روح العظیم، امیر العظیم، امیر العظیم

09:43 AM, 25 Jul, 2026


اللہ رب العزت جب کسی سے خوش ہوتا ہے، رب کریم جس انسان فانی سے راضی ہوتا ہے تو وہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ جاﺅ لوگوں کو بتاﺅ کہ یہ اللہ رب العزت کا پسندیدہ بندہ ہے۔ فرشتے اس شخص کے ہم نفسوں کے کانوں میں سرگوشی کرتے ہیں کہ یہ شخص اللہ کا پسندیدہ بندہ ہے۔ اس شخص کے ہم نواﺅں کو القا کیا جاتا ہے کہ یہ اللہ کا پسندیدہ بندہ ہے۔ اللہ اس سے راضی ہے، تم بھی راضی ہو جاﺅ۔ پھر اس شخص کے بارے میں اچھا ہونے کا تصور قائم ہونے لگتا ہے۔ معاشرے میں اس کی شرافت اور پاکیزگی کی باتیں ہونے لگتی ہیں۔
ہمارے ہمدم دیرینہ امیرالعظیم ایسے ہی نفوس کریم و حمیدہ میں سے تھے، ان کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ ”عظیم بھائی اچھے ہیں“ انہیں ملنے والا ہر شخص ان کا گرویدہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔ وہ جس سے بھی ملتے اس پر نفس کا تاثر چھوڑ جاتے۔ وہ اپنے دوستوں کے لئے اطمینان و طاقت کا نشان ہی نہیں بہت بڑی سورس تھے۔جنت دوزخ کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے لیکن اگر کسی کے بارے میں تعوز کیا جا سکتا ہے۔ سوچا جا سکتا ہے اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اللہ رب کریم اسے جنت الفردوس میں جگہ ضرور دے گا۔ کسی شخص کی دنیوی زندگی کی پاکیزگی اور خشیت اللہ دیکھ کر توقع کی جا سکتی ہے کہ اللہ رب کریم اس نفس کو یقینا جنت الفردوس میں جگہ دے گا تو امیرالعظیم ایسے ہی نفوس کریم میں شامل ہوں گے جو اللہ کی رضا سے یقینا جنت الفردوس میں مکین ہوںگے۔
جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودیؓ کی فکر کی تشکیل ہے جس کا مقصد قیام نظام اسلام ہے اور اس مقصد کے لئے ایسے مردان کار پیدا کرنا ہے جو اسوة النبی ﷺ کے مطابق اپنی زندگیاں گزاریں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلیں۔ جماعت اسلامی کا تنظیمی ڈھانچہ ایک طرف فرد کی سیرت و کردار کی تشکیل میں مددگار ہوتا ہے۔ دوسری طرف نظم اجتماعی کے ذریعے افراد کو ایک موثر قوت بناتا ہے۔ امیرالعظیم جماعت کی اس پالیسی کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ وہ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنماﺅں میں شمار کئے جاتے تھے۔ ایک عرصہ تک وہ جماعت اسلامی کے مرکزی شعبہ نشر و اشاعت کے سیکرٹری رہے۔ اپنی اس حیثیت میں انہوں نے جماعت اسلامی کے صاف و شفاف چہرے کو عامة الناس میں متعارف کرایا۔ نشر و اشاعت کے چھوٹے بڑے مراکز، میڈیا ہاﺅسز، رائے عامہ کی تشکیل کرنے والے اصحاب ، میڈیا ہاﺅسز اور موثر افراد کے ساتھ ان کے قریبی رابطے قائم رکھے۔ لوگ کسی بھی جماعت یا پارٹی کا منشور یا لٹریچر پڑھ کر ہی اس کے بارے میں رائے قائم نہیں کرتے بلکہ اس جماعت یا پارٹی کے ذمہ داران کے ساتھ میل ملاقات، بات چیت اور عمومی روابط کے ذریعے اس پارٹی کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ امیرالعظیم ایک ایسی پرکشش شخصیت کے مالک تھے کہ جو بھی ان سے ملتا وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا اور جس کے ساتھ وہ خود ملتے اسے اپنا بنا لیتے تھے۔ وہ چلتی پھرٹی جماعت اسلامی تھے۔ جماعت اسلامی کے کٹر مخالفین بھی نظریاتی طور پر دشمن بھی امیرالعظیم کی شخصیت سے متاثر ہوتے تھے۔ امیرالعظیم ہمہ وقت کسی بھی فرد کی دادرسی اور مدد کے لئے تیار رہتے تھے۔ بلاتفریق رنگ و نسل اور فکروعمل وہ لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے مستعد نظر آتے تھے۔ لوگ ان سے مل کر اپنے نجی و گھریلو معاملات میں بھی مشورہ طلب کر لیا کرتے تھے۔ یہ بات میں ذاتی تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ امیرالعظیم کو اللہ رب العزت نے صبر و تحمل کے ساتھ کسی کی بات سننے کی صلاحیت عطا کی تھی۔ وہ کسی کو بات کرتے ہوئے ٹوکتے نہیں تھے۔ بات سنتے، تسلی سے سنتے اور پھر جب مخاطب چپ کرتا تو اسے جواب دیتے۔ ویسے اللہ نے فطری طور پر انسان کو سننے کے لئے دوکان اور بولنے کے لئے ایک زبان عطا کی ہے۔ فطرت کا منشا یہی نظر آتا ہے کہ زیادہ سنا جائے اور کم بولا جائے۔ امیرالعظیم فطرت پر گامزن تھے۔ زیادہ سنتے اور کم بولتے تھے۔ ان کا ہنستا مسکراتا چہرہ سننے والے کے لئے تسلی و تشفی کا باعث بنتا تھا۔ امیرالعظیم سے ہماری یاد اللہ اس وقت سے ہے جب وہ اسلامیہ کالج میں بی ایس سی کے طالبعلم اور ہم ایف ایس سی میں پڑھتے تھے۔ آپ علاقہ شرقی کے ناظم تھے اور ہم حلقہ میاں میر کے ناظم۔ بطور ناظم علاقہ شرقی امیرالعظیم جب ہمارے گھر تشریف لائے تو ہماری اماں جی کھل اٹھتیں کہ میرے بیٹے کا دوست آیا ہے۔ انفرادی ملاقات کے دوران اذان ہو جاتی تو امیرالعظیم ہمیں نماز باجماعت کے لئے مسجد لے جاتے۔ نماز پڑھتے ہوئے امیرالعظیم اپنے اردگرد سے مکمل طور پر کٹ جاتے اور پورے انہماک کے ساتھ اپنے رب کے حضور پیش رہتے۔ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی کرتے۔ اس دور سے قائم ہونے والا تعلق گزشتہ روز ان کے جنازے تک قائم رہا۔ ہم آخری وقت تک سمجھتے رہے کہ ہم ان کےلئے ”انتہائی اہم شخصیت“ ہیں۔ فیوچر وژن کے قیام اور پھر گارڈن ٹاﺅن منتقلی تک ان کے ساتھ برادرانہ تعلق قائم رہا۔ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ جب انہوں نے گارڈن ٹاﺅن میں دفتر قائم کرنے کے لئے موجودہ عمارت خریدی تو ہمیں اس کا وزٹ کرایا۔ جب سپیشل ٹی وی قائم کیا تو ہمیں اس میں پروگرام کرنے کی دعوت دی۔ ہم نے بھی ریکارڈنگ کے طے شدہ شیڈول سے کبھی روگردانی نہیں کی۔ ہمارے اب تک 500 سے زائد پروگرام نشر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یعنی امیرالعظیم نے ہمیں اپنا یوٹیوب چینل بنانے کی دعوت بھی دی اور اس کے لئے فنی و تکنیکی معاونت بھی فراہم کی۔
امیرالعظیم ایک چلتی پھرتی تحریک اسلامی تھے۔ ایک صالح اور پاکباز روح تھی، جس نے جی بھر کر زندگی بیتائی۔ توشہ آخرت کے حصول کےلئے، رب کریم کی رضا کے حصول کے لئے مادی زندگی کو بھرپور انداز میں استعمال کیا۔ زندگی کا ایک ایک لمحہ جی بھر کر جیا۔ امیرالعظیم نے اپنی جماعت کو امر کیا اور خود بھی امر ہو گیا۔ اللہ رب کریم اس پاک روح کو جنت الفردوس میں جگہ دے گا، ضرور دے گا۔ میری نہیں ہزاروں لاکھوں انسانوں کی التجا ہے دعا ہے گزارش ہے کہ اللہ انہیں اپنے حبیب کے صدقے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائ۔ آمین یا رب العالمین۔

مزیدخبریں