خدا خدا کرکے دو سال دو ماہ کے بعد 9مئی کے کچھ لوگوںکو جو منظم انداز میں عسکری قیادت کے خلاف انقلاب لانے اور اپنی من پسند لوگوںکو عسکری قیادت کیلئے اس منصب پر بٹھانے کے تمنا لئے میدان میں آئے تھے ، دہشت گردی توڑ پھوڑ کے ذریعے تقریباً ہر شہر میں اودھم مچادی تھی اس دن لگ رہا تھا اس پاکستان میں کوئی قانون ہی نہیں ہے ، دہشت گردی کے ذریعے ایک سیاسی جماعت جسے عوامی حمایت کا زعم ہوچکا تھا ، اس جماعت کا بیڑا غرق کردیا، گرفتا ر ہونے والوںکو سزا دینے یا رہائی دینے جو اس دہشت گردی میں ملوث نہیں تھے مگر گرفتار کئے گئے تھے انہیں بھی اس انصاف کی تاخیر کے سبب جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں ، صعوبتیںتو معصوم کارکن برداشت کررہے تھے اپنے اہل خانہ سے دور جبکہ ان معصوموں کو اس دہشت گردی کی طرف راغب کرنے والے جیلوںمیں تاحال اپنے پر آسائش گھر سے زیادہ سکون سے بیٹھے ہیں یہ ہمارے ملک کے قانون کی کوتاہی ہے ، ایک طویل عرصے تو یہ بحث جاری رہی جو دہشت گردی میں ملوث ہیں انکے مقدمات فوجی عدالت میں چلیں یا عام عدالتوں میں اگر قانون ایک ہو یا جرم واضح ہو تو کسی بھی عدالت میں مقدمہ چلے اس سے صرف یہ ہی فرق پڑتا ہے جو اب پڑا یعنی مقدمات میںوہی مشہور جملہ کہا جاسکتا ہے ’’ تاریخ پر تاریخ پر ، تاریخ پر تاریخ ‘‘اگر فیصلہ بغیر تاخیر کے ہوتا تومنفی سوشل میڈیا کی توپیں خاموش ہوچکی ہوتیں، یہ بات بھی ہے شائد تاخیری حربہ سایکولوجیکل وار کا حصہ بھی ہوسکتا ہے کہ آج اس جماعت کے رہنما آپس میں دست و گریبان ہیں جس سے عوامی حمایت ماند پڑگئی ہے اور حکومت کو معاشی حالات کو درست کرنے کا وقت مل گیا ۔ معاشی حالات اعداد و شمار کے مطابق تو بہت خوبصورت ہیں مگر یہ خوبصورتی اسی طرح ہے کہ شادی کے بعد دولہا اپنی خوبصورت دلہن کا فوری چہرہ نہیںدیکھ پاتا ، اسی طرح اعداد و شمار والی معاشی بہتری کا اثر تاحال عوام تک نہیںپہنچا وہ اب تک مہنگائی اور بے روزگارکی چکر میں پھنسے ہیں۔ سرحدوں پر تو بہادر افواج فتنہ الہند ، جیسے معاملات کا بہترین انداز میں مقابلہ کررہے ہیں جس میں ہمارے بھی بہادرجام شہادت نوش کررہے ہیں ، مگر ملک میںمعاشی دہشت گردی کے ذمہ دار وہ لوگ جو کرپشن میں ملوث ہیں وہ بھی کسی دہشت گرد سے کم نہیں جو معیشت کا بیڑا غرق کررہے ہیں ، حکومت کی گرفت ان لوگوںپر مضبوط نظر نہیں آتی وہاں بھی مفادات کا ٹکرائو نظر آتاہے ، گزشتہ پندرہ سال کوہی لے لیں تو بے شمار میگا سکینڈلز کا ظہورہوا ، مگر ان لوگوں کا کیا بنا جو کرپشن میں ملوث تھے اسلئے عوام کا اعتمادبحال نہیں ہوتا جب بھی کوئی کرپشن کا سکینڈل آتاہے عوام کچھ گالیاں دل میں نکال کر خاموش ہوجاتے ہیں کہ ’’ہوگا کچھ نہیں ‘‘ ایک سے رقم برآمد کی جائے گی اور دوسرے کی جیب میں چلی جائے گی ۔ ایک عام غریب آدمی اگر کسی مجبوری کی بنا پر ایک نل چوری کرتا پکڑا جائے ہماری پولیس اور متعلقہ ادارے اسکی وہ درگت بناتے ہیں کہ وہ اپنے گھر میں بھی نل دیکھتا ہے تو اسے بخار چڑھ جاتا ہے مگر ہمارے ہاں قانون کچھ اسطرح ہے کہ چوری کی رقم پکڑی گئی ، چور نے نیب کو کہا کہ میں ’’پلی بارگین ‘‘کرتا ہوںکوئی رقم طے کرلیں وہ واپس کردیتا ہوں۔ چوری تو چوری ہوتی ہے اسکی اپنی سزا ہے رقم کی وصولی کے بعد بھی معافی کس بات کی ؟؟؟دکیلوںکی دکانیںکھلی ہیں اگر چور پکڑا جائے تو وہ مقدمہ دائر کردیتے ہیں کہ میرا موکل پلی بارگین کررہا ہے مگر اسے گرفتار کرلیا گیا ہے اسے ذہنی تکلیف پہنچ رہی ہے واہ جنا ب ، کرپشن کرتے ہوئے ذہنی تکلیف نہیں پہنچی کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہا ہے ، پلی بارگین کی مثالیں سابقہ بھی کئی ہیںاور تاحال نیب اور NAO کے قوانین 1999 کے تحت موجود ہیں سندھ کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر ذوالفقار دھریوجی جو 420 ملین روپیہ کی کرپشن میں ملوث تھے اور حالیہ سندھ کے وزیر شرجیل میمن 5.7 بلین کی کرپشن میں ملوث تھے گھر سے نوٹ نکلے ، نیب کا قانون کہتا ہے کہ کرپشن کا مرتکب فرد اگر پلی بارگین کر بھی لے تو وہ آئندہ کسی حکومتی عہدے کیلئے نااہل ہوجاتا ہے مگر شرجیل میمن اب پھر وزیر ہیں وہ بادشاہ ہیںصاحب صدر کی جماعت میں ہیں وہ تو ہسپتال میں شراب ملنے پر اسے آب زم زم کہہ کربری ہوجاتے ہیں۔ میری ساری روداد کا مطلب یہ ہے کہ کرپشن کرنے والوں کو بھی دہشت گرد ہی کہا جائے کہ وہ ملک کے خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیںاور عوام و ملک کی معیشت قرضوں و مہنگائی کی چکی میںپس رہے ہیں پاکستان میں گزشتہ 15 سال (2010-25) کے دوران بدعنوانی کے بڑے مقدمات سامنے آ چکے ہیں جن میں اعلیٰ سیاسی رہنما، تاجر اور ادارے شامل ہیں 2016ء میں سابق وزیر اعظم میاںنواز شریف پانامہ میں ملوث ہوئے ہیں، ثبوت ندارد تھے مگر نااہل کرنا تھا اسلئے اقامہ کیس میں نااہل کردیا یہ ہے ہمارا قانون، رینٹل پاور پراجیکٹ 2012 ء میں راجہ پرویز اشرف 22ار ب کے غیر قانونی ٹھیکوں میں ملوث تھے ، مگر جسے پیا چاہے وہی سہاگن ، وہ وزیر سے وزیر اعظم بھی بن گئے ،نیب نے اپنے اوپر کمبل اوڑھ لیا ، جعلی اکائونٹس اور اومنی گروپ کیس کا شور ہوا جس میں 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی 2018ء کا مقدمہ ہے تحقیقات جاری ہیں باقی عوام جانتے ہیں، بقو ل عمران خان انکے دور میں سب سے زیادہ ایمانداری تھی کرپشن سے پاک انکے دور حکومت میں خیبر پختونخوا میں بد ترین کرپشن ہوئی ، تحقیقات جاری ، BRT ُ ُپشاور سیکنڈل ،70ارب کا گھپلا ، توشہ خانہ کیس مقدمہ، تحقیقات جاری ( یہ بھی کسی دن شاید ختم ہوجائے گا صرف مک مکا کی تاخیر ہے، عمران خان نااہل قرار دیئے گئے ، القادر ٹرسٹ ، 190 ملین پائونڈ کرپشن، شاہد خاقان عباسی ، مفتاح اسماعیل LNG درآمدی کرپشن ، قومی خزانے کو 30ارب کا نقصان، جہانگیر ترین، اور خسرو بختیار کا چینی، گندم کا کیس جس میں 100ارب روپیہ کی کرپشن ، حج جیسے معاملے میں اربوںکا کرپشن ، سب سے نیا کرپشن 2025ء میںبالائی کوہستان 2018-24 مقدمہ جس میں خیبر پختونخوا میں40ملین روپے کا حیران کن غبن ، ملک میں اثاثے مالیت 25ارب،ایک ارب روپے سے زیادہ نقد اور غیر ملکی کرنسی تقریباً 3 کلو سونا (قیمت 80 ملین روپے)بینک اکاؤنٹس (5 ارب روپے)940 ملین روپے کی 77 لگژری گاڑیاں,17 ملین روپے کے مکانات ، زرعی زمینیں، نیب اور دیگر اداروں نے بالائی کوہستان کرپشن کا جائیدادیں ضبط تو کرلیںہیں تازہ مقدمہ ہے گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں مگر پلی بارگین کے نام پر رہائیا ںجاری ہیں ، ان معاملا ت پر مجرمانہ طور پر ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر وقت نہیں کہ وہ عوام کو بتائے کہ ہو کیا رہا ہے؟؟ اس وجہ سے عوام میڈیا کو بھی
مجرم سمجھتے ہیں۔ مندرجہ بالا اور دوسری روز مرہ کی کرپشن ہی وجہ ہے کہ حکومت قرضوں سے ملک چلانے کی مشکل ترین کوشش کررہی ہے ، مگر بڑے بڑے کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالنے کی ان میں سکت نہیںچونکہ حکومت بھی چلانا ہے کرپٹ لوگوںکے تانے بانے بڑے پیمانے پر ایوان اقتدار تک جاتے ہیں ، اتحادی بیٹھک کی وجہ سے کوئی تادیبی کارروائی ممکن نہیں ورنہ میں ذاتی طور پر میاں شہباز شریف کو جانتا ہوں جب میاںنواز شریف وزیر اعظم تھے اور موجود ہ وزیر اعظم شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے انہوںنے پنجاب کی حد تک جرائم پیشہ کرپٹ لوگوںکا کھڑاک کیا تھا اور انہوں نے اس سلسلے میں اپنے رشتہ داروں کو بھی نہیں چھوڑا تھا اور نہ ہی وزیراعظم کی سنی تھی پہلے قانون شکنوںکے خلاف کارروائی کی تھی اسکے بعد اسلام آباد کے فون سنے تھے۔
معاشی دہشت گرد !
09:14 AM, 24 Jul, 2025