میں رکاوٹ بنتی ہے۔ خدا کو پانے کے لیے کسی مذہب، قوم یا فرقے کی قید نہیں، سچا عاشق ہر بندش سے آزاد ہوتا ہے۔ ہر لمحہ نیا ہے، ہر دن نئی مخلوق کا دن ہے، تبدیلی فطرت کا قانون ہے، خود کو بھی بدلنے دو۔اپنے اندر جھانکو، باہر خدا کو نہ ڈھونڈو۔ جو خود کو پہچان لے، وہ خدا کو پا لیتا ہے۔محبت وہ آگ ہے جو نفس کو جلا دیتی ہے، نفس کی نفی کیے بغیر عشق کی حقیقت نہیں کھلتی۔ خدا کو صرف محبت سے جانا جا سکتا ہے، علم سے نہیں۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں، لوٹ کر ہمارے پاس آتا ہے۔ اچھائی یا برائی، سب پلٹ کر لوٹتی ہے۔ صبر اور شکر عشق کے دو بازو ہیں۔ جو کچھ بھی تمہیں اندر سے توڑ دے، وہی تمہیں خدا سے جوڑتا ہے۔ دعا صرف الفاظ نہیں، ایک دل کی کیفیت ہے۔ محبت ایک دریا ہے، اس میں ڈوبنے سے ڈرنا نہیں۔ راستے بہت ہیں، مگر منزل ایک ہے۔ ہر شخص تمہیں خدا کی طرف ایک راستہ دکھا سکتا ہے، اگر تم دیکھ سکو۔ دنیا ایک آئینہ ہے، تم جیسا سوچو گے ویسا دکھے گا۔ تکبر انسان کو خدا سے دور کرتا ہے، عاجزی قریب۔ علم وہی فائدہ دیتا ہے جو دل کو نرم کرے۔ حقیقی صوفی وہ ہے جو کسی پر حکم نہ لگائے۔ تم جس سے نفرت کرتے ہو، اس میں بھی خدا کی جھلک ہے۔ محبت خاموشی میں پروان چڑھتی ہے۔ محبت روحوں کا رشتہ ہے، جسموں کا نہیں۔ محبت میں قیمت نہیں، قربانی ہوتی ہے۔ خدا ہر چیز میں ہے، ہر لمحے میں، ہر حالت میں۔ جو کچھ تمہیں دکھ دے رہا ہے، وہ تمہیں سکھانے آیا ہے۔ محبت اندھا نہیں کرتی، آنکھیں کھولتی ہے۔ اپنے دل کو زنگ نہ لگنے دو، وہی تمہارا روحانی آلہ ہے۔ خوف اور عشق ایک دل میں نہیں رہ سکتے۔ اپنی خامیوں کو پہچانو، دوسروں کی نہیں۔ خدا کے نزدیک سب برابر ہیں، کوئی بڑا یا چھوٹا نہیں۔ محبت اختلافات کو قبول کرتی ہے، نفرت نفی کرتی ہے۔ روحانی سفر تنہا طے کرنا ہوتا ہے۔ جو تمہیں تکلیف دیتا ہے، وہی تمہیں خودی کی پہچان دیتا ہے۔ خاموشی بھی ایک زبان ہے، دل کی۔ جو کچھ تمہارے دل میں ہے، وہی تمہاری حقیقت ہے۔ سچ بولنا عبادت ہے، خاص کر جب مشکل ہو۔ محبت کرنے والا ہر ایک سے محبت کرتا ہے، دشمن سے بھی۔ دل وہ مکان ہے جہاں خدا رہتا ہے، اسے صاف رکھو۔ راستہ تلاش نہ کرو، خود کو تلاش کرو۔ محبت کا انجام فنا نہیں، بقا ہے۔ محبت سب سے بڑی عبادت ہے۔ آخرکار، سب کچھ محبت ہے، اور محبت ہی سب کچھ ہے۔
نہ جانے محبت زیادہ خطرناک ہے کہ جنگ لہٰذا میں نے جنگ کے زمانوں میں محبت کی باتیں آپ سے شیئر کر دیں، قبول فرمائیں۔ حقیقی محبت اور حق پر جنگ بہرحال قرب الٰہی کا ذریعہ بنتے ہیں۔   (ختم شد)

مزیدخبریں