اگر کوئی کہے کہ بلاسفمی کی آڑ میں جھوٹے مقدمات درج نہیں ہوتے تو یہ کھلا جھوٹ ہے لیکن اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ بلاسفمی کے واقعات سرے سے ہو ہی نہیں رہے تو یہ اس سے بھی بڑی غلط بیانی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کی جانب سے بلاسفمی کے مقدمات کے حوالے سے حکومتی کمیشن بنانے کا جو حکم سامنے آیا ہے اس پر علما کا ردعمل پریشان کن حد تک شدید ہے، جج صاحب کو سخت الفاظ میں بُرا کہنے کے ساتھ سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، عدالتی فیصلے سے ناراض عناصر کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ پر توہین مذہب کا قانون ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، کمیشن کے قیام کا حکم اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے، ان کا یہ مؤقف بھی ہے کہ پاکستان میں کونسا جرم ہے جس کا جھوٹا مقدمہ درج نہیں ہوتا، بلاسفمی کے مقدمات میں کمیشن بنانے کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ قانون کے مطابق تحقیقات کے بعد ٹھوس شواہد والے مقدمات پر کارروائی کی جانی چاہیے اور جو کیسز جھوٹے ثابت ہوں انہیں خارج کر دیا جانا چاہیے، اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو یہ امر تقریباً تقریبا ناممکن ہے کہ توہین مذہب کے قوانین کو ختم کیا جا سکے یا ان میں کوئی بنیادی تبدیلی لائی جا سکے۔ اس حوالے اگر معمولی شک یا غلط فہمی پیدا ہو جائے تو حکومت کیا ریاست کو بھی لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں، سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ توہین مذہب کا جرم دیگر جرائم کی طرح نہیں، کسی پر جھوٹا الزام بھی لگ جائے تو اس کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں، خواہ وہ مضبوط ایمان والا، پابند شریعت باعمل مسلمان ہی کیوں نہ ہو، ہونا تو یہ چاہیے کہ عدلیہ اور حکومت جرأت دکھائیں اور بوگس مقدمات بنوانے والوں کو قرار واقعی سزائیں دیں، ہجوم اور بلوے جیسی اصطلاحوں کی آڑ لے کر کسی کی جان جانے کے معاملے پر مٹی ڈال دینا معاشرے کو جنگل کے قانون کی طرف دھکیل رہا ہے۔ جائیداد کے تنازعوں، ذاتی رنجش کی بنا پر توہین مذہب کے مقدمات بنوانا فیشن بن چکا، مسلکی اختلافات ابھارنے والے عناصر بھی ایک بہت بڑی بنیاد ہیں، پاکستان کے اندر مسلکی تقسیم صرف اندرونی معاملہ نہیں، باریک بینی سے غور کرنا چاہیے کہ مختلف ممالک کے سفیر خصوصاً امریکہ اور یورپ والے کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، ان میں سے کسی کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں تو پھر وہ متحرک ہو کر کچھ معاملات میں غیر معمولی دلچسپی کیوں لیتے ہیں؟ توہین مذہب کے واقعات میں اضافہ ہونا خطرے کی گھنٹی ہے، قوانین موجود ہیں، ضابطہ اخلاق موجود ہے لیکن ان کو روندا جا رہا ہے، ریاست اس حساس معاملے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہی، کون کہہ سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات کیا رخ اختیار کر لیں، افسوس کا مقام ہے کہ معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے حوالے سے مذہبی سیاسی جماعتیں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہیں بلکہ کوئی کردار ہی ادا نہیں کر رہیں، ان کا سارا جوش کسی جج کے متعلق بیان بازی یا کسی انفرادی شخصیت کی مذمتیں کرنے میں نکل جاتا ہے، کہاوت ہے بُرائی کو جڑ سے ختم کرو، اسی طرح توہین مذہب کی مذموم کوششوں کو شروع میں ہی سختی سے دبا دینا چاہیے، اس بھی زیادہ ضروری ہے کہ غلط الزام لگانے والوں کے بارے میں مزید سخت قانون سازی کی جائے، قوانین اور ضابطہ اخلاق تو پہلے بھی موجود ہیں لیکن اگر عمل درآمد ہی نہیں کرانا تو اسکے مہلک نتائج کا سامنا کرنا کیلئے تیار رہنا ناگزیر ہے، جس کی ایک جھلک قوم کو اس وقت نظر آ جائے گی جب اگلے چند روز میں کمیشن بنانے کے عدالتی فیصلے کا حشر نشر ہو گا۔ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ عام پاکستانیوں نے کسی خدشے کے تحت یا سب کو خوش رکھنے کے لیے مذہبی معاملات کے بارے میں لاتعلقی کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ غلط بات پر کان بند کر لیتے ہیں، توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگانے والوں سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں یہ ایسا ہی ہے جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لے، اس طرح تو انتشار کبھی قابو میں نہیں آئے گا، دنیا کے دوسرے ممالک کا جائزہ لیں وہاں رائج قوانین کے خلاف کوئی چوں بھی نہیں کر سکتا، مذہب کے معاملے میں حدود و قیود ہر جگہ ہیں، امریکہ کو ہی دیکھ لیں چند روز قبل غزہ میں ایک چرچ اسرائیلی حملے کی زد میں آیا تو ٹرمپ نے نتن یاہو کو فون کر کے سرزنش کی، فلسطینی مسلمانوں کی پورے دھڑلے سے نسل کشی کرنے والے بے رحم قاتل نتین یاہو پر اتنی گبھراہٹ طاری ہوئی کہ پوپ کو فون کر کے معافیاں مانگتا رہا، اسرائیل میں امریکہ کے سفیر نے باقاعدہ خط لکھ کرخبردار کیا۔ امریکہ کا یہ ردعمل ایک پیغام ہے کہ مذہب کے معاملے پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنا کمزوری اور بزدلی کی علامت ہے، انتہا پسندانہ رویہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں، بلاسفمی کے مسئلے کا سب سے مؤثر حل متعلقہ قوانین اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کرانا ہے، شفاف تحقیقات لازم ہیں، جس روز ریاست معاشرے کو ایسی یقین دہانی کرانے میں کامیاب ہو گئی اسی دن توہین کا ارتکاب کرنے اور جھوٹے الزامات لگانے والوں، دونوں کا حقیقی احتساب شروع ہو جائے گا۔
بلا سفمی اور جھوٹے الزامات
09:16 AM, 24 Jul, 2025