آج کل سوشل میڈیا پر، اخباروں اور خبروں میں ایپسٹین فائلوں کا بہت چرچا ہے۔ ایسے ایسے چہروں کے ایسے ایسے کارنامے سامنے آ رہے ہیں کہ انسان حیرت سے انگشت بہ دنداں رہ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ بہت بڑی بدنامی کے گرداب میں پھنس چکے ہیں۔ اس بدنامی سے ان کی زندگی کو کیا فرق پڑتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ہمیں اس سارے معاملے کو ایک مختلف انداز سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر لوگوں کی دلچسپی اس امر میں ہے کہ کس نے کیاکچھ کیا۔ لیکن اس لکیر کو بار بار پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ہم اپنا رخ کسی اورجانب گھمائیں اور ذرا غوروفکر کریں۔
ان فائلوں میں جو کچھ لکھا ہے، جو کچھ تصاویر اور ویڈیوز میں دستیاب ہے وہ سب ظاہر ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کچھ بھی ہوا میں پیدا نہیں ہوجاتا۔ آج اگر کسی درخت پر ایک پھل آیا ہے تو اس کی برسوں پرانی تاریخ ہے۔ ایک بیج سے لے کر تناور درخت بننے میں وہ پودا کئی سردوگرم سے گزرتا ہے۔ کوئی اسے پانی دیتا ہے، اس کی دیکھ بھال کرتا ہے تب کہیں جاکر وہ پھل لگتا ہے۔ تو اگر کسی کو درخت کا پھل بدمزا اور کڑوا محسوس ہو رہا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ پھل کو بُرا کہنے کے بجائے ماضی میں جھانکے کہ درخت کے ساتھ کیا ہوا تھا۔
انسان میں عام طور پر سب سے پہلا لالچ دولت کا آتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ دولت تمام مسائل کا حل نہ بھی سہی، اس کی وجہ سے زندگی بہرحال آسان ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دولت جو ایک آزادی، عزت اور رعب و دبدبہ دیتی ہے، اِنسان اس سے بھی بہت متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ دولت حاصل کرنے کے پیچھے بھاگتا ہے۔ جب کچھ دولت ہاتھ آ جاتی ہے تو اِنسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب اس کا حال اور مستقبل محفوظ ہوگیا ہے۔ اگر کوئی بُرا وقت آیا تو یہ دولت اس بُرے وقت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہو جائے گی اور وہ بُرا وقت اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکے گا۔
جب دولت بہت بڑھتی ہے تو دوسرے لالچ پیدا ہونا شروع ہوتے ہیں۔ دولت کو اپنا اظہار درکار ہوتا ہے۔ چنانچہ بڑے بڑے گھر، نئی نئی کاریں آتی ہیں۔ عیش و عشرت کے دیگر باب وا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اِنسان کو لگنے لگتا ہے کہ وہ جوچاہے، جسے چاہے خرید لے۔ اسے لگتا ہے کہ دنیا ایک باندی کی مانند اس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔ چنانچہ وہ اس باندی کو اپنے ڈرائنگ روم میں نچانے کے شوق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن دنیا کسی کی باندی نہیں ہے۔ یہ صرف اِنسان کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے اور پھر اسے اپنے پیچھے چلنے پرمجبور کر دیتی ہے۔ جب اِنسان آنکھیں بند کر کے دنیا کے پیچھے چلتا ہے تو وہ ہر گڑھے، ہر کھائی میں گرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ چنانچہ آپ دیکھ لیں کہ اِنسان نے دنیا کے لالچ میں کیا کچھ نہیں کیا۔ وہ یہاں تک گرا کہ محترمہ زہرا نگاہ کو یہ لکھنا پڑا کہ
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
گویا اِنسان جنگل کے جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔
جو بات سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ کسی کے پاس دولت کا کوہ ہمالیہ بھی ہو لیکن اس میں برکت نہ ہو، اس کے ساتھ آسانیاں شامل نہ ہوں، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے خالی ہو تو وہ پہاڑ اِنسان کو خوشی اور راحت نہیں دے پاتا ہے۔ اس کا مستقبل محفوظ نہیں بنا سکتا۔ جب اِنسان کی زِندگی خوشی اور راحت سے خالی ہو، اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل نہ ہو تو وہ ان گڑھوں میں گرتا ہے جن میں وہ لوگ گرے جن کا ان فائلوں میں ذکر ہے۔ انہوں نے وہ کام کیے جنہیں غالباً ایک زمانے میں وہ خود بھی معیوب مانتے ہوں گے یا کم از کم وہ یہ نہیں چاہتے ہوں گے کہ ان کے گھر کی خواتین اور ان کے بچے ان کاموں میں مبتلا ہوں۔ وہی دولت جسے وہ اپنے محفوظ مستقبل کی ضمانت سمجھتے تھے، اسے خود دونوں ہاتھوں سے لٹاتے ہیں، آگ لگاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ اِس قسم کے شوق میں مبتلا ہو کر نواب سے خواب میں تبدیل ہو گئے۔ وہ یوں قلاش ہوئے کہ ا ن کے قریبی دوست اور رِشتے دار انہیں منہ لگانا چھوڑ گئے۔ اِس لیے یہ بات، کم از کم ایک مسلمان کیلئے، جاننا ضروری ہے کہ محفوظ مستقبل کی ضمانت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اگر یہ ہے تو کم دولت میں بھی زندگی آسانی سے گزر جاتی ہے اور عاقبت بھی خراب نہیں ہوتی۔ اگر یہ رحمت نہ ہو تو دنیا بھی قابل رشک نہیں ہوتی اور آخرت تو جیسی ہو گی وہ خود ہی دیکھ لیں گے۔ لیکن مسلمان بھی، عام طور پر یہ بھول جاتے ہیں۔ رحمت ان کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے اور دنیا کی تلخ حقیقتوں سے وہ اِس قدر خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ دولت کے ڈھیر کے نیچے پنا ہ لے کر ہر مصیبت سے بچ جانے کا عزم کر لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ، اپنی رحمت کے صدقے، عام طور پر ایسے لوگوں کو بھی کچھ نہیں کہتا لیکن کبھی کبھار، صرف جھنجھوڑنے کیلئے، کچھ واقعات دنیامیں رونما کرا دیتا ہے۔
یہاں یہ بات یاد رہے کہ جن لوگوں کے نام اِن فائلوں میں ہیں وہ معمولی لوگ نہیں ہیں۔ وہ پرانے یا موجودہ وزیراعظم، صدر، سائنس دان، وزرا، دیگر سیاست دان، سفارت کار، بڑے کاروباری افراد وغیرہ تھے۔ اِن فائلوں کا کھل جانا دو باتیں بتاتا ہے۔ پہلی یہ کہ ہمارے اعمال، خواہ وہ کتنے چھپ کر الگ تھلگ جزیروں پر کیے جائیں، دنیا کے سامنے کھل سکتے ہیں۔ گویا ہمارے اعمال کا ریکارڈ بن رہا ہوتا ہے اگرچہ ہمیں اس کی خبر نہیں ہوتی۔ اگر ان بڑے بڑے لوگوں کو یہ بات معلوم ہوتی کہ اِن جزیروں میں جا کر، ساری دنیا سے چھپ کر جو کام وہ کریں گے انہیں کیمرا دیکھ رہا ہو گا تو شاید ان میں سے بہت سے اِس خوف سے ہی رک جاتے۔ اِنسان اپنی بداعمالیوں کا ریکارڈ بنوانا پسند نہیں کرتا۔ اس پر سات پردے ڈالے رکھنا چاہتا ہے۔ اِسی طرح خدا کے ماننے والوں کو کم از کم اِس بات کا اِحساس ہونا چاہیے کہ ان کا ہر فعل، ہر جملہ، ہر خیال ریکارڈ ہو رہا ہے۔ آج سے پانچ سو سال پہلے تک لوگوں کے ذہن میں ویڈیو ریکارڈنگ کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن آج یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی اِنکار نہیں کر سکتا۔ اِسی طرح آج ہمارے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہمارا ہر جملہ اور ہر خیال کیسے ریکارڈ ہو گا لیکن ایک وقت آئے گا جب اِنسان یہ جان جائے گا کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ لیکن تب تک شاید بہت دیر ہو چکی ہو۔
دوسری بات یہ کہ قیامت کے روز جب سب کے سامنے سب راز کھل جائیں گے تو اِنسان اپنے رِشتے داروں اور دوستوں کے سامنے کس قدر ہتک محسوس کرے گا کہ وہ دنیا کیا کچھ کرتا رہا تھا اور اپنے آپ کو کیا ظاہر کرتا تھا۔ اِن فائلوں کا کھلنا روزِ حساب کی ایک نہایت معمولی سی جھلک دکھاتا ہے۔ یہ فائلیں ان بڑے لوگوں کی چند غلیظ بداعمالیوں کے گرد گھومتی ہیں۔ دولت کی اندھی طلب اور محبت کو آشکار کرتی ہیں۔ لیکن جب ہر اِنسان کا ایک ایک عمل کھل جائے ، اس کے جسم کے اعضا اس کے خلاف گواہی دے رہے ہوں تو وہ بہت خوفناک صورت حال ہے۔ ہمیں اِس سارے معاملے کو اِس نظر سے بھی دیکھناچاہیے اور اس روز کی شرمندگی سے بچنے کے لیے آج کوشش کرنی چاہیے۔
جنگلوں کا دستور
09:06 AM, 24 Feb, 2026