ٹرمپ، مودی اورنیتن :ابلیسی سیاست کے نمائندے

09:38 AM, 24 Jun, 2025

دنیا بھر کے مہذب انسان چیخ رہے ہیں ٗ چلا رہے ہیں ٗ مذمت کر رہے ہیں لیکن طاقت کی اپنی زبان ہوتی ہے جس کا اظہار اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران پر امریکی حملے کے بعد اپنے بیان میں کیا کہ’’ پہلے طاقت آتی ہے پھر امن ‘‘ لیکن امن تو دو طرفہ معاہدے کانام ہے یکطرفہ تو صرف غلامی ہوتی ہے اور کوئی قوم ہمیشہ غلام نہیں رہتی۔ دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ طاقت کے بل بوتے پر قائم کیا ہوا امن صرف اُتنی دیر تک قائم رہتا ہے جب تک کمزور طاقت ور نہیں ہو جاتے اور اُس کے بعد پھر خون ریزی کا ایک نیا میدان لگ جاتا ہے ۔ امریکہ اپنی طاقت کا طوفان اٹھائے عالمی امن کو برباد کرنے پرتلا ہے اور دنیا میں ابھی تو کوئی دکھائی نہیںدے رہا جو اُس کا ہاتھ روک سکے لیکن ایران اسرائیل جنگ نے ایک بات تو واضح کردی کہ دنیا میں اسرائیل نامی کوئی ریاست نہیں بلکہ یہ امریکہ کی ایک دہشتگرد تنظیم ہے جس کے ہر ناجائز عمل کا دفاع کرنے کیلئے امریکہ دنیا کے ہر اُس ملک پر چڑھ دوڑے گا جو اسرائیلی جارحیت کا جواب دے گا ۔ امریکی ہر اُس سچائی کا اسقاط کرنے پہنچ جائے گا جس کے مقابل اسرائیل کا جھوٹ کھڑا ہو گا ۔ امریکی امن کا خواب مشرقِ وسطیٰ میں آ کر چکنا چور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔اس کی ہرگز وجہ یہ نہیں کہ ایران ٗ امریکہ سے زیادہ طاقتور ہے لیکن اس کی ایک وجہ یہ ضرور ہے کہ دنیا کی مہذب ریاستوں کے سامنے جارحیت کرتا اسرائیلی اور اُس کا سہولت کار برہنہ رقص کررہے ہیں ۔میں نہیںسمجھتا کہ دنیا زیادہ عرصہ تک یہ برداشت کرے گی ۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کے بعد اسرائیل پاکستان کی طرف منہ لازمی کرے گا لیکن میں اس حوالے سے کلیئر ہوں کہ اگر اسرائیل نے کبھی ایسی کوشش کی تو یہ زمین پر انسانوں کی آخری جنگ ہو گی ۔ 
سارا لاطینی امریکہ ایران پر امریکی حملے کے بعد چیخ اٹھا ہے کیوبا ٗ چلی ٗ میکسیکو ٗکولمبیا اور وینزویلا نے کھلے عام امریکی جارحیت کی مذمت کردی ہے ۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی سفارت کاری کا مشورہ دیا ہے ۔پاکستان اورترکی نے امریکی حملے کو خطے کیلئے خطرہ قراردیا ہے لیکن صرف دوسرے ممالک ہی کیوں خود امریکہ کے اندر سے ٹرمپ کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں ۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے کہا ہے کہ ٹرمپ ایران اسرائیل تنازع ختم کرائے کے شہریوں کا قتل عام بند کروائے۔امریکی سینٹربرنی سینڈرز نے ایران پر حملے کو امریکی آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کو جنگ کے فیصلے کا اختیار نہیں ٗ جنگ کا فیصلہ قانون ساز کانگرس کرتی ہے ۔ امریکی سینٹرسارہ جیکب نے بھی امریکی حملے کو غیر آئینی قرار دیا ہے ۔ جہاں تک میں نے امریکی آئین پڑھ رکھا ہے جلد یا بدیر امریکی صدر ٹرمپ کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس نے اپنے امریکی آئین ٗ عالمی قوانین اور این ۔ پی ۔ ٹی کے قوانین کی دھجیاں اڑا کررکھ دی ہیں 
ایران کی وزارت ِ خارجہ نے بھی اعلان کردیا ہے کہ ’’ وقت آ گیا ہے کہ ٹرمپ اپنے غلط اقدامات کو روک لیں ٗ عالمی منڈی نے بھی ٹرمپ کے ٹیرف کو مسترد کردیا ہے ۔ روس دبے پائوں اس جنگ میں داخل ہو رہا ہے ۔دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے لیکن ’’یوتھیا ٹرمپ ‘‘ نہیں سمجھ پا رہا کہ یہ 1945 ء نہیں ۔ اب دنیا کی کون کونسی ریاست کیا کیا بنائے اورچھپائے بیٹھی ہے اُس کے وہم و گما ن میں بھی نہیں ہو گا جس طرح اسرائیل کو اپنے ڈیفنس سسٹم پر ناز تھا لیکن شروع ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی وہ پوری دنیا کے سامنے برہنہ کھڑا حیرت و حسرت سے امریکہ کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ’’ یا تو امن ہو گا یا پھر ایران کیلئے سانحہ ‘‘ دراصل ایران کو ایٹمی حملے کی دھمکی ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ایران اپنے موقف سے باز آ جائے گا ۔ ایران کی صدیوں پرانی تہذیب ہے ٗ ثقافت اور تاریخ اُسے امریکہ کے سامنے جھکنے نہیں دے گی اور پھر ایران اب ایک مسلکی ریاست ہے جس کا سارا فلسفہ فکر ِ حسین ؓ پر کھڑا ہے جو شہادت کا درس دیتاہے سو اِن حالات میں ایران سے پسپائی کی توقع رکھنا سوائے حماقت کے اور کچھ نہیں ٗ اور ایران نے اس کا عملی ثبوت بھی دے دیا ہے کہ امریکہ کے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے بعد بھی ایران نے انتہائی جوانمردی اور جرأت کے ساتھ ایک بار پھر اسرائیل پر میزائلوں کی برسات کردی ہے ۔پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بند کرتے ہوئے امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ اگر کوئی امریکی بحری جہاز ادھر آیا تو واپس نہیں جائے گا ۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے متوقع جانشین کیلئے تین علماء کا اعلان کردیا ہے جن میں اُن کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کانام نہیں ہے جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایران اپنا آخری فیصلہ کرچکا ہے اور امریکی صدر نے اپنے آخری فیصلے پر اب نظر ثانی کرنی ہے کہ کیا ایران کو کسی سانحہ سے دوچار کرکے دنیا کا امن برباد کرنا ہے یا پھر ایک پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کا رستہ کھولنا ہے ۔ امریکہ اگر یہ سمجھتا ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے وہ اسرائیل کی تھانیداری خطے میں قائم کر لے گا تو ایسا کسی صورت ممکن نہیں ہو گا ۔ موجودہ حالت میں دنیا میں سب سے پتلی حالت امریکی صدر ٹرمپ ٗ بھارتی وزیر اعظم نریندمودی اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ہے جن کو اپنی اقوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑگیا ہے۔ فرانس کے صدر نے تو مسٹر مودی سے ہاتھ ملانا بھی مناسب نہیں سمجھا جس کی وجہ اُس وقت سمجھ نہیں آئی لیکن انہوں نے فرانس پہنچ کر سب سے پہلے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھارتی پائلٹس کی صلاحیت جانے بغیر انہیں رافیل 
نہیں دینا چاہیے تھا۔ امریکہ کے دونوں مہرے بھارت اور اسرائیل بُری طرح پٹ چکے ہیں اور امریکہ اپنے ان لنگڑے گھوڑوں کے بل بوتے پر ریس جتنے کا خواہش مند ہے ۔اس سارے کھیل تماشوں میں بہرحال پاکستان کا مثبت اورروشن چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا اور دنیا کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ امن کیلئے ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے لیکن اس کیلئے اسرائیل کو بھی اپنی حد یعنی اوقات میں رہنا ہو گا ۔ دیکھیں آنے والا وقت ہمیں کیا دکھاتا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ امریکی صدر کا اپنا الیکشن نعرہ :’’ سب سے پہلے امریکہ ‘‘ تبدیل ہو کر ’’ سب سے پہلے اسرائیل ‘‘ بن چکا ہے جس کا احساس امریکی قوم کو ہونا شروع ہو گیا ہے ۔ٹرمپ ٗ مودی اور نیتن کو عنقریب اپنے اپنے عوام کے قہر کا نشانہ بننا پڑے گا کہ یہ ابلیسی فکر کے نمائندے اب دنیا بھر کے انسانوں کو ناقابلِ قبول ہوچکے ہیں۔

مزیدخبریں