اب کون سے موسم سے کوئی آس لگائے

09:39 AM, 25 Jul, 2026

بارش، برکھا، ساون، میگھا، باراں، رم جھم، برسات اور برشگال جیسے لفظوں کو اردو شعرا نے اپنے سیکڑوں نہیں ہزاروں اشعار میں رومان پرور فضا پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ برصغیر میں بننے والی بیشتر پرانی فلمیں بارش برسنے اور اس میں ہیروئین کے بھیگ جانے اور کسی ہیرو کے اچانک کہیں سے نمودار ہو کر ہیروئین کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھیں۔ ایسے ہی کسی منظر کے دوران وہ ایک دوسرے کو دل دے بیٹھتے تھے۔ اس طرح کے مواقع پر کوئی بہت خوبصورت سا گانا بھی عکس بند کیا جاتا جو اس تمام تر منظر کی ایسے دلنشین انداز میں ترجمانی کرتا کہ فلم بینوں کے ذہنوں پر اس کے بول منظر سمیت ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتے۔ ماضی کی ایک نسل ایسی فلمیں دیکھتے ہوئے پروان چڑھی۔ اسی قسم کی فلموں اور شاعری کی بدولت بارش کے ساتھ ایک عجیب قسم کی رومانویت کا تصور منسلک ہو گیا۔ اس دور میں شاید کبھی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب بارش اور برسات کا لفظ اپنی معنویت یکسر تبدیل کر لے گا۔ لوگ فطرت کے جس مظہر کو بارانِ رحمت کہتے، دعائیں مانگتے اور شدت سے انتظار کرتے ہیں، وہ ایک خوفناک عفریت میں تبدیل ہو جائے گا۔گزشتہ چند برسوں سے بارش کا موسم وطن عزیز میں باقاعدہ زحمت بن کر آنے لگا ہے۔ اب اس موسم کے ساتھ رومانویت کا تصور ختم ہو گیا ہے اور تباہی و بربادی کا تصور منسلک ہو گیا ہے۔ ہر سال جیسے ہی برسات کا موسم مون سون شروع ہوتا ہے، ملک کے طول و عرض سے روح فرسا خبریں سماعتوں اور بصارتوں سے ٹکرانے لگتی ہیں۔ میدانی علاقوں میں ندی نالوں کا بپھرنا، دریاں میں سیلاب آنا، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور کلاﺅڈ برسٹ، دیہی علاقوں میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے جانی نقصانات کے واقعات، شہروں میں سیوریج کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے، کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں اور سڑکوں پر پھسلن کے باعث حادثات کی خبریں ایک معمول بن چکی ہیں۔ اب تو اس موسم میں لوگ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں اور گھروں کے اندر رہتے ہوئے بھی ڈرے اور سہمے رہتے ہیں۔ برسات کے مزاج کی اس تبدیلی میں قدرت کا ہاتھ کم جبکہ انسان کی اپنی کوتاہ اندیشی اور انتظامی نا اہلی کا عمل دخل زیادہ ہے۔ کوتاہ اندیشی یوں کہ زندگی کو جدت اور ترقی سے ہم آہنگ کرنے کی انسانی خواہش نے صنعتی عمل کو اس قدر فروغ دیا کہ اس کے نتیجے میں کرہ ارض کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھ گیا جس کے نتیجے میں موسمیاتی چکر بری طرح متاثر ہوا۔ گلیشیئر پگھلنے لگے، معمول سے زیادہ بارشیں ہونے لگیں اور سمندروں کے پانی کی سطح بلند ہونے لگی۔ انتظامی نااہلی یوں کہ انسان کو اس تبدیلی کا احساس تو ہوا لیکن اس پر قابو پانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جا سکے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا کے جو ترقی یافتہ ملک کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کے ذمہ دار تھے، انھوں نے اپنے بچاﺅ کے انتظامات تو کر لیے لیکن ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ ملک اس غیر معمولی حرارت کے اثرات کو سب سے زیادہ بھگت رہے ہیں اور پاکستان انہی ممالک میں سے ایک ہے۔اس بار بھی مون سون کا آغاز ہوتے ہی بارشوں، کلاو¿ڈ برسٹ اور ندی نالوں کے بپھرنے کے نتیجے میں جان و مال کے نقصان کی خبروں کی بھر مار ہو گئی ہے۔ اس بار بھی لنڈی کوتل میں نصف درجن سے زائد افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ راولپنڈی کے نالہ لئی میں ایک باپ بیٹا بہہ کر جاں بحق ہو گئے جبکہ کچے گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے کئی واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں جن میں کئی قیمتی جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔ بالائی علاقوں میں ہر روز کسی نہ کسی مقام پر کلاﺅڈ برسٹ کی اطلاع ملتی ہے جو گھروں اور بستیوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتا ہے۔ ملک بھر کے شہروں میں سڑکیں تالابوں اور ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ بعض مقامات پر کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں کی خبریں بھی سننے کو ملی ہیں۔ دیہی علاقوں میں سیلابی پانی نے کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا ہے۔ ابھی اس موسم کا نصف سے زیادہ حصہ باقی ہے، اگلے نصف میں کیا ہوتا ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا، بس دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ خدا ہمیں مزید کسی نقصان سے محفوظ رکھے۔ حکومتیں مون سون کی اس غضب ناکی سے نمٹنے کے لیے اپنی سی کوششیں تو کرتی رہتی ہیں جن میں انھیں کسی حد تک کامیابی بھی مل جاتی ہے لیکن ایسے اقدامات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جن کی مدد سے نقصانات پر مکمل طور پر قابو پایا جا سکے کیونکہ آنے والے برسوں میں صورت حال اور بھی زیادہ قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ صرف برسات ہی نہیں، ہمیں تمام موسموں کے بدلتے مزاج سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ اب کوئی بھی موسم ماضی جیسا نہیں رہا۔ سردی کا موسم پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نمودار ہونے لگا ہے۔ گزشتہ چند سال کے دوران دسمبر کا آخری اور جنوری کا پہلا ہفتہ بہت سفاک شکل اختیار کر لیتا ہے۔ سردی اس قدر شدید ہو جاتی ہے کہ کمزور اور ضعیف لوگ تو اس کی شدت کو سہہ ہی نہیں سکتے۔ یہ موسم اب معمر افراد کی اموات کا سب سے بڑا سبب بننے لگا ہے۔ دوسری طرف گرمی کے موسم کا درجہ حرارت بھی ماضی کے مقابلے میں دو سے تین ڈگری اوپر جا چکا ہے۔ یہ موسم بھی کمزور صحت کے حامل لوگوں کے لیے جان لیوا بن جاتا ہے۔ بہار کا موسم تو جیسے معدوم ہی ہو کر رہ گیا ہے۔ ماضی کی نسبت اب یہ موسم بہت کم دنوں کے لیے اپنا جلوہ دکھاتا ہے اور خزاں کی تو بات ہی نہ کیجیے۔ جس موسم میں لوگ پت جھڑ کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے منتظر ہوتے ہیں، اس میں نہ جانے کہاں سے سماگ نامی بلا آ کر پوری فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے کہ لوگوں کےلئے سانس لینا محال ہو جاتا ہے۔ غرض اب تو ہمارا کوئی موسم بھی ایسا نہیں رہا جسے کسی رومان پرور اور کومل جذبے کے ساتھ جوڑا جا سکے۔ سب کے سب موسم ہی ہم پر بھاری پڑنے لگے ہیں۔اب کون سے موسم سے کوئی آس لگائے۔

مزیدخبریں