میں نے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا حکمرانوں کی خواہش یا دعوت پر اْن سے ملنے کے لیے پروٹوکول کے جو تقاضے غیر ضروری طور پر مقرر کر دئیے جاتے ہیں مجھے وہ انتہائی ناگوار گزرتے ہیں، ایک بار جب عمران خان وزیراعظم تھے انہوں نے بلایا میں چلے گیا اْن کی وزارت عظمیٰ کے عرصے میں میری اْن سے کْل چار ملاقاتیں ہوئیں، تین بار انہوں نے خود یاد کیا ایک بار میں نے اْن سے ملنے کی گزارش اس لیے کی مجھے پتہ چلا میرے ایک بہت ہی محترم کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کو آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹا کر اْنہیں فارغ بٹھایا ہوا ہے، میرے نزدیک وہ بہت اہل اور دیانت دار پولیس افسر تھے، اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن نے اْنہیں آئی جی ریلویز تعینات کرنے کی ایک سمری بہت دنوں سے وزیراعظم کو بھجوائی ہوئی تھی جو اْن کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اْن کے ساتھ کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے دبا کے بیٹھے ہوئے تھے، اس کے علاوہ میرے ایک اور محترم بھائی طارق عباس قریشی کو بطور آر پی او گجرانوالہ سے ہٹا کے ساہیوال لگایا گیا اور ایک معمولی سے واقعے پر وہاں سے بھی اْنہیں ہٹا دیا گیا، معمولی سا واقعہ بھی میں آپ کو سنا دیتا ہوں، ساہیوال میں اْن کے ایک ذاتی دوست کا تعلق نون لیگ سے تھا، وہ اْس دوست کی دعوت پر اْس سے ملنے اْس کے گھر چلے گئے تھے، وزیراعظم عمران خان چونکہ سیاسی طور پر انتہائی کم ظرفی کا شکار تھے لہٰذا انہوں نے اس بات کا اتنا بْرا منایا چند دنوں بعد ہی اْنہیں آر پی او ساہیوال کے عہدے سے بھی ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا، ساتھ ہی اْس وقت کے آئی جی کو ہدایت جاری کر دی، ’’اب اس کی پوسٹنگ کہیں اور نہیں کرنی‘‘، مجھے اس بات کا شدید رنج پہنچا، میں وقت لے کر اْن سے ملا، اْن کی مہربانی میری کچھ وضاحتوں کے بعد میرے دونوں کام اْنہوں نے کر دئیے اور اس سے بڑی مہربانی یہ کی ملاقات کے لیے مجھے زیادہ انتظار نہیں کرایا، البتہ ایک بار جب انہوں نے خود بلایا مجھے سوا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا، میں نے اْن کے ملٹری سیکرٹری سے احتجاج کیا، میں نے عرض کیا ’’آپ تو جانتے ہیں یہ ملاقات وزیراعظم کی اپنی دعوت یا خواہش پر ہو رہی ہے، چنانچہ میں مزید انتظار نہیں کر سکتا مجھے واپس لاہور جانا ہے، اگر بادشاہ سلامت مصروف ہیں رعایا بھی اتنی فارغ نہیں ہے دو دو گھنٹے انتظار کرے‘‘، خیر میرے احتجاج کے چند ہی منٹوں بعد میری اْن سے ملاقات ہو گئی۔ ملاقات کا ایجنڈا یہ تھا ’’میڈیا کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے؟‘‘ میں نے اس حوالے سے اْنہیں جو تجاویز یا مشورے دئیے اْنہوں نے سب رد کر دئیے، میں نے میڈیا کے جن تین بڑے لوگوں کے ساتھ اْنہیں ملنے کے لیے کہا اْن تینوں پر انہوں نے شدید تنقید کی، ایک کو زرداری کا بالکا قرار دے دیا، اب خان صاحب اندر ہیں اور جسے اْنہوں نے ’’زرداری کا بالک‘‘ قرار دیا تھا وہ اس ملک کے تقریباً سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوا ہے، حمزہ شہباز شریف کے ساتھ ملاقات سے پہلے میں نے یہ اطمینان حاصل کر لیا تھا مجھے انتظار نہیں کرایا جائے گا، نہ اس نوعیت کی پروٹوکول کی دیگر لعنتوں کا مجھے سامنا کرنا پڑے گا، الحمدللہ میں جب وہاں پہنچا مجھے پوری عزت سے نوازا گیا، ڈیڑھ گھنٹے کی اس طویل ملاقات میں مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، میں نے بطور خاص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ساتھ اْن کے اختلافات کا جو تاثر عام ہے اْس پر بات کی، انہوں نے کھلے لفظوں میں اس کی تردید کی بلکہ شواہد کے ساتھ بتایا یہ تاثر درست نہیں ہے۔ اْن کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا شریف فیملی کا وہ روایتی اتفاق اب بھی قائم و دائم ہے جس کے چرچے ایک زمانے میں پوری دنیا میں تھے۔ اس فیملی کے ’’اتفاق‘‘ کی لوگ مثالیں دیتے تھے۔ آپس میں اتفاق کے حوالے سے ایک اور سیاسی خاندان کے بڑے چرچے تھے، وہ ’’چودھری برادران‘‘ کا خاندان تھا، اس خاندان کے اتفاق کو اقتدار کی نظر لگ گئی، اقتدار کی لالچ نے چودھری پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت حسین کے بچوں کے درمیان ایسی غلط فہمیاں پیدا کیں جس کی زد میں اْن کے بڑے بھی آ گئے۔ سْنا ہے یہ فیملی پھر سے اکٹھی ہو گئی ہے، یہ بھی پتہ چلا ہے کچھ عرصہ پہلے چودھری پرویز الٰہی کی رہائی اس فیملی کے دوبارہ اکٹھے ہونے کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی تھی۔ مجھے ذاتی طور پر اس فیملی میں پڑنے والی دراڑ کا بڑا دکھ ہوا تھا۔ شریف برادران کے اختلافات کی خبریں بھی ہر دوسرے چوتھے روز گردش کرتی رہتی ہیں مگر عملی طور پر ایک ایسا واقعہ نہیں ہوا جس سے باقاعدہ اختلافات ثابت ہوئے ہوں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں شہباز شریف نواز شریف کی مرضی کے خلاف وزیراعظم بنے، حمزہ شہباز شریف نے جو تفصیل مجھے بتائی اْس کے مطابق اْن کے والد میاں شہباز شریف کے ہاں اپنے بڑے بھائی نواز شریف کی کسی بات کو رد کرنے کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے۔ مسلم لیگی کارکنوں کے ساتھ حمزہ شہباز شریف کا جو ایک ذاتی تعلق اور رشتہ بڑی مضبوطی سے جڑا ہے میں نے اْسے سراہتے ہوئے عرض کیا ’’ضروری نہیں ہر بار الیکشن کے لیے خفیہ سہارے میسر ہوں، کارکنوں کے ساتھ ایسے مضبوط تعلق اور رابطے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اگر واقعی کبھی صاف شفاف الیکشن ہو جائیں سیاسی جماعتیں کچھ نہ کچھ نشستیں صرف اس بنیاد پر حاصل کر سکیں کہ اپنے کارکنوں کے ساتھ اْن کا تعلق اور رابطہ بڑا مضبوط تھا‘‘۔ میں نے گزشتہ کالم میں اس حوالے سے میاں نواز شریف کا حوالہ دیا تھا جو اپنی وزارت عظمیٰ اور وزارت اعلیٰ کے دوران اپنے کارکنوں سے مسلسل رابطے میں رہے، اس کا نتیجہ یہ نکلا اکتوبر1999 کی ’’بارہویں شریف‘‘ میں اقتدار سے نکالے جانے کے بعد مسلم لیگ نون نے جنرل مشرف کی اندھا دْھند آمریت کے خلاف جو جدوجہد کی کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اْن کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی موضوعات پر اْن سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے بھی اپنے بزرگوں کے کچھ یادگار واقعات انہیں سنائے، وہ بہت متاثر ہوئے۔ میں یہ بات دہرانا چاہتا ہوں اس طویل ملاقات میں مجھے وہ ایک وہ ایک بدلے ہوئے حمزہ شہباز شریف نظر آئے، ہماری ملاقات کی تصویریں اور کچھ وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔ مجھے لاہور سے میرے محترم بھائی ماجد ظہور اور گجرانوالہ سے ایم پی اے کامران خالد بٹ اور اْن کے بھائی پومی بٹ کی کالز آئیں۔ اْنہوں نے حمزہ شہباز شریف کے کچھ ایسے واقعات مجھے سنائے مجھے اچھا لگا میں ایک اچھے انسان سے مل کر آیا ہوں۔ واپسی پر وہ مجھے گاڑی تک سی آف کرنے آئے، تب تک وہ گاڑی کے پاس کھڑے رہے جب تک گاڑی وہاں سے روانہ نہیں ہو گئی۔ میرے ساتھ میرا ڈرائیور اور گھر کے دیرینہ مددگار شاہ جی بھی تھے۔ اْنہوں نے اشارے سے مجھ سے کہا ہم حمزہ شہباز کے ساتھ تصویریں بنانا چاہتے ہیں۔ حمزہ شہباز شریف نے شاہ جی کی عمر کے بارے پوچھا، میں نے بتایا اْن کی عمر چوہتر برس ہے، بزرگی کے لحاظ میں اْنہوں نے شاہ جی کو درمیان میں کھڑے کر دیا خود سائیڈ پر کھڑے ہو گئے، جیسے حکومتی لحاظ سے وہ ان دنوں سائیڈ پر ہیں۔ پر میں ذاتی طور پر جانتا ہوں انتہائی مہذب انداز میں اپنی جو بات اْنہوں نے منوانا ہوتی ہے مان لی جاتی ہے۔ میں اپنے محترم بھائی احمد سلیم بٹ کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اس ملاقات کے لیے مجھے قائل کیا۔
بدلہ ہوا حمزہ شہباز شریف (دوسری و آخری قسط)
09:07 AM, 24 Feb, 2026