جانے والوں کے نام

09:04 AM, 24 Feb, 2026

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اُٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی
اقبال کا یہ شعر ان دنوں رہ رہ کر یاد آ رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران کئی ایسی شخصیات جدا ہو گئیں جو دل کے بہت قریب تھیں۔ ان میں سید سلمان گیلانی سرفہرست ہیں جن کا دو روز قبل لاہور میں انتقال ہو گیا۔ شاہ جی کیا گئے یادوں کا ایک دریچہ کھل گیا۔ یوں تو ان کے نام کے ساتھ بچپن ہی سے شناسائی تھی تاہم دوستانہ تعلق کوئی دس بارہ سال قبل قائم ہوا تھا۔ ان برسوں میں انہیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کی صدارت میں لاہور پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام کئی مشاعرے کرائے۔ ان کی ہمراہی میں کئی مشاعرے پڑھے بھی۔ ان کے ساتھ سفر کرنے کا بھی موقع ملا اور ان کے گھر بھی آنا جانا رہا۔ سلمان گیلانی صاحب چونکہ میرے ہم نام تھے، اس لیے جب بھی ملاقات ہوتی تو محبت سے ایک جملہ ضرور کہتے کہ ہم سلمانین ہیں۔ مراد یہ کہ ہم دونوں سلمان ہیں۔ اس جملے میں بہت اپنائیت ہوتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کا ہم نام ہونے پر مجھ سے زیادہ خود انہیں فخر ہے۔
سلمان گیلانی صاحب سے آخری ملاقات ہمارے دفتر ہی میں ہوئی جب وہ کسی پروگرام کی ریکارڈنگ کے لیے تشریف لائے تھے۔ جمعہ کا دن تھا اور میں نماز جمعہ کے لیے اپنے دھیان میں تیزی سے سیڑھیاں اتر کر مسجد کی طرف رواں دواں تھا کہ انتظار گاہ سے گزرتے ہوئے ایک مانوس آواز کانوں سے ٹکرائی سلمان صاحب!! چونک کر آواز کی سمت دیکھا تو سلمان گیلانی صاحب اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ ایک کرسی پر تشریف فرما تھے۔ قریب گیا اور جھک کر انہیں سلام کیا۔ ان کی خیریت دریافت کی۔ دل کے بائی پاس کے باعث خاصے کمزور ہو چکے تھے۔ مذاق کے انداز میں پنجابی میں ان سے کہا ’’شاہ جی بہت لِسے ہو گئے او‘‘۔ قہقہہ لگا کر خوش دلی سے بولے ’’کوئی گل نئیں، تگڑے وی ہو جاواں گے، اللہ کرم کرے گا‘‘۔ اس مختصر گفتگو کے بعد انہیں ریکارڈنگ کے لیے سٹوڈیو میں جانا تھا اور مجھے 
نماز جمعہ کے لیے مسجد جانا تھا، کہنے لگے میری ریکارڈنگ کا وقت ہو گیا ہے، آپ نماز پڑھ کر آئیں پھر ملاقات ہوتی ہے، لیکن اس کے بعد ملاقات نہیں ہو سکی کیونکہ میرے دفتر لوٹنے تک وہ ریکارڈنگ سے فارغ ہو کر واپس جا چکے تھے۔
سلمان گیلانی صاحب کو میں اس وقت سے جانتا تھا جب چھوٹا بچہ تھا۔ وہ دور پاکستان پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کی سیاست کا تھا۔ بچہ ہونے کے باعث سیاست کی اتنی سمجھ تو نہیں تھی لیکن سیاسی نعرے بہت پُرکشش لگتے تھے۔ سلمان گیلانی صاحب انہی دنوں میں اپنے والد محترم سید امین گیلانی صاحب کے ہمراہ بطور شاعر ان جلسوں میں آیا کرتے اور دونوں باپ بیٹا اپنی شاعری سناتے۔ لوگ دور دور سے انہیں سننے کے لیے آتے تھے، ان لوگوں میں ہم بھی شامل ہوتے۔ شاعری تو خیر سمجھ میں نہیں آتی تھی لیکن ان کا ترنم بہت متاثر کرتا اور ہم لوگ بعد میں اسی انداز میں اس شاعری کو گنگناتے بھی رہتے۔ اس دور میں بھی شاہ جی شاعرِ ختم نبوت کے طور پر شہرت کی بلندیوں پر تھے۔
پھر زندگی مصروف ہو گئی اور ہم ان جلسوں سے دور ہو گئے۔ بڑے ہوئے تو خود بھی شاعری کا شوق پیدا ہوا اور ایک بار پھر سلمان گیلانی صاحب کا نام سنا لیکن اس بار سیاسی جلسوں میں نہیں بلکہ ٹی وی سکرین پر مزاحیہ شاعر کے طور پر سنا۔ انہی دنوں اتفاق سے ایک مشاعرے میں ملاقات ہوئی اور انہیں بتایا کہ میں بچپن میں آپ کی شاعری سنا کرتا تھا تو اپنے روایتی شگفتہ انداز میں بولے کہ اپنے بچپن میں یا میرے بچپن میں اور اس کے بعد وہی جملہ کہا جسے سن کر ہمیشہ دل خوش ہوتا ہم سلمانین ہیں۔ اب یہ جملہ کبھی سننے کو نہیں ملے گا کہ سلمانین کا ساتھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ شاہ جی اپنے رب کے حضور پیش ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالی انہیں غریق رحمت فرمائے۔
سلمان گیلانی صاحب سے تقریباً ایک ماہ پہلے ایک اور مہربان اعتبار ساجد بھی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اعتبار ساجد کے ساتھ بھی بہت اچھا دوستانہ تعلق رہا۔ ان کی شاعری بھی بہت متاثر کرتی تھی۔ میں تو ان کا مداح تھا ہی لیکن وہ بھی مجھ پر بہت شفقت فرماتے تھے۔ انہیں بھی لاہور پریس کلب کے مشاعروں میں متعدد بار مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا۔ لاہور میں کسی جگہ مشاعرہ ہوتا جہاں وہ مدعو ہوتے تو فون کر کے شرکت کی دعوت ضرور دیتے۔ کسی جگہ میں چلا جاتا اور کسی جگہ مصروفیت کے باعث نہ جا سکتا لیکن وہ یاد ضرور رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اگلی منزلیں بھی آسان فرمائے۔
جس روز اعتبار ساجد کا انتقال ہوا، اسی روز ایک اور مہربان ڈاکٹر عالم خان بھی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ ڈاکٹر صاحب بہت اعلیٰ پائے کے افسانہ نگار اور نقاد تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ انسان بھی تھے۔ حلقہ ارباب ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاسوں اور لاہور پریس کلب کی نشستوں میں ان سے بھی بہت کچھ سیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ میرے ساتھ ان کا یہ خصوصی تعلق رہا کہ وہ صحافت میں میرے استاد محترم عزیز مظہر صاحب کے قریبی دوست تھے۔ ڈاکٹر صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی تو عزیز مظہر صاحب کی یادیں ضرور تازہ ہوتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عالم خان صاحب کے درجات بھی بلند فرمائے۔
عزیز مظہر صاحب کی رفاقت کے دنوں ہی میں لطیف پیامی صاحب بھی روزنامہ وقت کے ادارتی صفحے پر ہمارے رفیق کار تھے اور یہ کیسا تکلیف دہ اتفاق ہے کہ ان سطور کو تحریر کرتے ہوئے لطیف پیامی صاحب کے سانحہ ارتحال کی جانکاہ خبر بھی سننے کو ملی ہے۔ لطیف پیامی صاحب ایک سادہ دل انسان اور پختہ کار صحافی تھے۔ وہ لاہور پریس کلب کی طرف سے پلاٹ کے امیدوار بھی تھے لیکن پلاٹ ملنے سے پہلے ہی رخصت ہو گئے۔ امید ہے کہ پریس کلب کی قیادت ان کا یہ حق ان کے بچوں کو دلائے گی۔ اللہ تعالیٰ پیامی صاحب کو بھی اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔
اتنے زیادہ قریبی لوگوں کے اتنی جلدی جلدی چلے جانے سے دل بہت افسردہ ہے لیکن کیا جائے کہ یہی خدا کی مشیت اور اس دنیا کا نظام ہے۔ بقول شاعر:
موت سے کس کو رست گاری ہے
آج وہ، کل ہماری باری ہے

مزیدخبریں