گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، 7 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

10:12 AM, 24 Jul, 2025

گلگت : گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ 5 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں 4 سیاح بھی شامل ہیں۔ سیلابی ریلوں کے نتیجے میں لودھراں کی رہائشی ڈاکٹر مشعال اور ان کے دیگر اہلِ خانہ کی جانیں گئیں۔ ان کی میتیں شاہراہ ریشم کے ذریعے ان کے آبائی گاؤں روانہ کی گئی ہیں۔

چلاس میں سیلابی ریلے کی شدت سے تمام افراد نے پہاڑ کے نیچے چھپنے کی کوشش کی، لیکن ریلے نے کئی افراد کو بہا لیا۔ لودھراں کے رہائشی فہد اسلام کے بیٹے عاصم فہد نے بتایا کہ اس حادثے میں ان کی چچی مشعال اور کمسن کزن عبدالہادی ریلے میں بہہ گئے۔ ان کی مدد کرنے کے لیے ان کے والد نے پانی میں چھلانگ لگائی، لیکن وہ بھی بچ نہ سکے۔

چلاس میں سیلابی ریلے میں 15 سیاح لاپتہ ہو گئے ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ سیلاب کی شدت کی وجہ سے سڑکیں اور پل ٹوٹ گئے ہیں، اور شاہراہ قراقرم دوبارہ متعدد مقامات پر بند ہو گئی ہے۔ کے ٹو جانیوالی شاہراہ کا رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے سیکڑوں کوہ پیما پھنس گئے ہیں۔

آزاد کشمیر میں بھی طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کئی گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق اور 9 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کے سبب متعدد سڑکیں بند ہو گئیں، اور شونٹر ویلی کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے 10 ہزار افراد محصور ہو گئے ہیں۔

مزیدخبریں