جب قائداعظم محمد علی جناحؒ گورنر جنرل تھے اور کیپٹن گل حسن جو بعدازاں جنرل بھی بنے ان کے اے ڈی سی تھے،کابینہ کا پہلا اجلاس تھا تو کیپٹن گل حسن نے بابائے قوم سے پوچھا اجلاس میں تواضع چائے سے کی جائے یا کافی سے؟ قائد اعظم نے فرمایاکہ یہ چائے کافی گھر سے پی کر آئیں یا پھر گھر جا کر پئیں،قوم کا روپیہ کابینہ کی تواضع کے لیے نہیں ہے آج قائد اعظم کے نام لیوائوں کو قومی خزانہ لوٹتے شہ خرچیوں پر شرم آنی چاہیے آج ملک میں لوٹ مار کا بازار گرم ہے غریب کے نام پر لوٹ مارہورہی ہے اسلام کے نام پر دھوکہ دیا جا رہا ہے کشمیر کے نام پر کھابے کھائے جا رہے ہیں اورتو اور ای او بی آئی پنشنرزکے نام پر بھی اربوں کی لوٹ مار کی جا رہی ہے ای او بی آئی کاا دارہ ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت نے یکم جولائی 1976 کو ایک قانون کے ذریعے قائم کیا تھا، 1973 کے آئین کی شق 38 کو عملی شکل دینے کے لیے ای او بی آئی قائم ہوا، اس شق کے تحت ریاست اپنے شہریوں کو لازمی انشورنس دینے کی پابند ہے اور اس شق کے تحت یہ انشورنس شہری کے لواحقین کو بھی حاصل ہوگی اور بڑھاپے میں دکھوں کا مداوا کیا جاسکے لیکن یہاں معاملہ ہی الٹ ہے بجٹ پیش کرنے والے سرمایہ دار اور جاگیردار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اسی لئے وہ ہمیشہ اپنی ہی کلاس کے دُکھوں کا مداوا کرتے ہیں غریبوں کو تو ووٹ لینے کیلئے رکھا گیا ہے ، بجٹ میں ای او بی آئی پنشنرز کو مکمل نظر انداز کیا گیا جبکہ مکاری سے ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں تین سو فیصد اضافہ کر دیا گیا حکومت نے فنانس بل کے ذریعے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے خاموشی سے ترمیم کی ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے ایکٹ 1974 کی شق3 میں ترمیم کے تحت ارکان کی تنخواہ 76000 روپے سے بڑھا کر 4 لاکھ روپے کردی گئی،مانگے تانگے سے چلائے جانے والے ملک میں ارکان پارلمینٹ کے شاہانہ اخراجات پر دل نوحہ کناں ہے عام طور پر ایک ایم این اے کی مجموعی ماہانہ تنخواہ 5 لاکھ 19 ہزار تک ہے اور دیگردرجنوں مراعات پلس کر کے ایک پارلیمنٹرین پاکستانی قوم کو سالانہ کم از کم 4 کروڑ جب کہ 5 سال کے لیے کم ازکم 16 سے 20کروڑ میں پڑتا ہے یہیں سے اندازہ لگائیں کہ ہزاروں وفاقی و صوبائی نمائندوں کی عیاشیاں غریب قوم کو کتنے ارب میں پڑتی ہونگی جس کی نصف سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے، لاکھوں' کروڑوں اور اربوں سمیٹنے کے بعد بھی وظیفوں میں سو فیصد اضافہ کرا لیتے ہیں تھوڑا ساعوامی رد عمل کا خوف نہ ہوتو بجٹ کی رقم خود ہی کھاپی جائیں حکومت صرف سرمایہ داروں کو نوازنے اور ان کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام تر کاوشیں کرتی ہے اور اپنے ہی مامے چاچے تائے قومی خزانے سے اشنان کرتے ہیں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانا ہوں تو ان کے پاس بجٹ نہیں ہوتا یا پھر آئی ایم ایف کے ناراض ہونے کا بہانہ بنا یا جاتا ہے کیا ارکان اسمبلی کی تنخواہیں بڑھانے پر آئی ایم ایف ناراض نہیں ہوتا؟ جب کہ ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی نے ہر شخص کا جینا محال کر رکھا ہے ہمارے ملک کا نام تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن آج جس طرح یہاں پر اسلامی شعار کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی، لگتا یہی ہے کہ اسلامی شعار پر عمل کرنا ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں بالکل بھی شامل نہیں ہے یہاں عام ملازم اور مزدور کو بالکل نظرانداز کیا جاتا ہے،کئی افراد ایسے ہیں جن کے پاس دوائی کے لیے پیسے نہیں اور دوسری طرف ایک طبقہ ایسا ہے جنہیں اپنی دولت کا پتہ نہیں کہ وہ کتنی ہے ایوانوں سے لے کر محلات تک سب غریب کے دشمن ہیں، حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جس سے عوام کو احساس ہو جائے کہ حکمران ان کے بارے میں بھی سنجیدگی اور خلوص سے سوچنے لگیں تیس چالیس ہزار میں گھر کیسے چلے گا، گھر کا کرایہ پچیس ہزار ہے،پندرہ ہزار تو بجلی کا بل آجاتا ہے گھر کیسے چلے گا، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے کے بجائے گاڑیاں سستی کی جا رہی ہیں بتایا جائے سستی اشیاء ضروری ہیں یا سستی گاڑیاں؟ وفاقی حکومت نے تمام اسمبلی ممبران، وزیروں، مشیروں، سپیکر قومی اور سینیٹ کے چیئرمین کی تنخواہیں بغیربجٹ کے 5 سے 6 سوفیصد بڑھائیں اورای او بی آئی کے ضعیف پنشنرزکی پنشن میں کوئی اضافہ نہ کیاگیا پھر نیند سے بیدار ہوئے تو کئی سال بعد صرف 15 فیصد اضافہ کیا گیا جو اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے جبکہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت جو امدادملتی ہے وہ بھی ای او بی آئی پنشنرز سے زیادہ ہے، دنیا میں بزرگوں کی مدد کی جاتی ہے اور انہیں سینئر شہری کا درجہ حاصل ہوتا ہے مگرپاکستان میں بزرگ پنشنرز کا کوئی پرسان حال نہیں،ای او بی آئی کا معاوضہ مزدوروںکے خون پسینہ کی کمائی ہے جس سے ضعیف پنشنرز محروم ہیں، حکومت مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے ای او بی آئی پنشنرز کی پنشن دیگر اداروں کے ریٹائر ملازمین کے برابر کر ے تاکہ عمر کے اس حصے میں وہ کچھ نہ کچھ ریلیف کو پاسکیں ویسے بھی حکومت انہیں دیتی کیا ہے وہ تو یہ بھی نہیں کرتی کہ ای او بی آئی فنڈز میں اپنا حصہ ڈالے تاکہ بزرگ شہری گزربسر کر سکیں دس بارہ ہزار میں کون سا گھر ہے جو چل سکتا ہے مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی سے ادارہ چلتا ہے اور انہیں معمولی پنشن ملتی ہے جو حکمرانوں کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ہے اس پنشن میں ضعیف پنشنرکا دوائیوں کاخرچہ بھی پورا نہیں ہوتا وہ گھرکا خرچ کیسے کرے گا، حکومت ای او بی آئی پنشن میں خاطر خواہ اضافہ کرے یا پھر اپنے اعلان کردہ کم از کم تنخواہ چالیس ہزارکے برابر پنشن ہی کر دے تاکہ عمر کے آخری حصے میں اس پنشن کو بڑھاپے کا سہارا بنا سکیں،ایک طرف 30 ،40ہزار تنخواہ نہیں ملتی،ادھر چیئرمین سینیٹ، سپیکر کی تنخواہ ساڑھے 21 لاکھ کردی گئیں جوازپیداکیا گیا کہ نو سال سے انکی تنخوا ہیں نہیں بڑھیں تو دس پرسنٹ کے حساب سے انکی تنخوا ہ بڑھانی چاہئیں تھی، یک دم چھ سو فیصد بڑھانے کی کیا ضرورت تھی حکومت سے گزارش ہے کہ ای او بی آئی پنشنرز کے دکھوں کا مداوا کیجیے اللہ آپ کیلئے آسانیاں پیدا کرے گا۔
ای او بی آئی پنشنرزکے دکھوںکا مداوا کیجئے
09:15 AM, 24 Jul, 2025