لاہور : نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (این جی سی) نے نیپرا کی حالیہ کارکردگی رپورٹ پر اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے زمینی حقائق سے دور قرار دے دیا ہے۔ این جی سی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ قومی ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو "ٹکڑوں" میں دیکھنے کے بجائے ایک مربوط پاور سسٹم کے طور پر پرکھا جانا چاہیے۔
ترجمان این جی سی نے نیپرا کے "اوور لوڈنگ" کے دعووں کو تکنیکی طور پر غلط قرار دیتے ہوئے کہاصرف آدھے گھنٹے کی ریڈنگ: نیپرا نے صرف آدھے گھنٹے کی پیک ویلیوز کو بنیاد بنا کر مستقل دباؤ کا غلط تاثر دیا، جبکہ یہ لوڈ ڈیزائن کی حدود کے اندر تھا۔ پاکستان میں سولر انرجی کی وجہ سے اب پیک لوڈ رات کے وقت ہوتا ہے جب درجہ حرارت کم ہوتا ہے، اس لیے ٹرانسفارمرز پر برقی دباؤ کا اثر دن کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
رپورٹ میں مٹیاری،لاہور ایچ وی ڈی سی (HVDC) لائن کے بارے میں اٹھائے گئے نکات پر وضاحت دی گئی کہ یہ کوریڈور گرمیوں میں 4500 میگاواٹ تک بجلی کامیابی سے منتقل کر رہا ہے۔لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن کی تکمیل سے اس کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے، اسے محض ایک الگ سرکٹ کے طور پر دیکھنا درست نہیں۔
این جی سی نے مانیٹرنگ سسٹم کو پرانا قرار دینے کی سختی سے تردید کی فروری 2025 میں جدید ترین ڈیجیٹل سکاڈا (SCADA) پلیٹ فارم فعال کیا جا چکا ہے۔نیٹ ورک کا 70 فیصد سے زائد حصہ اس وقت ریئل ٹائم نگرانی میں ہے، جبکہ WAMS جیسے جدید منصوبوں پر کام جاری ہے۔
کمپنی نے تسلیم کیا کہ کچھ منصوبوں میں تاخیر ہوئی، لیکن اس کی بڑی وجوہات این جی سی کے کنٹرول سے باہر تھیں زمین کے حصول اور رائٹ آف وے (ROW) کے پیچیدہ مسائل، سیکیورٹی چیلنجز اور قانونی مقدمات۔
این جی سی نے واضح کیا کہ وہ سسٹم کے استحکام کے لیے STATCOM اور BESS جیسے جدید ری ایکٹو پاور منصوبوں پر کام کر رہی ہے تاکہ جنوب سے شمال بجلی کی ترسیل کو مزید ہموار بنایا جا سکے اور صارفین پر مالی بوجھ کم ہو۔
نیپرا رپورٹ حقائق کے منافی، ٹرانسمیشن نظام مکمل محفوظ ہے: این جی سی کا دوٹوک جواب
11:33 PM, 24 Feb, 2026