کشمیر سے میرا رشتہ خون اور تاریخ کا ہے، ترقی کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں: میرپور میں مریم نواز کا خطاب

07:15 PM, 24 Jul, 2026

میرپور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرپور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر سے ان کا تعلق جذباتی اور خاندانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں "کشمیر کی بیٹی" کہنے پر اعتراض کرنے والوں کو تکلیف ہوئی، لیکن وہ آزاد کشمیر اپنے آباؤ اجداد کے گھر آئی ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ ان کے دادا، دادی، نانا اور نانی بھی کشمیری تھے اور وہ دل و روح سے خود کو کشمیری سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے اصل وارث اب کشمیر آ گئے ہیں۔

انہوں نے میرپور کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں لوگوں نے اپنی محنت سے شاندار گھر بنائے، مگر ان علاقوں تک پہنچنے کے لیے بہتر سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے شہر کی سڑکوں کی خراب صورتحال پر بھی بات کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کا جوش و جذبہ ظاہر کر رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی حمایت کے باعث مخالفین پریشان ہیں۔

مریم نواز نے سابق وزیراعظم نوازشریف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ کیے گئے وعدے پورے کیے۔ ان کے مطابق ملک اور کشمیر میں ترقیاتی کاموں کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ میرپور میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے اور کشمیر کو ترقی کے مزید مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

مریم نواز نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تنقید کرنا آسان ہے، لیکن عوامی خدمت کے لیے عملی کام کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ترقی کے لیے نیت اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

جلسے سے خطاب کے دوران مریم نواز نے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا رشتہ مضبوط ہے، کیونکہ پاکستان ہے تو آزاد کشمیر ہے اور آزاد کشمیر ہے تو پاکستان ہے۔

مزیدخبریں