شہر نجف کی مختصر تاریخ

09:05 AM, 24 Feb, 2026

شہر نجف میں باوضو ہو کر گھومتے ہوئے ہم اجنبی نہیں تھے، اس لیے شہر علی سے اُنسیت تھی کہ اس شہر کو اس ہستی نے اپنے لیے چنا تھا۔ بقول رسول برحق و ہادی عالمﷺ، جن کا فرمایا ہوا ناقابل تردید حق ہوتا ہے، زمین کے راستوں سے آسمان کے راستے بہتر جاننے والا اپنے لیے درست انتخاب کرتا ہے۔ اس لیے یہی وہ شہر ہے جہاں سے علم و حلم کی خیرات دنیا بھر تک پہنچتی ہے۔ یہ شہر ہمارے گمان کے کینوس پر بے شمار صدیوں سے رقم تھا۔ اس شہر لازوال کو جناب ابراہیمؑ نے نئے سرے سے بالکل اسی طرح ترتیب دیا تھا جیسے بیت اللہ کو از سر نو تعمیر کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس شہر میں تقدس ہی نہیں تاریخ بھی قدم قدم پر ہمیں حیران کرتی جاتی تھی۔
طوفان نوح کے وقت جب جناب نوح علیہ السلام کی کشتی مکہ میں پہنچی تو نوح علیہ السلام نے بحکم خدا کوہ ابو قبیس سے جناب آدم علیہ السلام کا تابوت نکال لیا اور اسے لا کر نجف الاشرف میں دفن کیا۔ روایات کتب کے مطابق جب جناب نوح علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کو دفن کیا تو ساتھ ہی اپنی قبر بھی بنائی۔ جب مولا علیؓ نے کوفہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا تو نجف شہر کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا اے میرے رب میری قبر اسی مقام پر قرار دے۔ چالیس ہزار درہم میں خریدی گئی اس زمین پر وسیع ریگستان تھا جو امام موسی کاظم کے دور تک برقرار رہا۔ آبادی اس کے بعد شروع ہوئی۔ اس زمانے میں نجف سے متصل ایک قدیم آبادی حیرہ نام کی تھی۔ حیرہ کے قریب نجف کے پہلو میں ملطاط نامی ریگستان تھا۔ حیرہ کے بانی کلدانیوں کے فرماں روا بخت نصر تھے اور پھر سکندر مقدولی نے اسے دوبارہ تعمیر کرایا۔ پھر حیرہ کے لوگ انبار کی طرف منتقل ہو گئے اور حیرہ کی بستی ویران ہو گئی۔ جب مالک ابن فہم یمن کے ڈوب جانے کے ڈر سے وہاں سے نکلا تو عراق میں نہ صرف پڑاؤ ڈالا بلکہ وہاں اپنی حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہو گیا۔ مالک کا بیٹا جذیمہ ابرش حکمران بنا۔ پھر عمرو بن عدی عیسوی میں شاہ پور اول کے دور میں تخت کا وارث بنا تو عمرو نے حیرہ کو اپنا مسکن بنایا اور یہ بستی پھر سے آباد ہونے لگی۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں کوفہ کو آباد کیا مگر اس شہر کو شہرت تب نصیب ہوئی جب مولا علیؓ نے کوفہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا۔
شہر نجف کے مختلف ناموں کا تذکرہ تاریخ و تحقیق کی کتابوں میں ملتا ہے۔ نجف کا نام نی جف کا مرکب ہے۔ کتاب علل الشرائع باب میں لکھا ہے کہ امام جعفر الصادق نے فرمایا کہ اس شہر میں ایک بہت بڑا پہاڑ تھا جس پر چڑھ کر طوفان سے بچ جانے والی نافرمانی پر مبنی بات جناب نوح علیہ السلام کے بیٹے نے باپ سے کہی تو اللہ کے حکم سے وہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا اور سمندر کی شکل دھار گیا۔ طوفان نوح کے بعد پانی خشک ہوا تو اس کا نام بحر نی یعنی چربی کا سمندر پڑ گیا۔ خشک ہونے کو جف کہتے ہیں، نی جف جو بعد میں آسان ادائیگی کے لیے نی جف سے نجف کہلایا جانے لگا اور پھر نجف کے معنی ہی بلندی کے ہیں۔ نجف الاشرف تو اس وقت ہوا جب مولا علی علیہ السلام سے نسبت ملی۔
نجف کے نام وقت کے ساتھ ساتھ تقدس، موسم، حالات اور حکمرانوں کی مذہبی نسبت سے تبدیل ہوتے گئے۔ غری، مشہد، الظہر، اللسان، خدا العذرا، الرحی، بانقیا، دومتہ، مجاز، ربوہ، طور سینا، جودی، وادیٔ السلام، ثویہ اور شاطی البحر جیسے نام اس شہر سے منسوب رہے مگر اس وقت ہم نجف الاشرف کے زمانے میں یہاں موجود تھے۔ سات سو سال سے زائد زمانے پہلے جب سیاح عالم ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ المعروف ابن بطوطہ جب اس مقدس دھرتی پر آیا تھا اور پھر طویل سفری داستان تحفہ النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار جیسی کتاب لکھی تو وہ زمانے 1345 عیسوی کے تھے۔ انہوں نے لکھا نجف اشرف اسداللہ غالب علی ابن ابی طالبؓ کا مشہد ہے۔ یہاں ان کا مزار ہے اور یہ شہر حد درجہ خوبصورت اور سخت و ہموار زمین پر واقع ہے۔ عراق کے شہروں میں اس سے بڑھ کر کوئی شہر نہیں۔ یہاں کی آبادی بھی زیادہ ہے اور مکانات بھی بہت مستحکم ہیں۔ بازار نہایت خوبصورت اور پاکیزہ ہیں۔ اس میں ہمارا دخول باب الحضرہ سے ہوا۔ پہلے سبزی فروشوں کی دکانیں ملیں۔ پھر طباخوں، پھر نانبائیوں کی، پھر پھل پھلاری کا بازار اس کے بعد عطاروں کا بازار ہے۔ مزار علیؓ کے سامنے مدرسے، خانقاہیں اور تکیے آباد ہیں۔ ان عمارتوں کی دیواریں قاشانی ہیں جو ہمارے ملک کے زیج کے مشابہ ہیں لیکن اس کا رنگ زیادہ چمک دار اور نقش بہتر ہیں ابن بطوطہ نے یہ سفر سات سو سال سے زائد عرصہ پہلے کیا تھا مگر آج صدیوں بعد بھی یہی نقشہ ہے بس ہوٹلوں کی بلند بالا عمارتوں نے فقط بدنی بلندی حاصل کر لی ہے۔
ابن بطوطہ لکھتے ہیں کہ ہم باب الحضرہ سے مدرسہ عظیمہ میں داخل ہوئے۔ اس بڑے مدرسہ میں شیعہ عقیدہ کے طلبا اور صوفیہ رہتے ہیں اور ہر آنے والے کو تین دن تک روٹی، گوشت اور کھجوریں ملتی ہیں۔ اس مدرسہ میں باب القبہ سے دخول ہوتا ہے۔ یہاں دروازے پر حاجب، نقیب اور خواجہ سرا ہوتے ہیں جب کوئی زائر آتا ہے تو ان میں سے ایک کھڑا ہو جاتا ہے یا اگر کئی زائر ہوں تو سب کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفر کا حال لکھتے ہوئے بتایا کہ مزار علیؓ کے دونوں بازو چاندی کے ہیں اور مزار کے اندر سونے کی چھوٹی بڑی قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں۔ آج ہم دیکھ رہے تھے کہ لوگ عقیدت بھری نگاہوں سے زیارات و سلام پڑھتے تھے اور جھولیاں بھرتے جاتے تھے۔ یہ نجف اشرف میں ہمارا دوسرا دن تھا۔

مزیدخبریں