افغانستان میں 23 ہزار دہشت گردوں کی موجودگی، ٹی ٹی پی کا ہدف پاکستان:ماسکو کا کابل انتظامیہ کو انتباہ

02:10 PM, 24 Feb, 2026

ماسکو : روسی وزارتِ خارجہ نے افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر ایک چشم کشا رپورٹ جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں 23 ہزار کے قریب مسلح جنگجو موجود ہیں۔روسی رپورٹ میں افغانستان کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق     افغانستان میں اس وقت 20 سے 23 ہزار دہشت گرد جنگجو مکمل طور پر سرگرم ہیں۔
    ان میں سے نصف سے زائد غیر ملکی ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ افغانستان بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔رپورٹ میں تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے حوالے سے سنگین اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق     ٹی ٹی پی کے 5 سے 7 ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں۔
    یہ گروہ اپنی تمام تر توانائیاں اور توجہ افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جو علاقائی سلامتی کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔رپورٹ میں داعش (خراسان) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں اس کے 3 ہزار کے قریب جنگجو موجود ہیں جو اپنے نیٹ ورک کو مزید منظم کر رہے ہیں۔ روس نے واضح کیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی یہ موجودگی صرف پڑوسی ممالک ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک ٹائم بم کی مانند ہے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی یہ موجودگی اور ان کی سرحد پار کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ موجودہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق روس کی یہ رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک الارم ہے کہ وہ کابل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

مزیدخبریں