عقیدہ اور قانون میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس حیثیت

09:15 AM, 24 Jul, 2025

انسانی تاریخ کے ہر دور میں کچھ شخصیات ایسی ابھری ہیں جنہوں نے اپنے بے مثال کردار، لازوال پیغام اور آفاقی کشش کی بدولت سب پر فوقیت حاصل کی۔ ان ہستیوں میں کوئی بھی شخصیت حضرت محمد مصطفیٰﷺ سے زیادہ مقدس اور محترم نہیں، جنہیں دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد مسلمان دل کی گہرائیوں سے عزیز رکھتے ہیں۔ آپﷺ نہ صرف اسلام میں سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں بلکہ رحمت، عدل اور اخلاقی عظمت کی علامت بھی ہیں۔ قرآنِ مجید گواہی دیتا ہے: محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔ (سورۃ الاحزاب، 33:40)
نبوت کا یہ خاتمہ محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ اسلام کی بنیاد ہے، اور اس کا انکار درحقیقت اسلام کا انکار ہے۔ مسلمانوں کے دلوں میں نبی کریمﷺ کے لیے جو بے پناہ عقیدت و محبت پائی جاتی ہے، وہ براہِ راست خدائی احکامات کا نتیجہ ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ہم نے تمہیں گواہ، خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور نبی کی عزت کرو، ان کی مدد کرو، اور صبح و شام ان کی تعظیم کرو۔ (سورۃ الفتح، 48:8)
یہ صرف روحانی تعلق نہیں بلکہ اطاعت، محبت اور آپﷺ کے نام و پیغام کے دفاع میں جڑوں تک پیوست ایک رشتہ ہے۔ متعدد احادیث اس عظیم احترام کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔‘‘ (بخاری)
آپﷺ کے صحابہ کرام نے اس محبت کو اپنے عمل سے ثابت کیا۔ وہ آپﷺ کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کرنا سب سے بڑا اعزاز سمجھتے تھے۔ جب کبھی کسی دشمن نے نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کی، تو صحابہ کرام نے انتہائی غیرت مندانہ اور مضبوط ردِعمل دیا، جو ان کی آپﷺ کی حرمت و عظمت سے بے پناہ وابستگی کو ظاہر کرتا تھا۔
حضرت محمدﷺ کے غیر معمولی کردار کا اعتراف صرف اسلامی دنیا تک محدود نہیں رہا۔ بہت سے غیر مسلم مورخین، فلاسفرز اور مذہبی مفکرین نے بھی آپﷺ کی عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ معروف برطانوی دانشور جارج برنارڈ شا نے ایک مرتبہ کہا: انہیں انسانیت کا نجات دہندہ کہا جانا چاہیے۔ میرا یقین ہے کہ اگر ان جیسے شخص کو آج کی دنیا کی قیادت مل جائے، تو وہ دنیا کے مسائل کو اس انداز میں حل کرے گا جو امن اور خوشی کا ضامن ہو گا۔ اسی طرح مشہور امریکی مصنف مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی کتاب ’’دی ہنڈرڈ‘‘ میں حضرت محمدﷺ کو تاریخ کی سب سے مؤثر شخصیت قرار دیا، اور اس کی وجہ آپﷺ کی دینی و دنیاوی دونوں میدانوں میں بے مثال کامیابی کو بتایا۔
مزید برآں، مختلف مذاہب کی آسمانی کتابیں اور روایات … اگرچہ صراحت کے ساتھ حضرت محمدﷺ کا نام نہیں لیتیں … لیکن بالواسطہ طور پر آپﷺ کی آمد اور صفات کی پیش گوئی کرتی ہیں۔ مسیحی روایات میں انجیل یوحنا (باب 14:16، 15:26، اور 16:7) میں مذکور ’’پیراکلیٹ‘‘ یا ’’تسلی دینے والا‘‘ کے حوالے کو بہت سے محققین حضرت محمدﷺ کی پیش گوئی قرار دیتے ہیں، خاص طور پر جب اس لفظ کے اصل یونانی مفہوم کا تجزیہ کیا جائے۔ یہودی صحیفے استثناء 18:18 میں لکھا ہے: ’’میں ان کے بھائیوں میں سے تیرے مانند ایک نبی ان کے لیے اٹھاؤں گا، اور اپنا کلام اس کے منہ میں رکھوں گا۔‘‘
اسلامی علما اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ، جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تھے، اس پیش گوئی کے مصداق ہیں کیونکہ آپﷺ بنی اسرائیل سے نہیں بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل سے تعلق رکھتے تھے، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح شریعت لے کر آئے اور ایک قوم کی قیادت فرمائی۔
ہندو مذہبی کتب میں بھی ایسے حوالے موجود ہیں جنہیں بعض محققین آخری نبی کی پیش گوئی سے تعبیر کرتے ہیں۔ قدیم سنسکرت مذہبی کتاب بھوِشیہ پران میں ایک شخصیت ’’مہامدا‘‘ کا ذکر ملتا ہے، جو ایک غیر ملکی سرزمین میں اصلاحات لائیں گے اور سچائی کا پرچار کریں گے۔
اگرچہ ان حوالوں کی تشریحات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ایسے مقامات کو اس بات کا ثبوت قرار دیا گیا ہے کہ حضرت محمدﷺ کے پیغام کی آفاقیت کو مختلف تہذیبوں میں تسلیم کیا گیا تھا۔
بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ایک نہایت تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے… آزادی اظہار یا فنون لطیفہ کے نام پر جان بوجھ کر حضرت محمدﷺ کی عظمت کو نظر انداز کرنے، تمسخر اُڑانے یا کم تر دکھانے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یورپی اشاعتی اداروں میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں سے لے کر توہین آمیز فلموں اور نفرت انگیز تقاریر تک، یہ تمام اشتعال انگیز اقدامات عالم اسلام کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ یہ رجحان، جسے اب اسلاموفوبیا کے نام سے جانا جاتا ہے، مذہبی نفرت کو معمول بنانے، معاشرتی تقسیم کو ہوا دینے، اور ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے عقائد کو چیلنج کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
پاکستان بھی ان خطرناک کوششوں سے محفوظ نہیں رہا۔ بعض مقامی اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے عناصر نے خفیہ نظریاتی مہمات، نصابی بگاڑ اور قانونی چالاکیوں کے ذریعے رسول اکرمﷺ کے مرکزی مقام کو کمزور کرنے اور ختمِ نبوت کے عقیدے پر سوال اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ قادیانی عقائد کو اصل اسلام کے طور پر پیش کرنے یا اسلامی عقائد کے بارے میں الجھن پیدا کرنے کی یہ کوششیں اس وسیع تر عالمی ایجنڈے کا حصہ ہیں جو امتِ مسلمہ کی وحدت کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہے۔ تاہم، ایسی تمام کوششوں کو نہ صرف مذہبی حلقوں کی جانب سے بلکہ پاکستانی پارلیمان، عدلیہ اور عام عوام کی طرف سے بھی بھرپور مزاحمت اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔    (جاری ہے)

مزیدخبریں