چیف کلکٹرڈاکٹر نوید الٰہی و کلکٹر کسٹم عمر شفیق لاہور

09:04 AM, 24 Feb, 2026

 آئین، قانون، ادارہ، محکمہ وہی ہوتا ہے اُس کا محض سربراہ بدلنے سے محکمے یا ادارے کی پوری ہیئت ہی بدل جاتی ہے۔ عدالتی نظام و محکمہ اور قانون وہی ہے لیکن افسران اور ججز کے کردار ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتے ہیں اور نتائج بھی۔ اداروں کے سربراہان اور محکمہ جات کے نیچے سپاہی سے لے کر سپیشل اسسٹنٹ تک کو دیکھ لیں، کردار اور پالیسیاں اثر انداز ہوتے ہیں۔ فیلڈ مارشل نے سمگلنگ کے حوالے سے سخت اقدامات کیے کہ اس کو روکا جائے وہ سمگلنگ جو نان ڈکلیئرڈ روٹس کے ذریعے کی جا رہی تھی اُس میں تو شاید خاصی کمی آ گئی لیکن امپورٹ کی صورت میں ہونے والی سمگلنگ یعنی جو مس ڈیکلریشن کے ذریعے کی جاتی تھی اس کو روکنے کے اقدامات بھی ہوئے۔ اُس میں بنیادی ضروریات میں اپنے تئیں ایف بی آر کی ری سٹرکچرنگ تھی جو کر دی گئی اور مزید کی جا رہی ہے۔ ضروری نہیں ہر اقدام اسے متفق ہوا جا سکے۔ اپ کنٹری ڈرائی پورٹس کاروبار میں وسعت، لوگوں کے روزگار اور آسانی کے لیے ضروری ہیں۔ گریٹ ذوالفقار علی بھٹو زیرک انسان تھے، انہوں نے یہ نظام متعارف کرایا جو باقی رہنا چاہیے، اس کے پیچھے زبردست معاشی حکمت موجود ہے۔ اب نظام اور کام کی شفافیت کا سارا بوجھ ان افراد پر ہے جو تعینات کیے جائیں۔ حالیہ تعیناتیوں میں لاہور میں چیف کلکٹر کسٹم اپریزمنٹ جناب ڈاکٹر نوید الٰہی اور کلکٹر کسٹم جناب عمر شفیق تعینات ہوئے ہیں، سارے کا سارا نقشہ ہی بدل دیا گیا ہے، سمگلر اور ان کے سہولت کار تتر بتر ہو گئے ہیں، جینوئن کاروباری لوگ خوش ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ افراد ہی نظام کا بوجھ اٹھا رہے ہیں جو لوگ واقف حال ہیں وہ ان سے پہلے تعیناتیوں کو جانتے ہیں چند ضرب المثل افراد آئے جن میں قبلہ محمد صادق صاحب، محترمہ طیبہ کیانی نمایاں طور پر شامل ہیں جنہوں نے پالیسیاں متعارف کرائیں، ریونیو بڑھانے اور دیانتداری کو فروغ دیا۔ میں کسی کی دیانت پر بات نہیں کرتا لیکن دیانتداری کا کلچر دینا اور نافذ کرنا الگ بات ہے۔ ان موجودہ افسران جن کے آنے سے کسٹم سے بعض وابستہ لوگوں میں کھلبلی مچ گئی مگر جن کا سیدھا اور قانونی کام ہے ان کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں ہیں جو ٹیڑھے پن کا شکار ہیں وہ مشکل میں ہیں اور دوسری کسٹم پورٹوں پر اُڑان بھر رہے ہیں۔ وہ ٹولوں کی 
صورت ہوں یا ون مین شو۔ ان کے اداروں میں، سیاست دانوں میں تعلقات و سہولت کار کچھ فائدہ نہیں دے رہے، ان کی الزام تراشیاں درخواست بازیاں اپنی موت مر گئی ہیں۔ چونکہ میں کسٹم پینل پر بطور وکیل شامل ہوں مجھے کبھی کبھار قانونی مشاورت اور پالیسی سے آگاہی کے لیے افسران سے رابطہ رکھنا ہوتا ہے۔ چند دن پہلے چیف کلکٹر صاحب اور کلکٹر صاحب سے دو تین بار ملاقاتیں ہوئیں، جن میں ان کی پالیسیاں، حب الوطنی پر مبنی خیالات، قانون کی حکمرانی اور اسلامی اصولوں و ہدایات کے تابع لگیں۔ چیف کلکٹر ڈاکٹر نوید الٰہی لاہور سے تعلق رکھنے کے باوجود یہاں زیادہ وقت تعینات نہیں رہے، دو دہائی پہلے این ایل سی ڈرائی پورٹ پر ڈی سی تعینات رہے، گاڑیوں کی امپورٹ میں غبن کو پکڑا اور مشرف تک رسائی رکھنے والے افسران کو ہاتھ ڈالا، پروا کیے بغیر اُن کے کام کے متعلق کارروائی کی نتیجتاً وہ معطل ہوئے اور اس کے بعد کبھی قدم نہ جما سکے۔ اب وہ ایک عرصہ بعد چیف کلکٹر تعینات ہوئے، ان کا مطمع نظر قانون کی حکمرانی، مساوات اور انسانی عزت اور وقار ہے جن لوگوں کو یہ قبول نہیں وہ پریشان ہوئے۔ انتہائی با اخلاق اور محبت وطن شخصیت ہیں اور جناب عمر شفیق کلکٹر صاحب ایک زبردست مذہبی، محب وطن آفیسر ہیں۔ انصاف اور لوگوں کے لیے آسانیوں پر یقین رکھتے ہیں جیسا کہ چیف کلکٹر کی بھی پالیسی ہے۔ عمر شفیق صاحب سے دو ملاقاتیں ہوئیں جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ ان کی گفتگو ایسی تھی کہ بات سے بات نکلتی چلی گئی اور ہر بات انتہائی اہم، مذہبی، حب الوطنی، انسانیت کی ترویج، عاجزی کے سبق کا لیکچر لگی۔ ان کا ماننا ہے کہ انسان کے کردار کو جانچنے کے لیے پاکستان واحد ملک ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک ملائیشیا، دبئی، امریکہ وغیرہ میں نظام نے انسانوں کو جکڑ رکھا ہے لیکن پاکستان میں نظام جو بھی مگر انسان کردار ادا کرنے میں آزاد ہیں، اپنے کنڈکٹ میں، جو دل چاہے کرے۔ انہوں نے کہا کہ 25 سالہ عوامی و سرکاری خدمت میں اُنہیں کبھی کسی نے ناجائز کام نہیں کہا اور نہ انہوں نے کسی کو کہا۔ ان کا مطلب تھا کہ لوگ نظام میں خامیاں نکالتے ہیں۔ اس نظام میں مجھے تو کبھی کسی نے مجبور نہیں کیا، ہمیشہ اہم ذمہ داری پر رہا ہوں۔ پھر انہوں نے سب کچھ اللہ کے اختیار اور علم میں ہونے کی بات حضرت موسیٰ علیہ السلام جن کا قرآن عظیم کے 34 سے 36 مختلف سورتوں میں ذکر اور 136 بار سے زائد نام کے ساتھ تذکرہ ہے، واقعہ جو حضرت خضر علیہ السلام کے حوالے سے جانا جاتا ہے، سنایا کہ اللہ کے اتنے عالی شان پیغمبر بھی کشتی میں سوراخ، دیوار بنانے کی مشقت، بچے کے قتل میں پنہاں حکمت سے ناواقف تھے۔ پھر انہوں نے پاکستان کو ایک معجزہ قرار دیا اور یہ کہ دنیا میں نو ممالک ہیں جو ایٹمی قوت ہیں۔ بات بڑھاتے ہوئے مزید کہا کہ دنیا کا ریڈ زون پاکستان ہے اور ریڈ زون ہوتا ہے جہاں کچھ ایسی حرکت نہ ہو انسان تباہی کر سکے۔ پاکستان ایک معجزہ ہے دنیا میں اس کا ایک دن سکہ چلے گا اور یہ قائم رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر تشکر کا اظہار کیا کہ اپنی حد تک اپنے ڈیپارٹمنٹ میں پھیلایا ہوا گند ہم نے صاف کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ لوگ آتے رہے بہتری کرتے رہے مگر پھر بعد میں آنے والے اس بہتری کو برقرار نہ رکھ سکے لیکن ایک ناقابل فراموش بات جو انہوں نے کی وہ ہے کہ لوگ بظاہر دین پر چلنا مشکل قرار دیتے ہیں جبکہ دین پر چلنا، انسانیت کے اصولوں پر چلنا انتہائی آسان ہے۔ جس کے ساتھ دنیا بھی مل جاتی ہے۔ ان کی ایمان افروز گفتگو کے سلسلے پر ایک کتاب بھی کم پڑ جائے۔ دونوں افسران سے بات کریں تو ملک سے محبت اور قانون پر عملداری پہ یقین اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ دنیا حاصل کرنا مشکل ترین، اذیت ناک اور اس حد تک تحقیر آمیز عمل ہے کہ کثرت کی خواہش قبروں میں لے جاتی ہے۔ آپ دنیا کے شوقین، جو ناجائز ذرائع استعمال کرتے ہیں، کو دیکھ لیں کس طرح دربدر پھرتے ہیں، کیا دعوے کرتے ہیں مگر ان کی کوئی سنتا ہے نہ پروا کرتا ہے۔ دونوں افسران رویے میں محتاط، گفتگو میں الفاظ کے چناؤ میں پختہ ہیں۔ ان کی افراد کے حوالے سے کوئی پسند یا نا پسند نہیں صرف قانون کی حکمرانی اولیت ہے۔ کوئی بندہ یا گروپ ٹارگٹ نہیں نہ نوازے جانے کے لیے عزیز، بس قانون کی حکمرانی، عملداری اور دلیل سے قائل ہوتے ہیں۔ ایک قابل توجہ پہلو ہے کہ کراچی سے ٹرانس شپمنٹ کرنے والے ایجنٹ کی مس ڈکلیریشن کا بوجھ لاہور میں کلیئرنس کرانے والے ایجنٹ پر پڑتا ہے جبکہ وہ پابند ہے وہی کچھ ڈکلیئر کرنے کا جو کراچی میں کیا گیا تھا۔ ایسے مسائل اگر چیف صاحب اور کلکٹر صاحب کے علم میں لائے گئے تو ضرور انصاف ہو گا۔

مزیدخبریں