وفاقی ٹیکس محتسب، سینئر کالم نگاروں کے ساتھ خصوصی نشست

09:16 AM, 24 Jul, 2025

 وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا نمایاں پہلو ان کی ادبی و سماجی خدمات ہیں۔ آپ 26 کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں زندگی کے مشاہدات، انسانی درد، سفرنامے اور فلاحی کاموں کے تجربات قلمبند کیے گئے ہیں۔ جبکہ ان کی انسانی خدمات کا دائرہ کار پاکستان سے لیکر بیرون ممالک تک پھیلا ہوا ہے ۔ایک اکیلا آدمی اتنے کام حیرت ہوتی ہے، لیکن یہ اعزاز ڈاکٹر آصف جاہ کو ملا ہے ہ وہ ایک ہی وقت میں کئی کام سر انجام دیں رہے ہیں وہ بہترین ادیب لکھاری اور سماجی شعبے میں خدمات سر انجام دینے کے ساتھ حکومتی اہم عہدوں پر فرائض نبھانے والی پاکستان کی پہلی شخصیت ہیں ۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی بے مثال خدمات کو سراہتے ہوئے 2016ء میں انہیں ''ستارہ امتیاز’’سے نوازا، اور پھر 2020ء میں ملک کا ایک بڑا سول اعزاز ''ہلالِ امتیاز’’بھی ان کے حصے میں آیا انہوں نے ایوارڈ کی توقیر رکھی۔ آپ ایک بے مثال انسان ہیں جن میں کئی امور سر انجام دینے کی خدا داد صلاحیت موجود ہے ۔
 آپ آج کل وفاقی ٹیکس محتسب ہیں اور جب سے انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا ہے اگر اس عہدے کے ساتھ انصاف دیکھنا ہو تو ان کی دور میں کئے گئے کاموں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ہمارے دوست اور میڈیا ایڈوائزر عبدالباسط خان جو خود ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں بہترین تعلق کار ہونے کے ساتھ ہنس مکھ اور دوستوں کے دوست ہونے کے ساتھ اپنے کام میں مہارت رکھنے والے آفیسر رہے ہیں، بلکہ انہیں جو بھی ذمہ داری ملی اسے بہترین طریقے سے نبھایا ، آپ وفاقی ٹیکس محتسب برائے انشورنس ، صوبائی محتسب کے ادارے کے ساتھ کام کر کے اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوا چکے ہیں اور آج کل وفاقی ٹیکس محتسب میں میڈیا ایڈ وائزر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں (ایف ٹی او) ریجنل آفس لاہور کے زیر اہتمام ''انصاف کی بروقت فراہمی میں میڈیا کا کردار'' کے موضوع پر سینئر کالم نگاروں اور ماہر معاشیات کے ساتھ خصوصی آگاہی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ٹیکس دہندگان کو درپیش مسائل اور وفاقی ٹیکس محتسب کی بطور ادارہ ان کیلئے کے لئے خدمات کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر ٹیکس دہندگان کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ذرائع ابلاغ کی شراکت داری کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ تقریب 
کی صدارت سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے کی جبکہ ڈی جی پیمرا پنجاب اکرام برکت مہمان خصوصی تھے۔ میڈیا ایڈوائزر وفاقی ٹیکس محتسب عبدالباسط خان نے شرکاء کو ادارے کی کارکردگی اور خدمات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ محتسب اعلیٰ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی قیادت میں ادارے نے گزشتہ چار سال کے دوران ریکارڈ اہداف حاصل کئے ہیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے ایف بی آر نے محض چھ ماہ میں 12 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے۔ رواں سال جنوری سے جون کے دوران ادارے کو 15,284 نئی شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 5,536 شکایات کو غیر رسمی طریقے سے حل کیا گیا۔ جبکہ مجموعی طور پر 20,917 کیسز کا ازالہ کیا گیا۔ اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس کے سابق صدور کاشف انور اور منظور ملک نے کاروباری طبقے کو درپیش ٹیکس سے متعلق مسائل پر روشنی ڈالی۔ ڈی جی پیمرا اکرام برکت نے متوازن ٹیکس نظام، قوانین کے مؤثر نفاذ اور عوامی آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔ سینئر صحافیوں مجیب الرحمن شامی، جاوید اقبال کارٹونسٹ ،میاں حبیب، اشرف سہیل، ضمیر آفاقی ،عاصم کے علاوہ ناظم ،میڈم سمیرا نذیر، عمران رضا کاظمی نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا اور وفاقی ٹیکس محتسب کی سالانہ کارکردگی کو سراہا۔جبکہ حکومتی ٹیکس اصلاحات کے نام پر تاجروں کے ساتھ ہونے والے سلوک بارے بھی بات کی گئی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے تاجروں کے نمائندوں نے حکومت کی جانب سے ایف بی آر کو دیئے گئے اختیارات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی ٹیکس محتسب کے ادارے کو اپنا کردار ادا کرنے کے لئے گزارشات پیش کیں۔ 
 جبکہ وفاقی ٹیکس محتسب کے میڈیا ایڈوائزر باسط خان اور ترجمان نے کہا ہے کہ ایف ٹی او ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے 2024 کے دوران دائر کی گئی 95.6 فیصد شکایات کا ازالہ کر کے ایک نیا قومی ریکارڈ قائم اور ملک بھر میں بڑی تعداد میں متاثرہ ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کیا ہے۔ آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کی طرف سے تمام علاقائی دفاتر میں مجموعی طور پر جتنی بھی شکایات درج کرائی گئیں انہیں ایف ٹی اونے نمٹا دیا جو ایف ٹی او کی41 سالہ تاریخ میں ریکارڈ ہے۔علاوہ ازیں ہزاروں لوک فنکاروں کو اس وقت کے جاری ودہولڈنگ ٹیکس کی صورتحال میں بہتری لا کر ریلیف فراہم کیا گیا۔اسی طرح گزشتہ سال بڑی تعداد میں اساتذہ کو ٹیکس چھوٹ کی مد میں بھی ریلیف فراہم کیا گیا۔باقاعدہ شکایات کے علاوہ ایف ٹی او نے غریب وکم مراعات یافتہ شکایت کنندگان کی شکایات کے غیر رسمی حل کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ،1540 غیر رسمی شکایات کا ازالہ کیا۔
وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے دور میں2024میں900 13 کے قریب شکایات درج کی گئیں ان شکایات میں 12500 کے کیسز کے فیصلے کیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو ریلیف دینے کے ساتھ ٹیکس دینے والے افراد کے لیے آسانیاں پیدا کی جاسکیںجبکہ 2020اور 2021میں وفاقی ٹیکس محتسب کے دفاترمیں شکایات درج کرنے کی تعداد صرف دوہزار سے تین ہزار کے درمیان تھی، ایف ٹی او میں کم سے کم مدت میں بلامعاوضہ ٹیکس ادا کرنے والے افراد کو فوری انصاف مہیاکیا جاتاہے۔
 ملکوں کے فلاح وبہبود کا نظام اور نظم ونسق ٹیکسز کی بروقت ادائیگی سے چلتا ہے،ٹیکس دینے والوں کو چند دنوں میں انصاف کی فراہمی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی ٹیکس محتسب کے ادارے کا قیام 2000میں عمل میں لایا گیا۔،انکم ٹیکس آفیسر زاورکسٹم کلکٹرز کی زیادتیوں اور انتظامیوں اور بدانتظامی اور بروقت فیصلے نہ کرنے کے خلاف وفاقی ٹیکس محتسب کے دفاتر میں اپیلیں دائر کی جاتی ہے،ہمارے دفاتر میں ٹیکس دینے والوں کونہ صرف عزت دی جاتی ہے بلکہ کم سے کم وقت میں ان کی شکایا ت کا بروقت ازالہ کرکے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اس سیشن میں بتایا گیا کہ ایف ٹی او کے فیصلوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا مگر اس کے فیصلوں کے خلاف صرف صدر مملکت کو اپیل کی جاسکتی ہے،گزشتہ تین سال کے دوران صدر مملکت نے ہمارے 98فیصد فیصلوں کو برقراررکھ کران کی توثیق کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کے مشکلات کے ازالے اور ٹیکس کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی ٹیکس محتسب کے ملک بھر میں قائم دفاتر کے دروازے شکایت کنندگان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں،ہم نہ صرف شکایات پر کیسز کے فیصلے کرتے ہیں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی کراتے ہیں اور اس ضمن میں باضابطہ نظام وضع کیا گیا ہے جس میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کاجائزہ لیا جاتا ہے۔

مزیدخبریں